Search
Close this search box.
جمعه ,10 جولائی ,2026ء

کون بھاگ گیا ؟

سیاسی ہیجان کا سلسلہ تھم نہیں رہا۔ فائنل کال کے آتشیں ہنگامے کے بعد ایک نیا شوشہ چھوڑ دیا گیا ہے۔ یہ شوشہ ہے فائنل کارڈ کا! معلوم ہوتا ہے کہ سیاست کے نام پر تاش کی بازی لگی ہے۔ قوم کو درپیش مسائل کا حل نکالنے کے بجائے مختلف کارڈ کھیلے جا رہے ہیں۔ یہ تاثر بہت تکلیف دہ ہے کہ جن لیڈروں سے قوم کو امیدیں وابستہ ہیں وہ مخلص نہیں بلکہ موقع پرست ثابت ہو رہے ہیں ۔ اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان ہونے کے لیے تاش کے پتوں کی طرح ہیجان انگیز بیانیے کے ذریعے نت نئے دائو پیچ لگائے جا رہے ہیں ۔ڈی چوک پہنچ کر اپنے لیڈر کو جیل سے رہا کروانے والا لشکر یکا یک تحلیل ہو گیا ۔ایک صوبے کا سربراہ سر پر کفن باندھ کر نکلنے کے لیے ہلہ شیری دیتا رہا۔ موصوف نے قبریں کھود کر رکھنے اور واپس لوٹ کر نہ آنے کی صورت جنازے پڑھوانے کی ہدایت بھی دی۔کمال یہ ہے کہ ڈی چوک کے خود ساختہ مورچے سے واپس لوٹ جانے والوں میں موصوف نے ہر اول دستے کا کردار ادا کیا۔ اپنے صوبے کی محفوظ پناہ گاہ میں پہنچ کر حضرت نے یہ حیران کن بیان دیا کہ احتجاج ابھی ختم نہیں ہوا بلکہ جاری ہے۔ اندھے پیروکاروں نے اپنی انگلیاں دانتوں تلے داب لی ہیں کہ ڈی چوک سے تحلیل ہو جانے والا دھرنا آخر کس غیر مرئی قوت کے بل پر ابھی تک جاری ہے۔ اگر دھرنا اور احتجاج اپنے اپنے گھروں میں بیٹھ کر ہی جاری رکھنا تھا تو پھر دارالحکومت اسلام آباد پر چڑھائی کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ اپنے صوبے اور اپنے گھر میں ہومیوپیتھک احتجاج کا شوق بہ آسانی پورا کیا جا سکتا تھا۔ تضادات کا مجموعہ پھیلتا چلا جا رہا ہے۔ قول و فعل کا تضاد چھپانا ممکن نہیں رہا۔ اس دیگ کے چند دانے ہی فریب کاری کو سمجھنے کے لیے کافی ہیں۔ دعویٰ کیا گیا کہ ڈی چوک پر دھرنا جاری رکھا جائے گا ۔عمل اس کے برعکس ہوا۔ حضرت گنڈاپور صاحب کے بقول دھرنا ہر جگہ جاری ہے ماسوائے ڈی چوک کے۔ تحریک انصاف کے لیے انتہائی واجب الاحترام ہستی سابق خاتون اول ،جنہیں بانی چیئرمین کی زوجہ سوئم ہونے کا شرف بھی حاصل ہے، نے عقیدت مندوں سے عہد لیا تھا کہ ہر قیمت پر ڈی چوک پر دھرنا دیا جائے گا۔ احتجاجی لشکر اس وقت تک ٹلے گا نہیں جب تک کہ محبوب قائد کو اڈیالہ جیل سے رہا نہیں کروا لیتا ۔حضرت گنڈاپور کی موجودگی میں بیعت نما حلف لیا گیا تو کارکنوں نے فلک شگاف لہجے میں الجہاد الجہاد اور لبیک لبیک کے نعرے بلند کیے تھے۔ بانی کی زوجہ محترمہ نے خصوصی تاکید کی تھی کہ بانی چیئرمین کی رہائی کے عوض جانوں کی قربانی دینے سے بھی دریغ نہیں کیا جائے گا۔ اس حوالے سے بھی انصافی لشکر کا طرز عمل دعوئوں کے برعکس نکلا۔ جانیں دینے کے بجائے لشکر کی صفوں میں چھپے مسلح شر پسندوں نے پولیس پر حملے کیے۔ چار اہلکار شہید ہوئے جبکہ 170 سے زائد پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ ڈی پی او اٹک کی پریس کانفرنس کے مطابق لشکر میں 89 غیر ملکی مسلح شر پسند بھی گرفتار ہوئے جن کے قبضے سے آتشیں اسلحہ اور برازیل کے بنے اشک آور گیس کے شیل بھی برامد ہوئے۔ پرامن احتجاج کے بجائے پرتشدد یلغار کی گئی ۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کے برخلاف دارالحکومت میں رکاوٹیں عبور کر کے ڈی چوک کی جانب پیش قدمی کی گئی۔ بامر مجبوری جب قانون نافذ کرنے والے ادارے متحرک ہوئے تو کارکنوں کے قتل عام کا جھوٹا پروپیگنڈا شروع کر دیا گیا۔ ہزاروں ہلاکتوں سے شروع ہونے والا پروپیگنڈا پہلے سینکڑوں کارکنوں کی موت تک پہنچا اور بالآخر چیئرمین بیرسٹر گوہر نے 12 ہلاکتوں پر اکتفا کر لیا۔ مقام حیرت یہ ہے کہ بانی چیئرمین کی ایک ہمشیرہ نے دوبارہ 150 ہلاکتوں کا اعلان فرمایا ہے۔ قول و فعل کے تضاد کا نکتہ عروج یہ ہے کہ ڈی چوک پر جانیں نچھاور کرنے کی بیعت لینے والے حضرت گنڈاپور اور بانی چیئرمین کی محترم زوجہ سب سے پہلے ڈی چوک سے اپنی محفوظ پناہ گاہ کو روانہ ہوئے۔ ان کے مخالفین اس خود حفاظتی عمل کو فرار قرار دے رہے ہیں۔ ڈی چوک سے محفوظ پناہ گاہ تک سفر کے متعلق متضاد اطلاعات اور دعوے سامنے آ رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر یہ افواہ اڑائی گئی کہ بانی چیئرمین کی زوجہ کو حکومت نے اغوا کر لیا ہے۔ پھر یہ دعویٰ کیا گیا کہ انہیں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ ان کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی ہے۔ واقفان حال البتہ یہ بیان کرتے رہے کہ بانی چیئرمین کی زوجہ دراصل حضرت گنڈاپور کی گاڑی میں کے پی روانہ ہو چکی تھیں۔چند روز بعد وہ منظر عام پر آئیں اور یہ فرمایا کہ وہ بھاگنے والی خاتون نہیں دراصل انہیں ڈی چوک پر تنہا چھوڑ دیا گیا تھا۔ اس دعوے میں بہت سے سوال چھپے ہیں۔ اگر وہ ڈی چوک پر تنہا تھیں تو وہ ہزاروں یا سینکڑوں لوگ کون تھے جن کی ہلاکت کا دعوی تحریک انصاف کر رہی ہے؟ معرکہ گرم ہونے کے وقت حضرت گنڈا پور صاحب کہاں تھے؟ تحریک انصاف کی مرکزی قیادت ڈی چوک کے بجائے ڈرائنگ رومز میں میٹنگ کیوں کرتی رہ گئی؟ حیرت ہے کہ جو ڈی چوک پر تنہا رہ گئے تھے وہ بخیر و عافیت اپنی پناہ گاہ میں پہنچ گئے ۔ یہ معاملہ بھی ابہام کا شکار ہے کہ بانی چیئرمین نے سنگجانی کے مقام پر دھرنے کی منظوری دی تھی یا نہیں؟ آخر ان کی زوجہ محترمہ ڈی چوک جانے پر کیوں مصر تھیں؟پارٹی کے جذباتی کارکن اس شک کا برملا اظہار کررہے ہیں کہ حضرت گنڈاپور اور بانی کی زوجہ محترمہ آپریشن کلین اپ کی بھنک ملتے ہی ڈی چوک سے چل نکلے جبکہ بیچارے کارکن پولیس کے ہتھے چڑھ کر گرفتار ہوئے۔ چار سرکاری اہلکاروں کی شہادت کی ذمہ داری احتجاجی لشکر کے قائدین کے ذمے ہے۔ 12 افراد کی ہلاکتوں کا معاملہ تحقیق کا تقاضہ کرتا ہے۔ حضرت گنڈاپور اور بانی کی زوجہ محترمہ بہرحال ڈی چوک پر نہ رک سکے۔ وہ روانہ ہوئے یا فرار ہوئے یا کسی ساز باز کے نتیجے میں محفوظ پناہ گاہ تک پہنچے؟ بہر صورت تحریک انصاف کی یہ یلغار ناکام رہی ۔ کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مصداق تحریک انصاف کے لیڈر حسب توفیق ایک دوسرے پر الزامات عائد کر رہے ہیں ۔فائنل کال سے فائنل کارڈ تک تحریک انصاف کا ہر اقدام ملک کو انتشار کی دلدل میں دھکیل رہا ہے۔ تحریک انصاف اس سوال کا جواب ضرور کھوجے کہ 26 نومبر کو ڈی چوک سے کون کون بھاگا تھا؟ کیوں بھاگا تھا؟ آور اگر بھاگنا ہی تھا تو پھر کارکنوں کو بے یارو مددگار کیوں چھوڑ دیا گیا؟

یہ بھی پڑھیں