Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

پی ٹی آئی کا سیاسی مستقبل

عمران خان پی ٹی آئی ہیں۔ان کے بغیر پاکستان تحریک انصاف کا کوئی مستقبل نہیں،یہ بات کئی بار پی ٹی آئی کے سیاسی حریفوں کے علاوہ ان کے حامیوں کی جانب سے بھی کی جاتی رہی ہے۔تاہم پی ٹی آئی اور عمران خان کے سپورٹرز اب بھی یہ کہتے ہیں کہ خان صاحب مقبولیت کی اس بلندی پر ہیں کہ جس کسی کو بھی پارٹی ٹکٹ دیں گے،آئندہ ہونے والے الیکشن میں کامیاب ہو گا۔لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان تحریک انصاف آئندہ انتخابات تک قائم و دائم رہ سکے گی؟ جبکہ عمران خان کا اپنا مستقبل کیا ہو گا؟ نو مئی کو ہونے والے واقعات کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر کریک ڈائون اور گرفتاریاں ہوئیں۔ جس کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے بہت سے رہنمائوں نے پارٹی چھوڑنے کے علاوہ سیاست سے بھی کنارہ کشی کا اعلان کیا۔لیکن جو رہنما پارٹی سے اب بھی وابستہ ہیں،پارٹی کے لئے کوئی فعال کردار ادا نہیں کر پا رہے۔انہوں نے غیر اعلانیہ روپوشی اختیار کر رکھی ہے۔کچھ رہنما تو صفحہ ہستی سے ہی مٹ گئے ہیں کہیں نظر نہیں آتے،نہ ان کا کوئی نام و نشان ہی ملتا ہے۔پی ٹی آئی پر یہ ایک برا وقت ہے۔عمران خان خود ایک سال سے بھی زیادہ عرصہ سے جیل میں ہیں۔انہیں 9 مئی کے مقدمات کا بھی سامنا کرنا ہے جس کے لئے سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل(ر) فیض حمید کی سٹیٹمنٹ ہی کافی ہے جو زیر حراست آنے کے بعد وہ جی ایچ کیو میں تفتیشی حکام کو دے چکے ہیں جس میں واضح طور پر کہا ہے نو مئی کی ساری منصوبہ بندی بانی پی ٹی آئی نے کی۔انہی کی ایما پر کچھ حاضر اور ریٹائرڈ افسروں نے من و عن عمل کیا۔آرمی انویسٹی گیشن ٹیم کے روبرو جنرل فیض حمید کے اس اعترافی بیان کے بعد پی ٹی آئی گم صم ہے۔جیل میں بیٹھے بانی پی ٹی آئی کے بھی ہوش اڑ گئے ہیں۔حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ان کا اے اور بی پروگرام فیل ہونے کے بعد پی ٹی آئی کی سیاست بند گلی میں آگئی ہے۔پی ٹی آئی کے کافی رہنما اگرچہ پارٹی چھوڑ چکے ہیں لیکن عمران خان کو اس ضمن میں کوئی گھبراہٹ نہیں،اب بھی سمجھتے ہیں عوام کی اکثریت ان کے ساتھ ہے۔سمجھتے ہیں وہ ملک کے مقبول ترین لیڈر ہیں۔ان کا خیال ہے اس وقت تک سیاسی طور پر مضبوط ہیں جب تک ان کا ووٹ بینک اورسپورٹ قائم ہے۔اب ایک سوال یہ بھی ذہن میں ابھرتا ہے کہ رہنمائوں سے زبردستی پارٹی چھڑوانے یا تحریک انصاف کے خلاف ہونے والے کریک ڈائون سے پی ٹی آئی سپورٹ کو ختم کیا جا سکتا ہے؟ جواب تو یہی ملے گا ہرگز نہیں۔لیکن نو مئی کے واقعات بانی پی ٹی آئی کے گلے پڑ گئے ہیں۔اگرچہ پی ٹی آئی کے لئے یہ بہت برا وقت ہے۔اسے بدترین صورت حال کا سامنا ہے۔ایک خوف کا عالم ہے،اسی لئے لوگ بول نہیں رہے، چپ سادھے ہوئے ہیں۔اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ایک سینئر تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ چیزیں تھوڑی مختلف ہیں۔کریک ڈائون کی نوعیت بھی مختلف ہے۔سب کو پتہ چل رہا ہے کہ کیا ہو رہا ہے۔ہونے والے موجودہ کریک ڈائئون میں اب پولیس کے ہمراہ اسٹیبلشمنٹ کے لوگ بھی ہوتے ہیں۔جو گھروں پر جا کر سیاسی ورکروں اور رہنمائوں کو پکڑ رہے ہیں۔گرفتاری کے خوف سے کئی رہنما ملک میں ہی کہیں روپوش ہو گئے ہیں۔ کچھ ملک سے باہر چلے گئے ہیں۔تجزیہ کار کے مطابق عدلیہ اگر کسی کو بیل دیتی ہے تو پولیس رہا ہونے والوں کو کسی اور کیس میں دوبارہ پکڑ لیتی ہے۔پی ٹی آئی کے ایسے لیڈر بھی ہیں جو تین تین،چار چار مرتبہ پکڑے جا چکے ہیں۔اس وقت انتظامیہ اور عدلیہ کا مقابلہ چل رہا ہے۔
