Search
Close this search box.
جمعه ,10 جولائی ,2026ء

افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کا راج

کابل سے آنے والی خبریں یہی ثابت کر رہی ہیں کہ افغانستان دہشت گردی کا گڑھ بن چکا ہے۔ 11دسمبر کو افغان طالبان کی عبوری حکومت کے اہم رہنما اور وزیر خلیل الرحمن قمر ایک خودکش حملے کا شکار بنے ۔یہ حملہ ا ن کے لئے جان لیوا ثابت ہوا۔خودکش حملہ کئی اعتبار سے تشویش ناک اور چونکا دینے والا تھا۔خلیل الرحمن پر خودکش حملہ وزارت مہاجرین کے دفتر میں ہوا۔ افغان تحریک طالبان کے اہم رہنما اور وزیر پر کارگر حملہ ایک غیر معمولی واقعہ ہے۔یہ سوالات گردش کر رہے ہیں کامیاب ہوا؟یہ امکانات رد کرنا آسان نہیں کہ خلیل الرحمن تنظیم میں جاری اختیارات کی رسہ کشی کے نتیجے میں خودکش حملے کا ہدف بنے۔ اس خودکش حملے نے افغان طالبان کے ان دعوئوں کی قلعی کھول دی ہے کہ افغانستان میں امن بحال ہو چکا ہے اور دہشت گرد تنظیمیں یہاں سے اپنا بوریا بستر گول کر چکی ہیں۔ زمینی حقائق ان دعوئوں کے برعکس ہیں۔ خلیل الرحمن حقانی پر جس انداز میں انتہائی محفوظ سمجھے جانے والے علاقے میں خودکش حملہ کیا گیا اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ دہشت گرد گروہوں کی رسائی کس قدر گہری ہے۔
افغان سرزمین پر دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کے حوالے سے حقائق بے حد تلخ اور تشویش ناک ہیں۔ لگ بھگ تین ہفتے قبل کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)کے انتہائی مطلوب سرغنہ پر گھات لگا کر حملہ کیا گیا تھا۔یہ حملہ کنٹر صوبے میں کیا گیا۔حملے کے نتیجے میں فتنہ الخوارج کا سرغنہ رحیم اللہ عرف عمر شاہد اپنے تین ساتھیوں سمیت ہلاک ہوا۔یہ نکتہ قابل غور ہے کہ خارجی گروہ کے سرغنہ رحیم اللہ کے سر پر 10 ملین کا انعام تھا۔یہ ممکن ہے کہ انعامی رقم کی خاطر کسی گروہ نے خارجی کمانڈر کو نشانہ بنایا ہو۔بعض ذرائع یہ دعویٰ بھی کر رہے ہیں کہ ہلاک ہونے والے چاروں خارجیوں کا تعلق کالعدم ٹی ٹی پی کے باجوڑی گروپ سے تھا ۔ دوسرے متحارب دھڑے نے اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لیے باجوڑی گروپ کو راستے سے ہٹایا۔یہ تاثر اس لئے مضبوط ہو رہا ہے کہ رحیم اللہ اپنے ساتھیوں سمیت کنٹر صوبے میں ایک دعوت میں شرکت کے بعد واپس لوٹتے ہوئے مخالف گروہ کے حملے میں ہلاک ہوا۔ دہشت گرد گروہوں کی آزادانہ سرگرمیاں کئی اعتبار سے افغان عبوری حکومت کے دعوئوں کی نفی کر رہی ہیں ۔ افغانستان کی سرحد سے صوبہ خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں فتنہ خوارج کے دہشت گرد حملوں کے نتیجے میں پاکستان کی فوج ،پیرا ملٹری فورسز ، پولیس اور بے گناہ نہتے شہری اپنی قیمتی جانیں گنوا چکے ہیں۔پاکستان کی جائز اور مبنی برحقیقت تحفظات پر افغان عبوری حکومت نے ہمیشہ منفی رد عمل دیا ہے۔