Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

سیاست ہر ایک کا حق ہے

سیاسی استحکام نہ ہو تو ملکی معیشت بھی اپنے پائوں پر کھڑی نہیں ہو سکتی۔ایک دہائی گزر گئی ملک کو ہم عدم استحکام کی طرف بڑھتا دیکھ رہے ہیں۔پی ٹی آئی نے اس سیاسی عدم استحکام کو بڑھانے میں اپنا کردار ادا کیا ہے اور کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ہم محب وطن اور غیر محب وطن کی بحث میں نہیں پڑتے۔تاہم یہ حق ضرور دیجئے کہ ہم سیاس جماعتوں میں اچھے اور بروں کی پہچان کر سکیں۔ایسی جماعتوں اور لیڈروں کے چہروں کو پہچان سکیں جو اس اضطراب اور پھیلی ہوئی بے چینی کا سبب ہیں۔جس صورت حال سے ہم آج گزر رہے ہیں،جن حالات کا ہمیں سامنا ہے۔اس میں قطعی متحمل نہیں ہو سکتے کہ ملک میں عدم استحکام ہو۔سیاست کرنا ہر ایک کا حق ہے۔یہ حق قانون تفویض اور فراہم کرتا ہے۔اظہار رائے پر بھی قانون میں کوئی قدغن نہیں۔جمہورتوں کا مسلمہ بین الاقوامی اصول ہے کہ جہا ں بھی جمہوریت ہے وہاں تحریر اور تقریر کی مکمل آزادی ہو۔جمہوریت کا مطلب ہی اظہار رائے کی آزادی ہوتا ہےمگر اس آزادی کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ آپ بے لگام ہوجائیں۔اظہار رائے کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کریں۔اظہار رائے میں اس قدر آگے بڑھ جائیں کہ اچھے اور برے کی پہچان ہی نہ رہے۔اسی لئے قانون نے اظہار رائےمیں کچھ حدود و قیود متعین کی ہیں آپ کس حد تک آگے جا سکتے ہیں،کن حدود میں رہنا آپ کے لئے ضروری ہے؟ یہ سب آئین میں لکھ دیا گیا ہےلیکن ہمارا چلن ہی کچھ اور ہے۔وتیرہ بن گیا ہے کہ اظہار رائے کی آزادی کا ہر صورت ناجائز فائدہ اٹھانا ہے۔ آزادی کی اس نسبت سے غلط روایات قائم ہو رہی ہیں۔دنیا بھر میں سیاسی جماعتوں کے حوالے سے اچھی روایتیں اور مثالیں بھی موجود ہیں۔جہاں حقیقت میں جمہوریت ہے۔وہاں جمہوری معاشرے اپنے سیاسی رہنمائوں پر ناز اور فخر کرتے ہیں۔اس کے برعکس پاکستان میں مثالی جمہوریت ہے،نہ ہی مثالی کردار کے حامل سیاسی رہنماجس کے باعث ہرطرف انارکی ہےاور ملک انتشار و افراتفری کی طرف بڑھتادکھائی دیتاہے۔گزشتہ دہائی میں جب سے اعلیٰ عدلیہ میں سیاسی کیسوں کی سماعت ہونے لگی ہے،عدلیہ بھی بٹی ہوئی اور دو حصوں میں تقسیم نظر آتی ہے۔سماعت کون سا بنچ یا جج کر رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کو پہلے سے ہی معلوم ہو جاتاہےکہ فیصلہ کیا آئے گا۔زیر سماعت کیس کے فیصلے کے حوالے سے جو رائے قائم کی جاتی ہے۔وہی فیصلہ آتا ہے۔حیرانی ہوتی ہے تجزیہ کار کب سےجج ہوگئے؟ ۔ایک عدلیہ ہی تو ہے جو اپنے فیصلوں سے معاشرے میں سدھار اور نظم و ضبط لاتی ہے،مثبت فیصلے ہی عوام کی امیدوں کو زندہ رکھتے ہیں۔اگر فیصلہ میں جانبداری کا عنصر اور غلبہ ہو تو انصاف کے نظام سے جڑی بار کونسلیں اور دیگر وکلا تنظیمیں سوال تو اٹھائیں گی اور فیصلوں کا پوسٹ مارٹم بھی کریں گی۔پھر ایسے معاشرے کا وہی حشر ہو گا جو پچھلی چند دہائیوں سے ہم دیکھ رہے ہیں۔میرے نزدیک سیاسی معاملات کو عدالتوں تک آنا ہی نہیں چاہیےتاکہ سوال نہ اٹھیں اور لوگ فیصلوں پر انگلیاں نہ اٹھائیں۔