Search
Close this search box.
جمعه ,10 جولائی ,2026ء

نونہالان انقلاب کا جشن گرینل

پیالی میں نیا طوفان اٹھایا جا رہا ہے۔ اس طوفان کی لہر امریکہ سے اٹھی ہے ۔ نونہالان انقلاب نے جشن منانا شروع کر دیا ہے۔ حسب روایت جشن سوشل میڈیا کے پنڈال میں پورے زور و شور سے جاری ہے۔ کچھ متوالے اس طرح کے ٹویٹ بھی داغ رہے ہیں کہ بس آتے سوموار کو تحریک انصاف کے بانی چئیرمین اڈیالہ جیل سے رہا ہو کر سیدھے زمان پارک اپنی رہائش گاہ میں پہنچ جائیں گے۔ بات دلچسپ بھی ہے، تعجب خیز بھی اور قدرے مضحکہ خیز بھی۔ رہائی کیسے ہو گی ؟ اس سوال کا جواب بہت دلچسپ ہے۔امریکہ سے خبر آئی ہے کہ نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ساوتھ کوریا کے لئے ایک صاحب کو اپنا خصوصی ایلچی نامزد کیا ہے۔ جن کا نام ہے رچرڈ گرینل! اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ اس نامزدگی کا نونہالان انقلاب کے سوشل میڈیائی جشن سے بھلا کیا تعلق بنتا ہے؟ دل تھام کے سنیں کہ تعلق بنتا ہے! گرینیل نامی امریکی شہری نے چند روز قبل تحریک انصاف کے مرشد محترم کی رہائی کا مطالبہ بذریعہ ٹویٹ کیا تھا۔ ٹرمپ نے گرینیل کو ایلچی نامزد کر دیا ۔ انصافی لشکر کے سوشل میڈیائ شارحین نے اس واقعے کی یہ شرح بیان کی ہے کہ امریکہ بہادر اب بانی چیئر مین کی رہائی کروا کر ہی رہے گا۔ اس سے قبل ٹرمپ کی انتخابی جیت کو بھی نونہالان انقلاب نے اپنے مرشد کی رہائی کی کنجی بنا کر پیش کیا تھا۔ تاحال اس کنجی نے کام نہیں کیا۔ بیرون ملک مقیم انصافی بیانیہ ساز بار بار نت نئے شوشے چھوڑ تے رہتے ہیں۔ جس طرح ناقص یا غیر معیاری ادویات کا ری ایکشن مریض کا بیڑہ غرق کر دیتی ہیں؛بالکل اسی طرح جھوٹے بیانئے پی ٹی آئی کی سیاسی ساکھ کا جنازہ نکال رہے ہیں۔ امریکی حمایت سے مرشد کی رہائی کا بیانیہ بنا کر سوشل میڈیا پر فتح کے پھریرے لہرانے والوں نے دراصل حقیقی آزادی اور ” ایبسولوٹلی ناٹ” جیسے جھانسا دینے والے نعروں کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے۔ یہ سوال اب بھوت بن کر انصافی لشکر کا پیچھا کر رہا ہے کہ اگر امریکہ بہادر نے مرشد کی حکومت کا تختہ الٹا تھا تو پھر آج امریکی کانگریس کے اراکین کو تحریک انصاف کی ہمدردی کے مروڑ کیوں اٹھ رہے ہیں؟ مرشد کے حواری برطانیہ اور امریکہ کی خاک کیوں چھانتے پھر رہے ہیں؟ کیا انقلابی جماعتیں غیر ملکی حکومتوں اور تیسرے درجے کے ایلچیوں کی مدد سے سیاسی بحرانوں پر قابو پاتی ہیں؟ یہ تکلیف دہ حقیقت ہے کہ تحریک انصاف تسلسل سے وہ اقدامات اٹھا رہی ہے جو پاکستان میں سیاسی بحران کو گہرا کر کے عدم استحکام پیدا کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔ اسلام آباد پر احتجاجی یلغار کے شوق نے سیاسی ابہام اور معاشی غیر یقینی کو پروان چڑھایا ۔ یہ خبر سب کے لئے باعث تشویش ہے کہ ایک روزہ انصافی احتجاج کا ڈھکوسلہ ملک میں ایک سو نوے ارب کا معاشی نقصان کرتا ہے۔ جھوٹی خبروں کے ذریعے سنسنی پھیلانے کے رجحان کی نشاندہی عالمی ادارے بھی کر رہی ہیں۔ گلوبل فیک نیوز نے صراحت کے ساتھ تحریک انصاف کی جانب سے جعلی اور جھوٹی خبروں کی بنیاد پر انتشار پیدا کرنے کی منظم مہم کو بے نقاب کیا ہے۔ اسی نوعیت کی مفصل رپورٹ بیلٹ وے گرڈ نیٹ ورک نامی ادارے نے بھی جاری کی ہے۔ ڈاکٹر الیگزینڈر کالڈویل نے شواہد کی بنیاد پر یہ رائے پیش کی ہے کہ احتجاج کی آڑ میں تحریک انصاف کی مہم جوئی سے جمہوریت ، عوام کی آمدن اور ملکی امن و امان کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ جعلی خبروں اور افواہ سازی کے ذریعے مظاہروں میں تشدد کی آگ کو ہوا دے کر عوام اور ریاست کے درمیان تصادم کی فضا بنائی گئی۔ نہایت منظم انداز میں کارکنوں کی اموات کے غلط اعداد و شمار کا ڈھنڈورا پیٹ کر پاکستان کو بدنام کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ ہر روز ایک نیا جھوٹ بول کر پچھلے جھوٹ سے منہ موڑ لیا جاتا ہے۔ ایک قومی جماعت کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ غیرملکی سرکاری عہدیداروں کو ملکی سیاست میں فریق بنائے۔ کجا یہ کہ سابق صدر مملکت گرینل جیسے تیسرے درجے کے نامزد اہلکار کی ٹویٹ پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر صدقے واری ہو رہے ہیں۔ یہ طرز عمل قومی حمیت کے بھی منافی ہے اور تحریک انصاف کے رجیم چینج بیانئے کے جھوٹ کو بھی بے نقاب کر گیا ہے۔امریکہ کے پاکستان سے تعلقات کسی سیاسی جماعت یا شخصیت سے مشروط نہیں بلکہ ریاستوں کے دو طرفہ مفادات سے منسلک ہیں۔ جو کیچڑ تحریک انصاف نے سوشل میڈیا پر پھیلایا تھا اس میں ملک کا بڑا میڈیا ہاوس بھی پھسل گیا ۔ ایک غیر محتاط ٹویٹ اور خبر میں ٹرمپ کے ایلچی رچرڈ گرینل کے جنسی رجحانات کو اجاگر کیا گیا ۔ جوابی ٹویٹ میں گرینل صاھب نے ایک مرتبہ پھر انصافی مرشد کی رہائی کامطالبہ داغ دیا۔ اس مطالبے پر انصافی لشکر گرینل کے واری صدقے جا رہا ہے۔ کراچی کے غیر معروف دندان ساز جو خیر سے ہمارے سابق صدر مملکت بھے رہ چکے ہیں ؛ وہ گرینل کی قصیدہ گوئی میں آگے آگے ہیں ۔ ان کے پیچھے پیچھے امریکہ میں مقیم ایک فیصل آبادی ڈاکٹر ہیں جو کبھی مرشد کی کابینہ میں مشیر خاص ہوا کرتے تھے۔ ایک میڈیائی ڈاکٹر نما پیرزادہ صاحب بھی گاہے بگاہے اپنے فن کامظاہرہ کر رہے ہیں۔ اس ساری اچھل کود میں لندن میں مقیم ایک کورٹ مارشل شدہ بھگوڑے اور انصافی لشکر کے حمایتی نے یہ ٹویٹ کر دی ہے کہ امریکہ بہادر کی جانب سے پاکستانی میزائل پروگرا م کے حوالے سے عائد کی گئی پابندیوں میں پی ٹی آئی سے وابستہ بعض پاکستانیوں کا ہاتھ ہے۔ معاملہ چونکہ سوشل میڈیا کا ہے لہٰذا تحقیق طلب ہے۔ سادہ لوح انصافی حواری ابھی یہ سوچ رہے ہیں کہ امریکہ اپنا دوست ہے یا دشمن؟

یہ بھی پڑھیں