Search
Close this search box.
جمعه ,10 جولائی ,2026ء

روپوش مفروروں کی زہریلی حکمت عملی

بالآخر سانحہ نو مئی کے ملزمان کو سزائیں سنا دی گئی ہیں۔ اب یہ شرپسند ملزم نہیں رہے بلکہ قانون کی نظر میں مجرم قرار دیئے جاچکے ہیں ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اب منصوبہ سازوں پہ بھی ہاتھ ڈالا جائے۔ بیک وقت 200 سے زائد عسکری تنصیبات اور چھانیوں پر مسلح یلغار کوئی معمولی واقعہ نہیں۔ نہ ہی یہ کوئی حسن اتفاق تھا ۔ قرائن بتاتے ہیں کہ یہ واردات نہایت سوچ سمجھ کر کی گئی۔ عوامی مقبولیت کے خمار میں مدہوش ہونے والی جماعت اور اس کی قیادت لاکھ بہانے بنائے لیکن اس تلخ حقیقت سے دامن چھڑانا اور عوام کی آنکھوں میں طویل عرصے تک دھول جھونکنا آسان نہیں۔ تحریک عدم اعتماد میں پارلیمان کے فلور پر ناکامی کے بعد سابق وزیراعظم نے سڑکوں اور گلیوں پر احتجاج کی جو روش اپنائی تھی اس سے نہ تو ان کی جماعت کو کوئی فائدہ ملا اور نہ ہی ملک کا کوئی بھلا ہو سکا۔ملک ملک میں عدم استحکام کے سائے مزید گہرے ہوئے! معاشی حالات میں ابتری پیدا ہوئی !سیاسی بے یقینی کی بدولت غیر ملکی سرمایہ کاری میں نمایاں کمی واقع ہوئی۔ طیش کے عالم میں سابق وزیراعظم کی ہر تقریر اور بیان میں دو باتیں نہایت زور دے کر بیان کی جاتی تھیں۔ اول؛ ملک معاشی لحاظ سے دیوالیہ ہونے والا ہے ۔ دوم ؛ملک کی عسکری قیادت نے ان کی پیٹھ میںچھرا گھونپا ہے ۔اس طرز کی زہریلی گفتگو اور تقریروں سے انہوں نے اپنے حامیوں کے ذہنوں میں عسکری اداروں کے خلاف نفرت کا زہر بھر دیا۔ مقام افسوس کہ اس غیر سنجیدہ طرز عمل کو اختیار کرتے ہوئے انہوں نے ایک لمحے کے لیے بھی یہ نہیں سوچا کہ ملکی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے افواج پاکستان کئی محاذوں پر بیک وقت سرگرم عمل ہے۔ مذہب کی غلط تعبیر کرنے والے دہشت گرد خارجی گروہ اور لسانی نفرت پر یقین رکھنے والے علیحدگی پسند دہشت گرد بار بار افواج پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدف بنا رہے ہیں۔ جو کچھ نو مئی کو ہوا اس پر ازلی دشمن بھارت میں خوشی کے شادیانے بجائے گئے۔ سابق وزیراعظم کی سمجھ میں نہ آنے والی نفرت انگیز متشدد سوچ نے وہ کر دکھایا جس کا دشمن نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا۔ ان کی زہریلی تقریروں پر اشتعال میں آنے والے کارکن اب مقدموں کا سامنا کر کے سزا یافتہ مجرم بن چکے ہیں۔ ان کارکنوں کے اہل خانہ سر پکڑ کر بیٹھے ہیں۔ خود اپنے تئیں مقبول ترین لیڈر ہونے کا دعوی کرنے والے سابق وزیراعظم اڈیالہ جیل میں متعدد مقدمات میں قانونی کاروائی کا سامنا کر رہے ہیں۔ نہ ان کی جماعت کو کچھ حاصل ہوا، نہ ان کے کارکنوں کا کوئی پرسان حال ہے اور نہ ہی پاکستان کے حالات میں کوئی بہتری آئی۔اگر اس بحران سے کسی نے فائدہ اٹھایا تو وہ پاکستان کے ازلی دشمن ہیں۔ اس کے علاوہ بیرون ملک مقیم وہ سوشل میڈیائی شتونگڑے ہیں جو کسی صورت گیلی زمین پر پائوں رکھنے کے روادار نہیں۔ یوٹیوب چینلز، وی لاگ اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر صبح و شام پاکستان اور اس کے اداروں کے خلاف زہر اگلنے والے جعلی انقلابی اپنے فالوورز کی تعداد بڑھانے کے اور مالی فوائد حاصل کرنے کے لیے تمام حدیں عبور کرتے چلے جا رہے ہیں۔