کا لعدم ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کی افغان سرزمین پر موجودگی ایک ناقابل تردید حقیقت ہے۔پاکستان دشمن خارجی گروہوں کو افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں ،تربیتی کیمپ ،جدید ہتھیار اور مالی وسائل فراہم کئے جا رہے ہیں۔ اس سہولت کاری کی بدولت کا لعدم ٹی ٹی پی اور اس کے متعدد ذیلی گروپ تسلسل سے پاکستان میں دہشت گرد حملے کر کے عدم استحکام پھیلا رہے ہیں۔یہ امربھی باعث تشویش ہے کہ خارجی گروہ نام نہاد قوم پرست علیحدگی پسند دہشت گردوں کے ساتھ اشتراک عمل کر کے پاکستان کی سالمیت کو پارہ پارہ کرنا چاہتے ہیں۔طالبان کے زیر اثر افغان عبوری حکومت کی ناک کے نیچے پاکستان دشمن گروہوں کی آزادانہ سرگرمیاں قومی سلامتی کے لیے بہت بڑا خطرہ بن چکی ہیں۔
مقام افسوس ہے کہ افغان طالبان ہمیشہ ان تنظیموں کی افغان سرزمین پر موجودگی کا انکار کرتے رہے ہیں۔زمینی حقائق ان دعووں کے برعکس ہیں۔اگر کا لعدم ٹی ٹی پی افغانستان میں سرگرم عمل نہیں تو پھر باجوڑی گروپ کا انتہائی مطلوب سرغنہ رحیم اللہ اپنے تین ساتھیوں سمیت کنٹر میں کیسے مارا گیا؟اگر افغانستان میں امن و امان قائم ہو چکا ہے تو پھر خلیل الرحمن حقانی جیسے اہم وزیر اور رہنما پر وزارت مہاجرین کے دفتر میں خودکش حملہ کیسے ہوا؟حقیقت یہی ہے کہ بھانت بھانت کے دہشت گرد گروہ افغانستان میں سرگرم عمل ہیں۔ اس حوالے سے افغان طالبان کا طرز عمل درست نہیں۔ پاکستان نے متعدد ذرائع سے اپنے جائز تحفظات افغان حکومت تک پہنچائے ہیں۔ امن کی بحالی اور دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو بھی افغان عبوری حکومت کے منفی رویے کی وجہ سے خاطر خواہ کامیابی نہیں مل سکی۔اقوام متحدہ سمیت متعدد ادارے اور عالمی میڈیا افغانستان میں القاعدہ ،آئی ایس کے پی ، ٹی ٹی پی اور دیگر ذیلی دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کی نشاندہی کر چکا ہے۔خلیل الرحمن حقانی پر حملے کی ذمہ داری بھی آئی ایس کے پی نے قبول کر لی ہے۔ دستیاب اطلاعات کے مطابق رحیم اللہ سمیت کا لعدم ٹی ٹی پی کے لگ بھگ ڈیڑ ھ سو دہشت گرد افغانستان میں مارے جا چکے ہیں۔ناقابل تردید شواہد افغان طالبان کی دہشت گرد گروہوں سے قربت کا اظہار کر رہے ہیں ۔ پاکستان بار بار یہ واضح کر چکا ہے کہ دہشت گردی دونوں ممالک کے لیے ایک مشترکہ خطرہ ہے۔افغان طالبان اس حوالے سے اپنی حکمت عملی کو تبدیل کریں۔اگر سرحد پار دہشت گردی کا سلسلہ جاری رہا تو بہ امر مجبوری پاکستان اپنی سلامتی کے لیے سرحد پار دفاعی اقدامات اٹھانے میں حق بجانب ہوگا۔بہر صورت افغان طالبان کی موجودہ حکمت عملی پورے خطے کے امن کے لیے سنگین خطرات پیدا کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں