Search
Close this search box.
جمعه ,10 جولائی ,2026ء

لارڈ قربان حسین جمہوری نظام کا چہرہ

برطانوی ہائوس آف لارڈز کے تاحیات رکن لارڈ قربان حسین پارلیمنٹ میں لبرل ڈیموکریٹس پارٹی کے رکن کے طور پر بڑا فعال کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کی بنیادی ذمہ داریوں میں ایوان بالا میں قانون سازی کا جائزہ لینا، مباحثوں میں حصہ لینا، اور اہم مسائل جیسے انسانی حقوق خاص طور پر کشمیر کے ساتھ دیگر بین الاقوامی اور قومی معاملات پر توجہ مرکوز کرنا شامل ہیں۔ انہوں نے سیاسی پناہ گزینوں کے لئے خاص طور پر حالیہ ماہ و سال میں انسانی بحرانوں اور انسانی حقوق پر مباحثوں میں اہم کردار ادا کیا ہے۔وہ اسلام کے بارے میں پائے جانے والے منفی رجحان کے خلاف بھی ہمیشہ کھل کر آواز آٹھاتے ہیں انہوں نے غزہ میں انسانی صورتحال اور دنیا بھر میں انسانی حقوق کی حالت زار پر متعدد بار ہاوس آف لارڈز میں گفتگو کی ہے۔
وہ پارلیمنٹ میں آل پارٹی پارلیمانی گروپ (APPG) برائے بنگلہ دیش کے افسر کے طور پر خدمات انجام دیتے ہیں جس کا مقصد برطانیہ اور بنگلہ دیش کے درمیان تفہیم اور تعاون کو فروغ دینا ہے۔ ان کا کام برطانیہ اور بین الاقوامی سطح پر سماجی اور سیاسی چیلنجز کو حل کرنے کے عزم کو ظاہر کرتے ہیں۔
لارڈ قربان حسین جنہیں لارڈ حسین آف لوٹن کے نام سے جانا جاتا ہے وہ 1956 ء میں آزاد کشمیر کے ضلع کوٹلی میں پیدا ہوئے بعد میں وہ برطانیہ منتقل ہوئے ابتدائی طور پر انہوں نے محنت مزدوری کی جبکہ بعد میں سیاست میں سرگرم ہوگئے انہوں نے ابتدا میں لیبر پارٹی کے رکن کے طور پر کام کیا۔ 2003ء میں عراق جنگ میں لیبر پارٹی سے اختلاف کے سبب انہوں نے برطانیہ کی تیسری بڑی پارٹی لبرل ڈیموکریٹس میں شمولیت اختیار کرلی۔ وہ مختلف عہدوں پر فائز رہے، جن میں لوٹن بارو کونسل میں بطور ڈپٹی لیڈر خدمات شامل ہیں۔
لارڈ حسین 2011ء میں ہاس آف لارڈز کے رکن بنے وہ سابق ڈپٹی پرائم منسٹر نیک کلیگ کے دست راست بھی رہے انہیں انسانی حقوق خاص طور پر کشمیر تنازعہ پر اور برطانیہ اور پاکستان کے تعلقات کو فروغ دینے میں ان کی کوششوں کے لیے جانا اور پہچانا جاتا ہے۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں 2020 ء میں پاکستان کا بڑا شہری ایوارڈ ستارہ قائداعظم سے نوازا گیا۔
انہوں نے بین الاقوامی تنظیموں جیسے کہ COMSATS کے ساتھ کام کیا ہے تاکہ برطانیہ اور ترقی پذیر ممالک کے درمیان سائنس اور ٹیکنالوجی کے تعلقات کو مضبوط بنایا جا سکے۔
لارڈ قربان حسین کو ایک اصول پسند اور ہمدرد شخصیت کے طور پر بیان کیا جاتا ہے، جو انصاف اور انسانی فلاح و بہبود کے مقاصد کے لیے مضبوط عزم رکھتے ہیں جو ان کے اخلاقی اصولوں اور اچھی حکمرانی کے لیے وابستگی کو ظاہر کرتی ہے۔
لارڈ قربان حسین کشمیری عوام کے حقوق کی وکالت میں بے حد سرگرم ہیں۔ ان کی یہ جدوجہد ان کی گہری ہمدردی اور حساس عالمی مسائل پر شعور اجاگر کرنے کی وابستگی کو ظاہر کرتی ہے۔لارڈ قربان حسین جہاں مقبوضہ کشمیر کے کشمیریوں کے ساتھ ہونے والی بدترین انسانی حقوق کی پامالیوں پر ہمیشہ پارلیمنٹ کے اندر اور باہر کھل کر آواز اٹھاتے ہیں وہاں پاکستان کی کشمیر پالیسی اور آزاد کشمیر کے لوگوں کے حقوق کے لئے بھی ہمدردانہ طور پر تجاویز دیتے ہیں اور نہ صرف کشمیریوں کے مسائل کے حل کے لئے اپنا کردار ادا کرتے ہیں بلکہ پاکستان کے مفادات کا بھی تحفظ کرتے ہیں لارڈ قربان حسین اورسیزز پاکستانیوں کی بھی کھل کر نمائندگی کرتے ہیں وہ حالیہ ماہ و سال میں پاکستان میں جاری سیاسی، معاشی، داخلی اور خارجی عدم استحکام کے بارے میں اتنے ہی متفکر اور مضطرب ہیں جتنا عام پاکستانی ہے کاش پاکستان کے ارباب اختیار کو حقیقت حال کا ادارک ہو کہ اوورسیز پاکستانی کس طرح پاکستان اس کے اداروں اور کنٹرولڈ میڈیا سے عدم اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں جن کا اعتماد بحال کرنا ملک کے لئے منفعت بخش ہے پاکستان کو جہاں لارڈ قربان حسین سمیت اوورسیز پاکستانیوں کو اپنا اثاثہ سمجھنا چاہیے اور ان کا اعتماد بحال کرنا چاہئے بلکہ ملک کے اندر افراتفری کو ختم کرنی چاہیئے لارڈ قربان حسین برطانیہ کے جمہوری نظام کی وجہ سے آج مسلمانوں، پاکستانیوں اور کشمیریوں کی توانا آواز ہیں یہاں ادارے مضبوط ہیں انصاف اور قانون کی بالادستی ہے جس سے سب مستفید ہوتے ہیں یہ جمہوریت، قانون اور انصاف ہی کا حسن ہے کہ ایک عام آدمی بھی ترقی کرسکتا ہے لارڈ قربان حسین پاکستان اور برطانیہ کی دوہری شہریت رکھتے ہیں برطانوی قانون اس کی اجازت دیتا ہے اور ان کی دوہری شہریت ان کی ترقی اور ذمہ داریوں میں کوئی رکاوٹ نہیں۔
لارڈ قربان حسین میرپور انٹرنیشنل ائیرپورٹ کی تعمیر کے لئے برطانوی کشمیری کمیونٹی کی جانب سے فوکل پرسن بھی گزشتہ ماہ نامزد کیے گئے ہیں ان کی سربراہی میں میرپور انٹرنیشنل ائیرپورٹ موومنٹ کے ایک نمایندہ وفد نے پاکستان کے ہائی کمیشنر ڈاکٹر محمد فیصل سے بھی ملاقات کرچکا ہے اس ملاقات میں میرپور ائیرپورٹ کی تعمیر کے لئے 11 ہزار برٹش کشمیریوں کے دستخطوں سے ایک پٹیشن بھی حکومت پاکستان کو دی ہے جس میں میرپور ائیرپورٹ کی تعمیر کا مطالبہ کیا گیا ہے۔یاد رہے کہ میرپور کے لوگوں کا ائیرپورٹ کا مطالبہ جائز ہے یہ حکومت کا کام ہے کہ وہ اسکی منصوبہ بندی کرے کہ یہ کب اور کیسے ممکن ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں