مشیر وزیراعظم برائے سیاسی امور، رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے پریشر پر تو ہم کوئی کام نہیں کریں گے،اگر مداخلت کی گئی تو اپنی خود مختاری میں مداخلت تصور کریں گے،امریکا عافیہ صدیقی کو رہا کرے تو ہم بانی پی ٹی آئی کے بارے میں سوچ سکتے ہیں۔حکومت کو قطعاًکوئی گھبراہٹ نہیں،ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے بدلے عمران خان ، پاکستان کے عوام رانا ثناء اللہ کی اس بات کا مطلب نہیں سمجھ پائے،کیا شہباز حکومت عمران خان کے حوالے سے امریکی دبائو کو قبول کر کے قیدی نمبر 804 کو ان کے حوالے کرنا چاہتی ہے ؟ اگر نہیں تو پھر رانا ثناء اللہ عمران خان کے بدلے ڈاکٹر عافیہ کی بات کیوں کر رہے ہیں؟ کہیں یہ مذاق یا تحریک انصاف پر طنز تو نہیں؟ اور اگر یہ کوئی مذاق ہے تو اس سے برا اور گھٹیا مذاق کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا، قوم کی مظلوم بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا نام اپنے سیاسی مخالفین کو گرانے پچھاڑنے اور رگیدنے کے لئے استعمال کرنا کم ظرفی کی انتہا ہے، پاکستان کی پاکباز بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو جن مکروہ کرداروں نے پکڑ کر امریکہ کے حوالے کیا تھا،وہ مکروہ کرداروں کا ٹھکانہ تاریخ کا کوڑے دان بنا۔
گلوبل عافیہ موئومنٹ کی چیئر پرسن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی اپنی بہن اور قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ کی نجی زندگی کے بارے میں بتاتی ہیں کہ 1995 ء میں، اس کی شادی ڈاکٹر امجد خان سے فون پر ہوئی، یہ مکمل طور پر ایک ارینج میرج تھی۔1996ء میں اپنے بیٹے کی پیدائش کے فوراً بعد، اس کے دوستوں اور خاندان والوں نے دیکھا کہ ہمیشہ خوش و خرم رہنے والی، زندگی سے بھرپور عافیہ خاموش رہنے لگی تھی۔ اس کے چہرے پر قاداسی کے آثار نمایاں، ساتھ ہی جسم پر تشدد کے نشانات بھی نظر آنے لگے تھے وہ اپنی ازدواجی زندگی کو چلاتے رہنے کے لئے بھرپور کوشش کر رہی تھی۔اس کی بیٹی کے وقت حاملہ ہونے کے دوران حالات مزید بگڑ گئے۔۔ عافیہ کے وکیل کلائیو اسٹفورڈ اسمتھ بتاتے ہیں کہ امریکی جیلیں دراصل ایک طرح کا صنعتی کمپلیکس ہیں جس پر بہت زیادہ رقم خرچ کی جاتی ہے۔ عافیہ کو منصفانہ ٹرائل کا موقع نہیں ملا۔ یہ مقدمہ ایک صیہونی جج کے ذریعے چلایا جا رہا ہے،معروف برطانوی صحافی ایوون ریڈلے کہتی ہیں کہ جب میں قیدی 650کی شناخت جاننے کے لئے پاکستان گئی تومجھے بہت مدد ملی اور جس شخص نے حقیقی معنوں میں میری مدد کی وہ عمران خان تھا۔ جن لوگوں کا میں نے انٹرویو کیا تھا ان میں سے ایک جنگجو سردار حکمت یار کے داماد ڈاکٹر گیرہارڈ بحر تھے۔ انہوں نے حتمی طور پربتایا کہ یہ وہی عورت ہے جس کے ساتھ میں قید تھا۔ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں سب سے پہلے کیا جانے والا کام قیدیوں کو غیر انسانی بناناتھا اور کسی کو غیر انسانی بنانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اس سے اس کی شناخت ہی چھین لی جائے۔ وہ کسی بھی انسان کا نام مٹا کر اسے ایک نمبر جاری کردیتے ہیں تاکہ اس کا کوئی حوالہ ہی باقی نہ رہے۔کرئہ ارض کی سب سے زیادہ مظلوم عورت عافیہ صدیقی ہے اور اس سے زیادہ افسوس کی بات ٹیکساس کی کارسویل جیل میں اس کی موجودگی ہے۔ایک امریکی موری سلاخن نے کہا تھا کہ امریکی ہونے کی حیثیت سے مجھے شرمندگی ہے کہ جو کچھ میری حکومت نے ایک معصوم مسلمان عورت کے ساتھ کیا۔ مظلوم پاکستانی بیٹی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا نام سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے والے بھی اللہ کی بے آواز لاٹھی سے بچ نہ پائیں گے،سوال یہ ہے کہ کیا غیر ملکی دبائو سے عمران خان یا 9مئی کے مجرموں کا ٹرائل رک جا ئے گا؟ ایسا سوال اٹھانے والوں سے اس خاکسار کا بھی اک سوال ہے کہ کیا ذوالفقار علی بھٹو کی رہائی کے لئے جنرل ضیاء الحق کی حکومت پر بیرونی دبا ئونہیں تھا ؟کیا اس بیرونی دبائو کی وجہ سے بھٹو کو رہا کر دیا گیا تھا؟
پاک فوج کے ترجمان اور دیگر عہدیداران ایک بار نہیں بلکہ بار بار قوم کو اس بات کی یقین دہانیاں کروا چکے ہیںکہ 9مئی کے مجرموں کو قانون کے مطابق سزائیں دی جائیں گی،نو مئی کے واقعات کو ہوتے ہوئے پوری قوم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ،نو مئی کو بڑھکیں اور للکارے مارتے ہوئے فوجی تنصیبات پر حملے کر نے والے گروہ کو میڈیا نے لائیو دکھایا ،اب خبر یہ ہے کہ امریکا نے9 مئی کے مقدمات میں فوجی عدالتوں کی جانب سے 25 شہریوں کو سزائیں سنائے جانے پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اپنے ایک بیان میں ترجمان امریکی محکمہ خارجہ میتھیو ملر نے پاکستان کی فوجی عدالتوں کی کارروائی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کو 9 مئی کے مظاہروں میں ملوث شہریوں کے خلاف فوجی ٹریبونلز کی جانب سے سزاوں کی سنائی جانے والی کارروائی پر تحفظات ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ فوجی عدالتوں میں عدالتی آزادی، شفافیت اور مناسب عمل کی ضمانتوں کا فقدان ہے، پاکستانی حکام آئین میں درج منصفانہ ٹرائل کا احترام کریں۔ ’’اسرائیل کو اسلحہ دے کر غزہ کے ہزاروں معصوم بچوں اور عورتوں کا قتل عام کروانے اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی پر قیامت خیز مظالم ڈھائے والے امریکہ کو نو مئی واقعات میں ملوث مجرموں کے حقوق کی بڑی فکر ہے، کوئی ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے امریکی ترجمانوں کو بتاے کہ پاکستان نہ تو امریکہ کی کالونی ہے اور نہ ہی شہباز گلوں اور زلفی بخاریوں کے باوا کی جاگیر ،میں نہیں جانتا کہ ن لیگ ،پیپلز پارٹی یا دیگر پارٹیاں کیا چاہتیں ہیں،لیکن میں اتنا ضرور جانتا ہوں کہ اگر نو مئی کو فوجی تنصیبات پر حملے کرنے والے اصل مجرموں اور اس کے ماسٹر مائنڈ کو سزائیں نہ دی گئیں تو پھر اس کے اثرات نہایت منفی ہوں گے،آرمی چیف حافظ جنرل سید عاصم منیر پر 24کروڑ عوام کی نظریں لگی ہوئی ہیں،میرا وجدان کہتا ہے کہ جن کے برے اقدامات کی وجہ سے پاکستان کی معیشت تباہ ہوئی اور ملک خطرات سے دوچار ہوا انہیں نہ ڈونلڈ ٹرمپ بچا سکے گا اور نہ ہی نیتن یا ہو۔