Search
Close this search box.
جمعه ,10 جولائی ,2026ء

کڑے احتساب کی روایت اور انتشاری گروہ کی تلملاہٹ

ہر معاملے میں دفاعی اداروں پر تبصرہ کرنے والے عناصر کی زبانوں پر مہر سی لگ گئی ہے۔ ایک تھری سٹار رینک افسر کا کورٹ مارشل جاری ہے۔ افواج پاکستان کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر نے حسب معمول اس کورٹ مارشل کی تفصیلات میڈیا کو جاری کر دی ہیں۔ یہ خبر ان عناصر کے لیے منہ توڑ جواب ہے جو سوشل میڈیا سمیت مختلف فورمز پر یہ پروپیگنڈاکرتےرہتے ہیں کہ اعلی فوجی افسران کا کبھی احتساب نہیں ہو سکتا۔ یہ زہر عوام کے ذہنوں میں منتقل کیا جاتا ہے کہ دفاعی اداروں اور خفیہ ایجنسیوں کے سربراہ قانون سے ماورا اقدامات کرنےکےباوجوداحتساب کے شکنجے میں نہیں آتے۔ مذکورہ کورٹ مارشل متعصب ناقدین کے جھوٹے پروپیگنڈے کاایسا عملی جواب ہےجسے جھوٹے پروپیگنڈے سے جھٹلانا ممکن نہیں۔ایک انگریزی محاورے کا مفہوم ہے کہ عملی اقدامات زبانی دعووں سے زیادہ بلند آہنگ ہوتے ہیں۔ حالیہ کورٹ مارشل کوئی انوکھا واقعہ نہیں۔ فوج میں رائج کڑے احتساب کی روایت کو سمجھنے کے لیے ماضی کی متعدد مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں۔ اگر اعتراض کرنے والے نیک نیتی سے کوئی معاملہ پرکھنا چاہیں تو یہ کوئی غلط بات نہیں تاہم اعتراض کرنے والوں کا واحد مقصد اگرافواج پاکستان کی شہرت کو داغدار کرنا ہو تو پھر نہ کوئی مثال کارآمد ہوگی اورنہ ہی کوئی عقلی دلیل موثرثابت ہوگی۔ مسلح افواج کے خلاف جاری زہریلی پروپیگنڈا مہمات کے پیچھے خبث باطن رکھنے والے عناصر کی بدنیتی کار فرما ہے۔ دلیل اور عقلی نظائر فوج دشمن سوچ کے حامل گروہوں کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتے۔ ان عناصر کی سرکوبی کا سب سے موثر طریقہ مروجہ قوانین کے سخت نفاذ میں ہی پنہاں ہے۔ افواج پاکستان کے خلاف زہر اگلنے والے گروہوں کی حقیقت اورمذموم مقاصد کا فہم بہت ضروری ہے۔ اس پس منظر کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے جس کی بنیاد پر غیرمعمولی انداز میں دفاعی اداروں کو منظم انداز میں ہدف بنایاجا رہا ہے۔ پاکستان کو اندرونی و بیرونی محازوں پر درپیش چیلنجز کا ادراک کیے بغیر فوج دشمن گھناونے پروپیگنڈے کے مقاصد سمجھ میں نہیں آ سکتے۔ پاکستان میں دہشت گردی کا عفریت ایک مرتبہ پھر پوری قوت سے سر اٹھا رہا ہے۔ بلوچستان اور خیبر پختون خوا میں انتہائی مربوط دہشت گرد حملے اس امر کا ناقابل تردید ثبوت ہیں کہ خارجی گروہوں کے فتنہ گر مکمل تربیت یافتہ ہیں۔ ان کی رسائی جدید ترین ہتھیاروں تک ہے۔ یہ امر بھی پایہ ثبوت تک پہنچ چکا ہےکہ پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے وسیع نیٹ ورک کی مالی معاونت بیرونی قوتیں کر رہی ہیں۔ ازلی دشمن بھارت کے زہریلے عزائم کوئی عقل کا اندھا ہی جھٹلا سکتا ہے۔ بھارت کے ریاستی اداروں کے سیاہ کرتوتوں کا جیتا جاگتا ثبوت کلبھوشن یادو کی صورت میں پاکستان کی تحویل میں ہے۔ ان زہریلے مقاصد کی تکمیل میں مصروف فتنہ خوارج کے سنپولیے سوشل میڈیا پر پاک فوج کےخلاف زہر اگل رہے ہیں۔ ان فتنہ گروں کو بھارت کےجعلی سوشل میڈیا کے اکائونٹس اور فیک نیوز نیٹ ورک معاونت فراہم کر رہے ہیں۔ پاکستان کے پہلو میں جعلی پروپیگنڈے کا خنجر پیوست کرنے والا دوسرا گروہ نام نہاد قوم پرستوں کا ہے۔ یہ وہ گروہ ہے جس نے نہ تو کبھی اپنی مادر وطن سے وفا کی اور نہ ہی کبھی اپنے قوم قبیلے کو کوئی فائدہ پہنچایا۔ انسانی حقوق کی گردان کر کے بھارت سمیت ہر پاکستان دشمن بیرونی قوت سے مناسب دام ملنے پر یہ وطن فروش دلال نہایت بے شرمی سے ملک کی سالمیت پر وار کر رہے ہیں۔ ہر سانس کے ساتھ افواج پاکستان کے خلاف جھوٹے الزامات لگانا اس گروہ کا شیوہ ہے۔ اپنی قوم کے خلاف ریاستی جبر کا واویلا مچانے والے یہ نام نہاد قوم پرست اس سوال کا کوئی جواب نہیں دے پاتے کہ فوج اور سول قانون نافذ کرنے والے اداروں کی شہادتوں کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا وجہ کہ لاپتا افراد کی فہرست میں شامل مظلوم اچانک خودکش بمبار بن کر بے گناہوں کی جان کیسےلےلیتاہے؟ سیلاب، زلزلہ، حادثہ یا کوئی بھی آفت نازل ہو تو افواج پاکستان اور دیگر ریاستی ادارے عوام کی مدد کے لیے کردار ادا کرتے ہیں۔
آزمائش کی گھڑی میں کوئی نام نہاد قوم پرست اور بھارت کے راتب خور سامنے نہیں آتے۔ ان وطن فروش قوم پرستوں کو صرف پاکستان کے خلاف دشنام طرازی کی وجہ سے بھارت سمیت عالمی اسلام دشمن قوتوں سے بہت پذیرائی ملتی ہے۔ جن عالمی اداروں نے غزہ، شام اور مقبوضہ کشمیر کے مظلوموں کی فریاد پر کبھی کان نہیں دھرا وہ ہمہ وقت پاکستان دشمن وطن فروشوں کے حق میں واویلا مچاتےدکھائی دیتے ہیں۔ فوج کے خلاف آہ و بکاکرنےوالا نیا گروہ ان نونہالان انقلاب پر مشتمل ہے کہ جن کی لگامیں اس وقت ان مکار فتنہ گروں کے ہاتھ میں ہیں جنہوں نے سیاست کا نقاب پہن رکھا ہے۔ پاکستان میں یہ امریکہ مخالف اور عالم اسلام کے داعی بن جاتے ہیں جبکہ بیرون ملک مقیم ان کے مفرور گماشتے امریکہ اور برطانیہ کی خاک چھانتے پھر رہے ہیں۔ کبھی ان کے حق میں اسرائیل سے آواز اٹھتی ہے تو کبھی اقوام متحدہ کی امریکہ نواز ذیلی تنظیم کوئی شوشہ چھوڑ دیتی ہے۔ جعلی انقلاب کبھی اسلامی ٹچ دیتا ہے تو کبھی روحانی لبادہ اوڑھ لیتا ہے۔ مقام حیرت ہے کہ سوشل میڈیا پر یہ تینوں گروہ افواج پاکستان کے خلاف ایک ہی زبان بول رہے ہیں۔ ان کے مقاصد مشترک ہیں۔ حالیہ کورٹ مارشل پر انقلاب کی تلاش میں سرگرداں گمراہ گروہ بہت تلملا رہا ہے۔ اس گروہ کے کرتوتوں میں نو مئی اور 26 نومبر جیسے منظم انتشاری جرائم شامل ہیں۔ کورٹ مارشل میں سنجیدہ پیش رفت اس امر کا اشارہ ہے کہ آئینی اداروں کو غیر آئینی امور میں الجھانے والے عناصر کے ساتھ بھی کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں