(گزشتہ سے پیوستہ)
راستی اور راست گفتاری امانت ہے، اور دروغ گوئی خیانت۔تم میں جو ضعیف ہے وہ میرے نزدیک قوی ہے اور تم میں جو قوی ہے وہ میرے نزدیک ضعیف ہے،جب تک میں اس سے حق نہ لے لوں،تم لوگ جہاد کو ترک نہ کرنا،جب کوئی قوم جہاد ترک کردیتی ہے تو وہ ذلیل ہوجاتی ہے،جب تک میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کروں تو تم میری اطاعت کرو،جب میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کروں تو تم میرا ساتھ چھوڑ دو،کیونکہ پھرتم پر میری اطاعت فرض نہیں ہے۔کاش کہ اس خطبے سے پاکستانی حکمران بھی نصیحت پکڑیں،آقانامدارﷺکا اس دار فانی سے پردہ فرما جانے کے بعد مسلمانو ں کے لئے انتہائی کٹھن مرحلہ شروع ہوچکا تھا،اس مشکل گھڑی کو آپ نے اپنے عزم مسمم سے اس طرح سر کیا کہ دین اسلام کو کوئی آنچ نہ آنے دی۔ بڑے بڑے فتنے رونماہوئے،جن میں مانعین زکوٰۃ کا فتنہ، مرتدین کافتنہ اور جھوٹے مدعیان نبوت کافتنہ۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے صحابہ کرام ؓکے ساتھ مل کر حضورﷺ کی حاصل شدہ تربیت کے ذریعے ان فتنوں کو بڑے احسن طریقے کے ساتھ ختم کیا مختلف مقامات پر گھمسان جنگیں ہوئیں۔
بہت سے صحابہ کرام ؓنے اپنی جانیں نچھاور کرکے دین اسلام کی حفاظت کی اور ان سب فتنوں کا قلع قمع کرکے سکون کا سانس لیا۔مولانا ابوالحسن علی ندوی نے لکھتے ہیں کہ امت مسلمہ پر سب سے مشکل وقت آپ ﷺ کی وفات کے بعد آیا اور وہ فتنہ ارتداد کا تھا،لیکن ایک شخص کے ایک جملے نے تاریخ کا دھارا بدل دیااور ہرایک کی زندگی بخش دی،وہ جملہ حضرت ابوبکر صدیق ؓنے فرمایا،میں زندہ ہوں اور اسلام کو ختم کردیا جائے،ایسا ممکن نہیں۔لشکر اسامہ کو روانہ کرتے وقت حضرت ابوبکر صدیق ؓنے جنگی قوانین اور نصیحتیں کرتے ہوئے فرمایا، خیانت، فریب اور عہد شکنی سے بچنا،کسی لاش کو نہ بگاڑنا۔عورتوں،بچوں اور بوڑھوں کو قتل نہ کرنا۔ بھیڑ،بکری یا گائے اونٹ کو کھانے کے علاوہ ذبح نہ کرنا۔پھل دار اور سایہ دار درختوں کونہ کاٹنا۔آبادیوں کو تباہ نہ کرنا۔دیگر مذاہب کی عبادت گاہوں اور راہبوں کو ان کے حال پر چھوڑدینا۔
لوگ قسم قسم کے کھانے برتنوں میں تمہارے پاس لائیں گے، انہیں کھائو تواللہ کا نام لے کر کھائو۔جو لوگ اطاعت اختیار کریں ان کی جان و مال کا احترام کرنا۔میدان جنگ سے پیٹھ نہ پھیرنا۔ان اصولوں پر عمل پیرا ہوکر لشکر اسامہ نے چالیس دن میں فتح حاصل کرلی تھی،اگر آج بھی مسلمان ان اصولوں پر عمل کرلیں توجہاد کا بگڑتا چہرہ بھی درست ہوجائے اور دنیا بھر میں اسلام کا بول بالا بھی کیا جاسکتاہے۔حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے انتہائی سادگی و متانت کے ساتھ زندگی بسر کی۔قیمتی لباس کے بجائے موٹا،سادہ اور صاف ستھرا لباس پہنتے تھے،جو اکثر پیوند لگے ہوتے تھے،گھر میں رہن سہن بھی سادہ اور تکلفات سے بے نیاز تھا،باوجود دولت مند ہونے کے فقیرانہ زندگی بسر کرتے تھے،خلیفہ بننے کے بعد بھی سادگی نہ چھوڑی،
نامِ صدیق صداقت کا پتا دیتا ہے
جام الفت کا محبت کا پلا دیتا ہے
اس کے دامن میں وفائوں کے گہر گرتے ہیں
عشقِ صدیق میں جو اشک بہا دیتا ہے
مغفرت اس کے مقدر پہ نہ ہو کیوں نازاں
جاں ابوبکر کی خاطر جو لٹا دیتا ہے
کردے انکار نبوتﷺ کا ابوجہل اگر
اس کو صدیق بھی دو چار سنا دیتا ہے
جو ابوبکرؓ کے منصب کا نہیں رکھتا لحاظ
مومن اس شخص سے ہر ناطہ بھلا دیتا ہے
بعد آقاﷺ سے محبت کے یہاں دیوانہ
عشقِ صدیق ؓ کی آواز لگا دیتا ہے
بخت والے ہی ابوبکر ؓکے گن گاتے ہیں
اور اِس اعزاز کی توفیق خدا دیتا ہے
مختصر یہ کہ ابوبکرؓ کے در پر صائم
ربِ بوبکرؓ محمدﷺ سے ملا دیتا ہے