Search
Close this search box.
جمعه ,10 جولائی ,2026ء

شام میں حالات مزید ابتر ہوں گے؟

بشارالاسد کاتختہ باغیوں نے الٹ دیاہے۔ وہ دمشق سے فرار ہوکر روس میں پناہ گزین ہوگئے ہیں، جن باغیوں نے ان کاتختہ الٹا ہے، وہ آہستہ آہستہ پورے ملک میں کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ شام میں جس طرح حکومت کا تختہ الٹا گیاہے یہ ایک دن کی کہانی نہیں ہے۔ عوام کا ایک مخصوص طبقہ اسد حکومت کے خلاف فرقہ پرستی کی بنیاد پر شام کے عوام کو اپنا ہم خیال بنارہاتھا۔ جن باغیوں نے بشارالاسد کی حکومت کا تختہ الٹا ہے ان کا تعلق اس گروپ سے ہے جو علوی خاندان کے سخت خلاف تھے لیکن بشارالاسد کے والد حافظ الاسد نے آہنی ہاتھوں سے شام کے سیاسی ومعاشی معاملات چلارہے تھے۔ ان کے دور حکومت میں عوام کی مجموعی معاشی حالات بہترتھے لیکن ان کے مخالفین کو بولنے کی آزادی نہیں تھی۔ تاہم حافظ الاسد کئی سالوں تک حکومت کرتے رہے، اپنے تئیں عوام کو معاشی حالات کو بہتر بنانے کے علاوہ پڑوسی عرب ممالک سےاچھے روابط قائم کرنے کی کوشش کی۔ ایران کے ساتھ حافظ الاسد کے اچھے تعلقات تھے۔ اس سیاسی عمل کو ان کے بیٹے نےبھی جاری رکھا لیکن شام کے عوام علوی خاندان کے اقتدار سے تنگ آچکے تھے۔ تحریر وتقریر کی آزادی ناپید تھی لیکن اس کے باوجود علوی خاندان کئی دہائیوں تک حکومت کرتارہا۔ ہرچند کہ اس دوران معاشی وسماجی حالات اتنےخراب نہیں تھے کہ ان کی حکومت کا تختہ الٹ دیاجائے۔ نیز اسد خاندان کا سیاسی جھکائو روس کی جانب تھاجبکہ روس کے اڈے بھی وہاں قائم تھے تاکہ علوی خاندان کو سپورٹ مل سکے تاہم ایک بڑی وجہ جس کی وجہ سے اسد خاندان کا دھڑن تختہ ہوا، وہ ان کی اندرونی پالیسیاں تھیں۔ عوام کوحکومت کی کارکردگی پرتنقید کرنے کا حق سلب کیاجاچکاتھا، نیز اسد حکومت کی خارجہ پالیسی کا محور روس اور ایران تھے جس کی بنا پر وہ کئی سالوں تک حکومت کرتے رہے لیکن معاشی محاذ پر حکومت کی کارکردگی نامناسب تھی۔ اس کے علاوہ روس پر غیر ضروری اعتماد کی وجہ سے شام کے بعض پڑوسی ملک ناراض تھے بلکہ پس پردہ ان ہی نے باہم ملکر ان کی حکومت کا دھڑن تختہ کیا لیکن شام میں اس اچانک تبدیلی کے ضمن میں ایک بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ روس کی انٹیلی جنس ایجنسیاں کیا کام کررہی تھیں؟ کیا انہیں اس بات کاعلم نہیں تھا کہ کچھ دنوں سے دمشق میں عوام حکومت کی پالیسیوں کے خلاف برملا تبصرہ اور تنقید کررہے تھے۔ نیز معاشی طور پر شام کی حکومت عوام کی سلامتی اور بہتری کیلئے وہ کام انجام نہیں دے سکی جو عوام کومطمئن کرسکے۔
بشارالاسد کا جھکائو ایران کی طرف کچھ زیادہ ہی تھاحالانکہ انہیں غالباً معلوم تھا کہ عالمی طاقتیں اور اب بعض عرب ممالک شام کی خارجہ پالیسی کو پسند نہیں کررہے تھے۔ روس اور شام کے تعلقات بھی اس زمرے میں نہیں آتے ہیں لیکن اب جبکہ بشارالاسد کی حکومت ختم ہوگئی ہے اور انہوں نے ماسکو میں پناہ لے لی ہے۔ شام میں بہت جلد پرسکون سیاسی ماحول کا قیام ممکن نظرنہیں آرہاہے۔ لیکن یہ بات طے شدہ ہے کہ اب شام کے علوی خاندان کا آئندہ کی حکومتوں میں کوئی عمل دخل نہیں ہوگا۔ مزید براں یہ سوچنا کہ بہت جلد شام میں امن قائم ہوجائے گا ممکن نہیں ہے یقینا شام میں عوام کی ایک بڑی تعداد نے اس تبدیلی کا خیرمقدم کیاہے لیکن علوی خاندان جس نے طویل عرصے شام میں حکومت کی ہے، وہ آسانی سے اس تبدیلی کو قبول نہیں کرے گا۔ روس بھی اس تبدیلی کے خلاف ہے بلکہ روسی تبصرہ نگاروں کے مطابق بشارالاسد کی حکومت کو تحلیل کرنے میں امریکہ سمیت مغربی ممالک کا ہاتھ ہے۔ شام کے بعض پڑوسی عرب ممالک بھی شامی حکومت کی روس اور ایران کی جانب جھکائو کو پسندیدہ نگاہوں سے نہیں دیکھ رہے ہیں۔ ایک اوروجہ جس نے بشارالاسد کی حکومت کو تحلیل کیا گیاہے۔وہ اس کی معاشی پالیسیاں تھیں جن سے عوام کو کوئی خاص قسم کا ریلیف نہیں مل رہاتھا، روس کسی حد تک بشارالاسد کی حکومت کو سنبھالے ہوئے تھا لیکن کب تک؟ چنانچہ عوام کی ناراضگی اور بشارالاسد کی خارجہ پالیسیاں اس کی حکومت کی بربادی کا سبب بنی تھی۔
تاہم اس وقت شام میں سیاسی سکون کا جلد بحال ہونا تقریباً ناممکن ہے۔ جن باغیوں نے بشارالاسد کی حکومت کاتختہ الٹاہے۔ انہیں ابھی تک عوام کی مکمل حمایت حاصل نہیں ہے۔ نیز شامی عوام سیاسی حالات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتاہے۔ تاہم اب علوی خاندان کی حکومت کا سورج ڈوب چکا ہے۔ اب جو نیا سورج شام کے افق پر طلوع ہوگا ، اس کی پالیسیاں اسد حکومت کی پالیسیوں کو مسترد کرتے ہوئے نئی خارجہ پالیسی تشکیل دے گی جس میں امریکہ کے ساتھ تعلقات کو ترجیح دی جائے گی لیکن یہ سب کچھ اس وقت ہوگا جب شام میں سیاسی وسماجی امن قائم ہوسکے گا۔ اس سے قبل کسی قسم کی حتمی پیشگوئی کرنانامناسب بات ہوگی۔ شام کے عوام کو نئی حکومت بنانے میں ایک عرصہ لگے گا۔ اس دوران سیاسی افراتفری شام کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیلے گی۔ دیکھئے آئندہ دنوں میں شام میں کیا صورتحال پیداہوگی۔ ذراسوچیے!

یہ بھی پڑھیں