تاہم مجبوری یہ بھی ہے کہ جب سیاسی جماعتوں کے حوالے سے کچھ آئینی معاملات درپیش ہوں تو ان کے حل کے لئے عدالتوں تک جانا ہی پڑتا ہے۔کبھی عدالتوں سے آئے فیصلوں کو مان لیا جاتا ہے۔فیصلے پسند نہ آئیں تو سیاسی جماعتوں کی جانب سے ان پر تنقید کی جاتی ہے،گند بھی اچھالا جاتا ہے۔سیاسی اور معاشی استحکام کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ملک میں اگر سیاسی استحکام اور پالیسیوں میں تسلسل ہو تو سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھتا ہے،معیشت ترقی کرتی ہے لیکن اگر ملک سیاسی انتشار کا شکار ہو جائے تو غیرملکی سرمایہ کار تو دور کی بات،ملکی بزنس مین بھی سرمایہ کاری سے ہاتھ کھینچ لیتے ہیں جس سے صنعتوں کی پیداواری صلاحیت،ایکسپورٹس میں کمی اور بیروزگاری جیسے مسائل میں اضافہ ہوتا ہے۔
ملک کی موجودہ سیاسی صورت حال بے لگام ہوتی جا رہی ہے جس سے کاروباری طبقے کا اعتماد بری طرح متاثر ہے۔اگرچہ موجودہ حکومت نے گزشتہ ایک سال کے دور حکومت میں معیشت کو کافی سنبھالا دیا ہے۔زر مبادلہ کے ذخائر بھی بڑھے ہیں،غیر ملکی تجارت کے حجم میں بھی بہتری دیکھنے میں آرہی ہے۔اس کےباوجودہمیں دیرپا سیاسی اور معاشی استحکام کی ضرورت ہےمگرپی ٹی آئی کی جانب سے مختلف اوقات میں عدم استحکام اور شورش برپا کرنے کی کوششیں جاری رہتی ہیں۔24 نومبر کو ایک ایسی ہی کوشش کی گئی۔ پی ٹی آئی کا جلوس 24 کی بجائے 26 نومبر کو ڈی چوک پہنچا لیکن اس سے پہلے کہ کوئی ہنگامہ آرائی یا دھرناہوتا،ڈی چوک پر موجود رینجرز اور پولیس کی نفری نے اسے ٹیئر گیس کی شیلنگ سے منتشر کر دیا۔ڈی چوک والا قصہ تو ختم ہو گیا لیکن پی ٹی آئی کی جانب سے اب سول نافرمانی کی تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے،اسے سنجیدگی سےہی لیاجاناچاہئے۔ کیا اس موقع پر جب ہم ڈیفالٹ سے نکل آئے ہیں،اپنی معیشت کو مزید بہتر کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔کیا سول نافرمانی کی کال کسی طرح بھی مناسب ہے۔کوئی محب وطن جماعت کیا ایسا سوچ سکتی ہے کہ ملکی معیشت تباہ ہو اور استحکام خطرے میں پڑ جائے؟ جب ہم اپنی معاشی بقا اور استحکام کی جنگ لڑ رہے ہیں۔روز بروز حالات کو کشیدہ کرنا ملک دشمنی نہیں تو اور کیا ہے؟ جمہوریت ضرور آزادی دیتی ہے، آپ جلسہ کریں،جلوس نکالیں۔جمہوریت میں اظہار رائے کی بھی مکمل آزادی حاصل ہےلیکن آزادی کامطلب ہرگز یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ہم مادر پدر آزاد ہو جائیں۔اگرچہ مغربی معاشروں میں بھی حکومتوں کے خلاف احتجاج ہوتا ہے لیکن احتجاج کا ہرگز یہ طریقہ کار نہیں اپنایا جاتا کہ توڑ پھوڑ کرو اور معیشت کا پہیہ جام کر دو۔مغرب میں اپوزیشن ایک خاص دائرہ کار میں رہ کر اپنا احتجاج ریکارڈ کراتی ہے اس کے برعکس پاکستان میں جب تک امن و امان کا مسئلہ پیدا نہ کیا جائے احتجاج کرنے والوں کو سکون نہیں ملتا۔ہم یہی کہیں گے تمام سیاسی جماعتوں کو مل بیٹھنے کی ضرورت ہے۔ایک ساتھ بیٹھ کر باہمی مذاکرات ہونے چاہئیں۔ملک میں سیاست کو ہرگز تماشا نہ بنایا جائے۔سیاست عبادت سمجھ کر کی جائے۔پتہ نہیں،پی ٹی آئی کی لیڈرشپ کو ان باتوں کی سمجھ کب آئے گی؟

یہ بھی پڑھیں