یہ بات باعث تشویش ہے کہ ان ریاست دشمن کاروائیوں میں وہ حضرات بھی صف اول میں دکھائی دے رہے ہیں جو تحریک انصاف کی حکومت میں کابینہ کا حصہ رہے۔ اس کے علاوہ بعض خود ساختہ دانشور بیرون ملک محفوظ پناہ گاہوں میں بیٹھ کر اپنے ذاتی مفاد کی خاطر ملک کی سالمیت کو بھی دا پر لگا رہے ہیں اور سادہ لوح پاکستانیوں کو ریاست کے خلاف بغاوت پر اکسا رہے ہیں۔ حقیقی آزادی اور امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کے انصافی لشکر کے تمام دعوے ہوا میں تحلیل ہو چکے ہیں۔ کبھی برطانیہ کی پارلیمان میں مدد کی درخواستیں کی جاتی ہیں تو کبھی امریکی کانگرس کے اراکین کے خطوط لہرا کر جشن منایا جاتا ہے۔ حال ہی میں ٹرمپ انتظامیہ کے ایک ایلچی کی نامزدگی پر جس طرح سوشل میڈیا پر اظہار مسرت کیا گیا وہ ہر سنجیدہ مزاج پاکستانی کے لیے باعث تشویش ہے۔ اس سوشل میڈیائی اچھل کود کے دوراں بائیڈن انتظامیہ نے اپنے آخری ایام میں پاکستان کے میزائل پروگرام پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے چار کمپنیوں پر پابندیاں عائد کی ہیں۔ تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کو ملکی حالات کے پیش نظر اپنی بے بنیاد جارحانہ حکمت عملی پر نظر ثانی کرنی چاہئے۔عوامی مقبولیت کے زعم میں مبتلا ہو کر وہ اقدامات نہیں اٹھانے چاہیں جن سے ملکی سالمیت اور وقار کو ٹھیس لگے۔ اس وقت تحریک انصاف بطور جماعت شدید کنفیوژن کا شکار ہے۔ متضاد دعوئوں اور بیانات کی وجہ سے جماعت کے کارکن یہ نہیں سمجھ پا رہے کہ ان کی قیادت آخر چاہتی کیا ہے؟ ایک روز بیان جاری کیا جاتا ہے کہ احتجاج کیا جائے گا تو دوسرے روز بیان جاری کیا جاتا ہے کہ ہم مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ ایک صاحب جیل سے برآمد ہوتے ہیں اور یہ اعلان کرتے ہیں کہ بانی چیئرمین اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ دوسرے روز ایک صاحب بیان کرتے ہیں کہ ہم نے کمیٹی بنا دی ہے اور حکومت ہو یا فرشتے ہم سب سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ یہ امر بھی تشویش ناک ہے کہ خیبر پختون خواہ کے وزیر اعلی بندوقیں تھام کر احتجاجی مارچ کی دھمکیاں بھی دے رہے ہیں اور اور اپنے سیاسی مخالفین کو پرتشدد تصادم کی چیلنجز بھی دے رہے ہیں ۔یہ زہریلی سیاست ایسے نازک وقت پر کی جارہی ہے جبکہ صوبہ خیبر پختونخوا سرحد پار دہشت گردی کا شکار ہے۔ جو دفاعی ادارہ دہشت گردی کے خلاف ڈٹا ہوا ہے اور قیمتی جانوں کی قربانیاں پیش کر رہا ہے اسی ادارے کے خلاف تحریک انصاف کے بیرون ملک مقیم جعلساز زہریلا پروپیگنڈا کر رہے ہیں۔ پاراچنار میں امن و امان کی صورتحال صوبائی حکومت کے کنٹرول میں نہیں۔ سرحد پار دہشت گردی کے خلاف صوبے کی پولیس قربانیاں دینے کے باوجود موثر کاروائی کرنے سے محروم ہے۔ تحریک انصاف صوبہ خیبر پختون خواہ میں تیسری مرتبہ اقتدار میں آئی ہے۔ گورننس اور امن و امان کے محاذ پر مخدوش صورتحال تحریک انصاف کی حکومت کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس موقع پر نو مئی کے ملزمان کو دی گئی سزاں پر جو موقف تحریک انصاف کی قیادت نے اختیار کیا ہے وہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ جماعت سنجیدگی سے اپنی کارکردگی کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت سے محروم ہے ۔بہتر ہوگا کہ تحریک انصاف اپنی سیاسی حکمت عملی اندرون ملک مشاورت کے بعد طے کرے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ بانی چیئرمین اڈیالہ جیل میں ہیں اور ان کا ٹویٹر اکائونٹ بیرون ملک مقیم کوئی نامعلوم شخصیت چلا رہی ہے۔ اس اکائونٹ سے آئے روز ریاست دشمن زہریلا پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔ کسی قومی جماعت کو یہ زیب نہیں دیتا کہ اس کی حکمت عملی ایک سوشل میڈیا اکانٹ کے ذریعے بیرون ملک روپوش کوئی نامعلوم شخصیت طے کرے۔ حالات کا تقاضہ ہے کہ تحریک انصاف کی قیادت اپنے سیاسی طرز عمل پر سنجیدگی سے نظر ثانی کرے۔ نو مئی اور 24 نومبر جیسے پرتشدد اقدامات کا داغ دھونے کے لیے جس سنجیدگی کی ضرورت ہے وہ تاحال تحریک انصاف کی صفوں میں دکھائی نہیں دے رہی۔

یہ بھی پڑھیں