Search
Close this search box.
جمعه ,10 جولائی ,2026ء

حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات ؟

آج کل عوا م کے مختلف طبقات کے درمیان یہ بات گردش کررہی ہے کہ پاکستان میں امن کی خاطر پی ٹی آئی اور حکومت وقت کے درمیان بات چیت ہونی چاہیے‘ ہرچند کہ ان دونوں پارٹیوں کی جانب سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آرہی ہے وہ ملک میں ترقی کی خاطرمذاکرات کرناچاہتے ہیں۔لیکن سوال یہ ہے کہ پہل کون کرے گا؟ نیز مذاکرات کرنے کے سلسلے میں کون سے نکات شامل ہوں گے۔ تاہم ابھی تک عوام کو یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان مجوزہ مذاکرات کا ایجنڈ کیا ہوگا۔؟ محض سیاسی امن کی خاطر ایسا کرنا سمجھ میں نہ آنے والی بات ہے۔ دراصل مذاکرات کا بنیادی مقصد جمہوریت کی بقا کے ساتھ ساتھ معیشت کی بھرپور تعمیر اور اس کے ذریعے عوام کوریلیف ملنا فی الحال یہ دونوں چیزیں نظرنہیں آرہی ہیں۔ عوام کی اکثریت مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ہوئی ہے۔ یہ دوسری بات ہے کہ سردی کی وجہ سے عوام کی توجہ اس سے فی الوقت ہٹ گئی ہے۔ لیکن جب سردی کا زور ٹوٹے گا تو عوام ایک بار مہنگائی کانعرہ لگاتے ہوئے حکومت سے پرزور اپیل کریں گے کہ مہنگائی کو کم کرنے اور عوام کی اکثریت کو ریلیف دینے کے سلسلے میں ایسے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے کہ اشیائے خوردونوش ایک عام آدمی کی دسترس تک پہنچ سکے۔ تاہم اگر حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کے ذریعے امن کے قیام کے امکانات پیدا ہوجاتے ہیں تو اس کا براہ راست فائدہ عوام کو ہوگا جو ملک میں مہنگائی کے تلے دبے ہوئے ہیں‘ بلکہ حکومت کے تمام تر وعدوں کے باوجود مہنگائی کم نہیں ہوئی ہے۔ مذاکرات کے سلسلے میں سماجی اور سیاسی تنائو میں کمی واقع ہوگی۔چنانچہ حکومت وقت کو چاہیے کہ وہ اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کو کم کرنے کے سلسلے میں واضح اقدامات اٹھائے اور منافع خوروں کے خلاف سخت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ اس طرح حکومت پر تنقید بھی کم ہوسکتی ہے اور ملک کی ترقی کا گراف آگے کی طرف بڑھ سکتاہے۔ دراصل اس وقت مہنگائی کی اصل وجہ ’’ مڈل مین‘‘ جوہر قسم کی اشیا خرید کردکانداروں کو مہنگے داموں فروخت کرتاہے ۔ چنانچہ دکاندار اپنا نقصان پورا کرنے کے سلسلے میں اشیائے خوردونوش مہنگے داموں فروخت کرتاہے جس کا منفی اثر عوام پر پڑتاہے جو حالات کے جبر کے تحت مہنگی اشیا خریدنے پرمجبور ہوجاتے ہیں۔ ایک زمانہ تھا جب مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے سلسلے میں باقاعدہ ایک محکمہ کام کرتاتھا یہ محکمہ جناب بھٹو مرحوم نے قائم کیاتھا۔ اس محکمہ کی کارکردگی شروع میں بہت اچھی رہی تھی۔ لیکن بعد میں بھٹو صاحب کے جانے کے بعد منافع خور متحرک ہوگئے اور من مانے طریقے سے اشیائے خوردونوش فروخت کررہے ہیں۔دراصل موجودہ حکومت کا یہ فرض ہے کہ وہ اشیائے خوردونوش زیادہ قیمتوں فروخت کرنے کے سلسلے میں ان کا احتساب کرے جیسا کہ ماضی میں بھٹو صاحب کے دور میں ہوتاتھا۔ اس لئے اب بھی حکومت کی جانب سے ایسے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے جس کے تحت مہنگائی کو کنٹرول کیاجاناچاہیے۔ تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔ مہنگائی کو کنٹرول کرنا اور عوام کو ریلیف دینا حکومت وقت کافرض ہے۔ اگر حکومت منافع خوروں کی تادیب کرتی ہے۔ تو مہنگائی کم ہوسکتی ہے اور ایک متوسط اور غریب طبقہ ان حالات کے باوجود اپنی زندگی بسر کرسکتا ہے۔چنانچہ سیاسی استحکام کے ذریعے سماجی حالات بہتر ہوسکتے ہیں۔ منافع خوروں کی حوصلہ شکنی بھی ہوسکتی ہے جو کہ اپنی جگہ بہت ضروری ہے۔ اس لئے جبکہ زرعی پیداوار میں مناسب اضافہ ہوا ہے‘ اس صورت میں مہنگی اشیا فروخت کرنا ایک غیر اخلاقی فعل ہے۔ اس لئے حکومت کو چاہیے کہ وہ پرائس کنٹرول کرنے کے سلسلے میں واضح اقدامات اٹھائے تاکہ ایک غریب خاندان بھی باعزت زندگی بسر کرسکے۔ذراسوچیئے!

یہ بھی پڑھیں