Search
Close this search box.
جمعه ,10 جولائی ,2026ء

اور اب ملٹری کورٹ!

پاکستان کے پرانے نقاد اب نیا راگ الاپ رہے ہیں ۔ انسانی حقوق کی دہائی اور عدالتی کارروائی کی شفافیت کی دہائی دی جارہی ہے۔ پاکستان میں ایسا کیا ہوا ہے کہ امریکہ بہادر ، برطانیہ اور یورپی یونین میں صف ماتم بچھ گئی ہے؟ پتا چلا کہ نو مئی کے منظم حملوں میں ملوث پچیس فسادیوں کو ملٹری کورٹ نے سزائیں سنا دی ہیں۔ یہ معمولی مجرم نہیں!نو مئی کو دو سو سے زائد فوجی چھاونیو ں اور حساس تنصیبات پر بیک وقت حملوں میں ملوث مجرم ہیں۔ ایسے مربوط جرائم کی نظیر نہ تو ملکی تاریخ میں ملتی ہے اور نہ ہی اس خطے کے دیگر ممالک میں ایسا سنگین اجتماعی فساد مشاہدے میں آیا ۔ یہ فساد دراصل ریاست کے خلاف بغاوت کی سوچی سمجھی سازش تھی۔ ملٹری کورٹ میں مقدمے پر بے بنیا د اعتراض کی اصلیت جاننے سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کون سے غیر ملکی عناصر کو انسانی حقوق اور عدالتی شفافیت کا مروڑ اٹھا ہے۔ کیا عجب منظر ہے کہ جس امریکہ ، برطانیہ اور یورپی یونین کا ضمیر غزہ کے نہتے شہیدوں کی حالت زار پر نہیں جاگا وہ آج پاکستان میں سزا یافتہ فسادیوں کے غم میں ہلکان ہوئے جارہے ہیں۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ پاکستان پر تنقید کرنے والے ممالک ہمیشہ فسادیوں کے حق میں ہی آواز اٹھاتے ہیں!دو سو سے زائد عسکری تنصیبات پر بیک وقت مسلح یلغار کرنے والے اگر سیاسی کارکن مان لئے جائیں تو پھر کیپٹل ہل میں ہنگامہ کرنے والے امریکی شہریوں کو سزائیں کیوں دی گئیں؟ ان فسادیوں کے حق میں اگر پاکستان کا دفتر خارجہ انسانی حقوق کی دہائی دے تو کیا امریکہ بہادر کی تیوری پر بل نہیں پڑیں گے؟ امریکی کانگریس پر حملے کی امریکا کی سب سے بڑی مجرمانہ تحقیقات قرار دیا گیا۔ امریکی کانگریس پر حملے کی تحقیقات کے بعد متعدد نوعیت کی سزائیں سنائی گئیں۔
امریکہ میں کپیٹل ہل پر حملے میں ملوث ہونے پر 1,572 افراد کو سزائیں سنائی گئیں تھیں۔ اس کیس میں 645کو جیل کی سزا سنائی گئی تھی، جن میں 22 سال تک کی قید شامل ہے۔ امریکی کانگریس پر حملے میں ’’بغاوت، سازش، تشدد اور توڑ پھوڑ‘‘کرنے پر سزا سنائی گئی۔ یہ پڑھئے اور سر دھنئیے کہ سزا پانے والوں کے جرائم میں ’’بغیر اجازت ممنوعہ علاقے میں داخل ہونا‘‘بھی شامل تھا۔ چند ماہ قبل معصوم بچیوں کے قتل کے بعد برطانیہ میں پھوٹنے والے فسادات کو روکنے کے لئے جو اقدامات کئے گئے ؛ کیوں نہ ان کی شفافیت پر سوال اٹھا لیا جائے۔ لندن فسادات کے چند روز بعد ملوث افراد کو سزائیں سنانے کا عمل شروع ہو گیا تھا۔ لندن فسادات کے کیس میں ان افراد کو بھی سزائیں سنائی گئیں جنہیں تحقیقات میں ’’تماشائی‘‘ قرار دیا گیا۔ سادہ زبان میں موقع واردات پر محض موجودگی ہی کسی فرد کا جرم قرار پائی۔ آئیں امریکہ اور برطانیہ کے غیر شفاف نظام انصاف پر تنقید کریں !انسانی حقوق کی دہائی دیں! سزائیں پانے والے مجرموں کو ضمیر کا قیدی اور سیاسی کارکن قرار دے کر آسمان سر پر اٹھائیں!جو ناقدین ایڑیاں اونچی کر کے پاکستان کو صلواتیں سنا رہے ہیں وہ مغربی دنیا کی جانب بھی رخ روشن موڑیں ۔ لیکن ایسا ہوگا نہیں۔ وجہ یہ ہے کہ پاکستان پر کیچڑ اچھالنے کے عوض ڈالر ملتے ہیں جبکہ مغرب کے سیاہ چہرے کو بے نقاب کرنے پر بیرونی سرپرستی کی چھتری سے محروم ہونا پڑتا ہے۔ پاکستان میں ملٹری کورٹ میں طویل سماعت کا مقصد قانون و انصاف کے تقاضوں کی تکمیل یقینی بنانا تھا۔
پاکستان میں 9مئی کے ملزمان کی شناخت کے لئے موثر اور قابلِ بھروسہ طریقہ کار اختیار کیا گیا۔نو مئی کے ملزمان کا تعین، کیپٹل ہل امریکہ اور لندن کے فسادات کے ملزمان کی طرح کیا گیا۔ پاکستان میں 9 مئی کے ملزمان کی شناخت میں ٹیکنالوجی اور ناقابلِ تردید ذرائع کو اپنایا گیا ۔نو مئی حملوں کے بعد رہائی پانے والوں نے دورانِ حراست اچھے سلوک کی گواہی دی ۔ نومئی کے حملوں میں ملوث نہ پائے جانے والے افراد کو بہت پہلے رہا کیا گیا۔ ملٹری کورٹ میں 9مئی حملوں کے ملزمان کے کیسز کی سات ماہ تک سماعت کی گئی۔ نومئی حملوں کے کیس میں ملزمان کو سزائیں سنائے جانے میں کسی جلد بازی سے کام نہیں لیا گیا۔
ایک مخصوص سوچ کا حامل انگریزی روزنامہ غلط استدلال کی بنیاد پر ملٹری کورٹ میں سماعت پر اعتراضات داغے۔ حقیقت یہ ہے کہ ملٹری کورٹ پاکستان کے آئینی ڈھانچے ، عدالتی نظام اور تفتیشی مراحل سے ہم آہنگ ہیں۔ ملزمان کو مرضی کا وکیل چننے ، مختلف سطح پر اپیل کرنے اور ان کے لواحقین کو سماعت میں حصہ لینے جیسے بنیادی حقوق حاصل ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کمزوریوں اور سست رو عدالتی نظام کی وجہ سے پاک فوج نہ صرف انسداد دہشت گردی کے اضافی فرائض بھی انجام دے رہی ہیں بلکہ ملٹری کورٹ میں نہایت سرعت سے ریاست کے باغیوں اور خارجیوں کے مقدمات کا فیصلہ بھی کر رہی ہے۔ نومئی کے فسادات میں ملوث باغیوں کی حمایت میں ٹسوے بہانے والے ممالک تو اسرائیل کے بھی حامی ہیں۔ انصافی قیادت کا معاملہ اور بھی تعجب خیز ہے۔ پہلے نو مئی کے ملزمان سے لاتعلقی ختیار کر کے دامن جھٹک دیا اور فالس فلیگ آپریشن کا الزام حساس اداروں پر دھر دیا۔ اب نو مئی کے فسادیوں کو سزائیں سنا دی گئیں تو انہیں اپنا سیاسی کارکن قرار دے کر واویلا شروع کر دیا۔ امریکہ یا برطانیہ کے تنقیدی بیانات کی بنیاد پر فسادیوں کی رہائی ممکن نہیں ۔ انسانی حقوق کے دیسی لبرل علمبردار تنقید کی توپوں کا رخ لندن اور واشنگٹن کی جانب کریں تاکہ کچھ آٹے دال کا بھاو معلوم ہو۔ یہ معاملہ بہت عجیب ہے کہ جو اسرائیل دوست عناصر پہلے بانی چئیرمین کی رہائی کے لئے متحرک تھے وہی اب ملٹری کورٹ میں مقدمات کی سماعت پر تکلیف میں مبتلا ہیں۔

یہ بھی پڑھیں