Search
Close this search box.
جمعه ,10 جولائی ,2026ء

جھوٹے بیانیے سے مذاکرات کی میز تک لڑکھڑاتا انقلاب

وزیراعلیٰ کے پی آتشی بیانات کے گولے داغے جا رہے ہیں ۔ناکام لانگ مارچ اور احتجاجوں کی سیریز مکمل کرنے کے بع اب انہیں د کچھ توجہ صوبے کے معاملات پہ بھی دینے کی ضرورت ہے۔ موصوف نے اعلان فرمایا ہے کہ آئندہ احتجاجی مارچ بندوقوں کے ساتھ ہوگا۔انہوں نے نون لیگی قیادت کو بھی للکارا ہے کہ پولیس کے بجائے اپنے کارکنوں کے ساتھ تحریک انصاف کے احتجاجی لشکر کا مقابلہ کرکے دکھائیں۔ گنڈاپور نے کھلم کھلا مسلح مبارزت کی دعوت دے کر پرامن احتجاج کے غبارے سے خود ہی ہوا نکال دی ہے۔ نام نہاد پر امن احتجاج کے نتیجے میں قانون نافذ کرنے والے چار اہلکار شہید اور 170سے زائد زخمی ہوئے ۔ ان اعداد و شمار سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ جب علی الاعلان بندوقیں تھام کر احتجاج ہوگا تو تشدد اور خون ریزی کا امکان کتنا بڑھ جائے گا ۔ وزیر اعلیٰ کے پی مسلسل مرکز اور صوبے کے درمیان تصادم کا ماحول بنا رہے ہیں ۔ان کے غیر ذمہ دارانہ بیانات کی وجہ سے پنجابی پشتون لسانی تنائو کی آگ بھی بھڑک سکتی ہے۔ 26 نومبر کو سیاسی کارکنوں کی آڑ میں اسلام آباد پر مسلح افراد کی یلغار کے الزامات تا حال تحقیق طلب ہیں ۔ کارکنوں کو اشتعال دلا کر ڈی چوک کی راہ دکھا کر تصادم کا ماحول بنا نے والے وزیراعلیٰ اور سابق وزیر اعظم کی زوجہ محترمہ تو محفوظ پناہ گاہ کی جانب چل دیئے تھے ۔ میدان سے غائب ہونے کے فن میں گنڈاپور خاص مہارت رکھتے ہیں ۔ناکام احتجاج کی جھینپ مٹانے کے لیے تحریک انصاف اپنے کارکنوں کی ہلاکت کا پروپیگنڈہ کئے جا رہی ہے ۔پہلے ہزاروں احتجاجیوں کی موت کا ڈھنڈورا پیٹا گیا ۔اتنا بڑا جھوٹ چند گھنٹوں میں ہی بے نقاب ہو گیا! نہ مرنے والوں کے نام بتائے گئے ۔نہ ان کے پتے سامنے آئے اور نہ ہی تحریک انصاف کوئی لواحقین پیش کر سکی ۔ کچھ گھنٹوں بعد سینکڑوں ہلاکتوں کا دعویٰ کیا گیا ۔
سوشل میڈیا پر غزہ کی ویڈیوز کو جعل سازی کے ذریعے ڈی چوک کا سانحہ بنا کر پیش کیا گیا ۔ایک فائیو سٹار وکیل جو چند ماہ پہلے تک پی پی پی کی صف اول میں پائے جاتے تھے،ایک ٹی وی شو میں آئے اور لبوں پر معنی خیز تبسم کے ساتھ 278کارکنوں کی موت کا دعویٰ کر دیا۔ یہ دعویٰ بھی سفید جھوٹ ثابت ہوا ۔ یہ جھوٹے اعداد و شمار پیش کرنے والے صاحب خیر سے گورنر پنجاب کے عہدے پر بھی فائز رہ چکے ہیں ۔ایک تو اعداد و شمار غلط دوسرا کارکنوں کی ہلاکت کا الزام ریاست پر عائد کر کے عوام میں نفرت پھیلانے کی سوچی سمجھی کوشش اور اس سے بھی بڑھ کر چہرے پر افسوس کے بجائے تبسم ۔ کیا اپنے کارکنوں کی موت پر کسی رہنما کو ہنسنا زیب دیتا ہے؟ موصوف کا طرز بیان اور چہرے پر پھیلی ہوئی ہنسی اس بات کا واضح ثبوت تھی کہ کارکنوں کی ہلاکت کا بیانیہ دراصل وہ سفید جھوٹ ہے جو تحریک انصاف کی سوشل میڈیائی فیکٹری میں گھڑا گیا تھا۔ اس جعلسازی کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ تحریک انصاف کے رہنمائوں نے ہزاروں اور سینکڑوں اموات کا ڈھنڈورا پیٹنے کے بعد 12 افراد کی ہلاکت کا باضابطہ اعلان کیا ۔یہ دعویٰ بھی تاحال ثابت نہیں ہو سکا کہ ان بارہ افراد کی موت کا سبب کیا ہے؟ ڈی پی او اٹک اور اسلام آباد پولیس کے مطابق مظاہرین پر گولیاں نہیں چلائی گئیں ۔مظاہرین میں 89 ایسے افراد گرفتار کئے گئے تھے جن کے کوائف بطور شہری نادرا کے ریکارڈ میں نہیں۔ ایسے مشکوک افراد سیاسی کارکن نہیں بلکہ شر پسند ہی ہو سکتے ہیں ۔
تحریک انصاف کی قیادت کارکنوں کی موت پر سیاست کر رہی ہے ۔یہ سوال جواب طلب ہے کہ عدلیہ کے حکم کے باوجود کارکنوں کو ڈی چوک پر کیوں لایا گیا ؟ اگر مظاہرین پر امن تھے تو پھر رکاوٹیں عبور کر کے اور پولیس سے مزاحمت کر کے ڈی چوک تک کیسے پہنچے؟ آخر پی ٹی آئی کی قیادت کارکنوں کی ہلاکت کے غلط اعداد و شمار پیش کرنے پر قوم سے معذرت کیوں نہیں کر رہی ۔یہ امر شک سے بالا ہے کہ تحریک انصاف سیاسی سرگرمیوں کے بجائے تشدد اور نفرت انگیز بیانیے کی آگ سے داخلی استحکام کو برباد کرنے پر تلی ہے ۔جماعت کے بیرون ملک مقیم حمایتی مسلسل زہر آلود پروپیگنڈے میں مصروف ہیں ۔ متضاد دعوئوں اور بیانات کے ذریعے سیاسی بے یقینی پھیلائی جا رہی ہے۔ سول نافرمانی کی تحریک کا اعلان اسی سلسلے کی کڑی ہے ۔اس اعلان کو عوام میں پذیرائی نہیں ملی ۔ فائنل کال کی ناکامی کے بعد فائنل کارڈ کا شوشہ بھی کارگر نہیں ہو سکا ۔انصافی لشکر کا ایک حصہ مذاکرات کا راگ الاپنے لگا ہے۔ یہ سمجھنا مشکل ہے کہ تحریک انصاف مذاکرات کرنا چاہتی ہے یا مذاکرات سے بھاگ رہی ہے ؟قومی اسمبلی اسپیکر سے ملاقات بظاہر تو خوش آئند تھی تاہم ملاقات کے بعد حسب معمول مذاکرات سے پہلوتہی کا تاثر دے کر پی ٹی آئی نے اپنی غیر سنجیدگی کا ایک اور ثبوت پیش کر دیا ہے۔
عمر ایوب اور چیئرمین گوہر یہ کہتے سنائی دیئے کے مذاکراتی کمیٹی بن چکی ہے ؛حکومت ہو یا فرشتے ہم سب سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں ۔ابھی یہ مخمصہ ختم نہیں ہوا تھا کہ گنڈاپور نے بندوقیں تھام کراحتجاجی یلغار کا اعلان کر دیا ہے۔ ان کا دھمکی آ میز لہجہ ہرگز بھی سیاسی نہیں بلکہ مخاصمانہ ہے ۔تحریک انصاف کی سیاسی غیرسنجیدگی ،رنگ برنگے بیانات اور جھوٹے بیانیے پر حد سے زیادہ انحصار کی وجہ سے پارٹی کی سیاسی ساکھ ہر گزرتے دن کے ساتھ خراب ہوتی جا رہی ہے ۔سوشل میڈیا پر جھوٹ گھڑ کر سستی شہرت تو حاصل کی جا سکتی ہے لیکن ملک کو لاحق خطرات اور عوام کے مسائل کا دیر پاحل پیش نہیں کیا جا سکتا ۔بہتر ہوگا کہ انصافی قیادت سنجیدہ طرزعمل اختیار کرتے ہوئے ذمہ دارانہ سیاسی سرگرمیوں پر توجہ مرکوز کرے۔

یہ بھی پڑھیں