Search
Close this search box.
جمعه ,10 جولائی ,2026ء

سقوط ڈھاکہ اور سانحہ آرمی پبلک اسکول

16دسمبر کے دن مشرقی پاکستان ‘ بنگلہ دیش بن گیاتھا‘ہماری اپنی غلطیوں سے ہی ہمارے ازلی دشمن بھارت نے ہماری کمزوریوں سے پورا پورا فائدہ اٹھایا۔ لیکن سانحہ مشرقی پاکستان بھلائے نہیں بھولتا۔ تاہم اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم بحیثیت پاکستانی بنگلہ دیش کا برا چاہتے ہیں‘ ہم بنگلہ دیش کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کیلئے مسلسل دعا گوہیں۔
تاہم جن حالات میں سقوط ڈھاکہ کا سانحہ رونما ہواتھا۔ اس سے متعلق یہ کہنا بالکل بجاہے کہ اس میں اس وقت حکومت کرنے والوں کی غلطیاں نمایاں تھیں۔ اگرشیخ مجیب الرحمن کی سیاسی پارٹی عوامی لیگ کو اقتدار منتقل کردیاجاتاتو اس حقیقت سے انکار نہیں کیاجاسکتا ہے کہ سقوط ڈھاکہ کاالمیہ پیش نہیں آتا۔ لیکن بھٹو اور شیخ مجیب الرحمن دونوں نے اقتدار کی منتقلی کے سلسلے میںدیر کی تھی جس کی وجہ سے شیح مجیب الرحمان اور بھٹو مرحوم کے درمیان مذاکرات کامیاب نہیں ہوسکے جس کے بعد حالات انتہائی خراب ہوگئے۔ سابق مشرقی پاکستان میں خانہ جنگی شروع ہوگئی جس کے بعد مشرقی پاکستان پاکستان سے علیحدہ ہوکر بنگلہ دیش بن گیا۔
اس ضمن میں یہ بات کہی جاتی ہے کہ اگر مجیب الرحمن کو اقتدا رمنتقل کردیاجاتا تو یہ سانحہ پیش نہیں آتا۔ ویسے بھی انتخابی نتائج کی روشنی میں اقتدا ر شیخ مجیب الرحمن کو منتقل کرناچاہیے تھا جن کی سیاسی پارٹی عوامی لیگ بھاری اکثریت سے انتخا ب جیت چکی تھی۔
لیکن اس وقت کے پاکستانی حکمرانوں نے شیخ مجیب الرحمن کو اقتدار منتقل نہیں کیا‘ بلکہ اس کو مجبور کیا کہ وہ بھٹو مرحوم کے ساتھ کسی قسم کا سمجھوتہ کرکے ان کو اقتدارمیں شریک کرلیں لیکن ایسا ممکن نہیں ہوا۔ اور بعد میں خانہ جنگی کی صورت میں بنگلہ دیش معروض وجود میں آگیا۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر آئین اورقانون کی روشنی میں اقتدار شیخ مجیب الرحمن کو منتقل کردیاجاتاتو مشرقی پاکستان پاکستان سے علیحدہ نہیں ہوتا اور نہ ہی شیخ مجیب الرحمان کو اتنی مقبولیت ملتی۔
بہرحال ماضی میں پاکستان پر حکومت کرنے والوں نے جوغلطیاں کی ہیں‘ ان سے سبق لیناچاہیے‘ اور پاکستان کو آئین اور قانون کے مطابق چلانا چاہے ۔ سیاست میں طاقت کے استعمال سے پرہیز کرناچاہیے اور ملک کو آئین اور قانون کی روشنی میں چلانا ہی ‘ اچھی طرز حکمرانی ہے ‘ اس سے پاکستان کی ترقی اور حکومت اور عوام کے درمیان اتحاد فروغ پاتاہے بلکہ مستحکم بھی ہوتاہے۔
اس وقت پاکستان کے حکمراں پاکستان کی معیشت کو ٹھیک کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں جس کے لئے ملک میں پرامن ماحول کا ہونااشد ضروری ہے۔ چنانچہ16دسمبر یعنی سقوط ڈھاکہ کے المیے پرغورکرنے کے بعد ہر باشعور پاکستانی کی یہ خواہش ہے کہ ملک کوہر لحاظ سے آئین اور قانون کی روشنی میں چلاناچاہے ۔ نیز عوام کو درپیش مسائل پر غوروخوض کرتے ہوئے ان کو سنجیدگی اور خلوص نیت سے حل کرنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔ تاکہ عوام ایک مطمئن اور خوشگوار زندگی بسر کرسکیں۔
سقو ط ڈھاکہ کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ہم نے بنگالیوں کے احساسات کا خیال نہیں رکھا‘ حالانکہ پاکستان کے قیام کا مطالبہ بھی بنگال سے اٹھا تھا‘ لیکن قیام پاکستان کے بعد اہل بنگال کے سیاسی ومعاشی حالات کو بہتر بنانے کے سلسلے میں ٹھوس اقدامات نہیں کئے گئے نیز مشرقی اور مغربی پاکستان کے درمیان دوری دور کرنے کے سلسلے میں ٹھوس اقدامات نہیں اٹھائے گئے یعنی مشرقی پاکستان کے عوام کے معاشی مسائل کے حل کی طرف سنجیدگی سے کوشش نہیں کی گئی‘ بلکہ ان کے معاشی وسماجی اور سیاسی مطالبات کو نظرانداز کرتے ہوئے من مانے طریقے سے حکومت چلانے کی کوشش کی گئی‘ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مشرقی پاکستان پاکستان سے علیحدہ ہوکر ایک ملک بنگلہ دیش بن گیا۔
لیکن اب بنگلہ دیش میں حالات بدل رہے ہیں۔ بھارت کی ریشہ دوانیاں اہل بنگال کو سمجھ میں آگئی ہیں اس لئے وہ اپنے معاملات اپنے انداز میں چلارہے ہیں۔ اب بھارت کے بنگلہ دیش پر اثرات سیاسی وسماجی دونوں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ بنگلہ دیش کے عوام اب پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرناچاہتے ہیں۔ ماضی قریب میں بھارت نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان غلط فہمیاں پیداکرکے دومسلمان ملکوں کو ایک دوسرے سے دور کرنے کی کوشش کی تھی۔لیکن جیسا کہ میں نے بالائی سطور میں لکھاہے کہ اب حالات بدل رہے ہیں ‘ بنگلہ دیش اور پاکستان قریب آرہے ہیں۔
دوسری طرف اس ہی تاریخ کو آرمی پبلک اسکول پر پاکستان دشمن عناصر نے حملہ کرکے 132 طلبا اور ان کے اساتذہ کو شہید کردیاتھا ‘ جن عناصر نے یہ ’’ گندا‘‘ کام انجام دیاتھا‘ ہرچند کہ وہ مارے جاچکے ہیں‘ لیکن آرمی پبلک اسکول کا سانحہ ایک ایسا سانحہ ہے جو کسی بھی طرح بھلائے نہ بھلایاجاسکے گا۔ مزید برآں اب بھی پاکستان دشمن طاقتیں ہماری صفوں میں گھس کر غلط فہمیاں پیدا کرکے سیاسی حالات کو ابتر کرنے کی کوشش کررہی ہیں ‘ لیکن باشعور عوام ان کی مذموم حرکتوں کوناکام بنادیں گے‘ یہی آرمی پبلک اسکول کے سانحہ کا پیغام ہے۔ذر ا سوچیئے!

یہ بھی پڑھیں