تحریک انصاف کے ایک سابق رکن نے بی بی سی کو بتایا کہ پارٹی کی صورت حال اس وقت انتہائی کمزور ہے۔شاہ محمود قریشی بھی رہا ہوئے تو پارٹی چھوڑ دیں گے اور بانی پی ٹی آئی سے بھی قطع تعلق کر لیں گے۔نو مئی ان کی جان چھوڑنے والا نہیں۔صاف دکھائی دیتا ہے وہ ان مقدمات میں سزا یاب ہوں گے۔اگرچہ فوجی عدالت سے ملنے والی سزا کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کر سکیں گے۔اسلام آباد ہائی کورٹ سے خلاف فیصلہ آیا تو ان کے پاس سپریم کورٹ میں اپیل کا حق ہو گا۔تاہم ہوائیں جب مختلف سمت میں چل رہی ہوں تو کچھ بھی موافق نہیں رہتا۔ بانی پی ٹی آئی اب خود اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ سزا اور جیل ان کے مقدر میں لکھ دی گئی ہے ایسے میں جب عمران خان ہی پی ٹی آئی ہیں اور جب وہ نہیں ہوں گے تو بہت سے لوگوں کے نزدیک پی ٹی آئی کا شیرازہ بکھرتا ہوا نظر آئے گا۔ایسے بھی امکانات نہیں کہ کوئی غیر ملکی طاقت دبائو ڈالے جس کے نتیجے میں بانی پی ٹی آئی کو رہائی مل جائے۔اگرچہ پی ٹی آئی ایسا تاثر ضرور دے رہی ہے کہ امریکہ کے نئے منتخب صدر ٹرمپ کے بانی کے ساتھ ذاتی نوعیت کے تعلقات ہیں۔جنوری میں جب وہ حلف اٹھائیں گے تو بانی کی رہائی کے لئے ضرور کوئی کردار ادا کریں گے لیکن اب تک کی سچوئشن میں ایسا نظر نہیں آتا۔تعلقات کی نوعیت بھی کچھ ایسی نہیں کہ امریکہ جیسی سپر پاور ایک چھوٹے ملک کے لیڈر کے لئے اپنا کوئی رول متعین کرے۔لہٰذا کہہ سکتے ہیں کہ پی ٹی آئی ٹرمپ والے باب کو بند ہی سمجھے۔پاکستان تحریک انصاف کی دال جوتیوں میں بٹنے لگی ہے۔بظاہر تو ایسا ہی نظر آتا ہے۔یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ تحریک بن کر ابھرنے والی یہ جماعت اب ایسی کیفیت میں ہے کہ آنے والے دنوں یا مہینوں میں یہ کہیں تانگہ پارٹی نہ بن جائے۔کافی رہنما پارٹی چھوڑ چکے ہیں،جو باقی رہ گئے ہیں وہ پارٹی کا مستقبل دیکھ کر اسے چھوڑنے کی تیاری میں ہیں۔پی ٹی آئی نے بڑی کوشش کر لی کہ کسی طرح لوگوں کو سڑکوں پر لے آئیں۔ اس مقصد کے لئے خیبر پختونخوا میں قائم اپنی صوبائی حکومت کا بھی استعمال کیا۔وزیراعلی علی امین گنڈا پور ایک بڑا جلوس ڈی چوک لانے کے لئے صوبے سے نکلے تاہم پنجاب اور سندھ نے ڈی چوک والی بانی کی کال پر کوئی توجہ نہ دی۔جس سے بانی کے کاز کو ناکامی ہوئی اور کاز کے گرد مہیب سائے اور بڑھ گئے۔اب عالم یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی عوامی طاقت کا سارا بھرم ٹوٹ چکا ہے۔ڈی چوک والی کال کو عوامی پذیرائی نہ ملنے سے احتجاج کے غبارے سے ساری ہوا نکل گئی ہے۔کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ بانی کی زندگی میں بشری نہ ہوتیں تو بانی کا یہ حال نہ ہوتا۔جس کا سامنا آج انہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں