Search
Close this search box.
جمعه ,05 جون ,2026ء

کراچی!احتجاج حق عوام کو پریشان کرنا ناحق

قومی سلامتی کے اداروں کو اس بات کا کھوج لگانے کی ضرورت ہے کہ آخر پارا چنار کے معاملے پر کراچی میں کسی فریق کو دھرنے دینے کی اجازت ہی کیوں دی گئی؟ اس کے پیچھے کیا لاجک ہے کہ مسئلہ کے پی کے ،کے ضلع کرم میں تھا، پارا چنار میں فوجی آپریشن کا فیصلہ ایپکس کمیٹی نے کیا اور اس کے خلاف دھرنے کے پی کے میں دینے کی بجائے کراچی کی سڑکوں پر شروع کر دیے گئے جس کی وجہ سے کئی دنوں سے کراچی کے لاکھوں شہری شدید پریشانی سے دوچار ہیں، لیکن وزیراعلیٰ مراد علی شاہ، بلاول زرداری ،گورنر ٹیسوری سمیت کسی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی ، کیا سندھ حکومت کی کراچی میں رٹ قائم ہے؟،عوام کا یہ سوال بالکل جائز ہے،رات کے آخری پہر دھرنا شرکا ء گھروں میں آرام فرمانے کے لئے تشریف لے جاتے ہیں اور پولیس ان کیمپوں کی حفاظت پر ما مور رہتی ہے، کراچی کے شہری مراد علی شاہ حکومت کی اس اعلیٰ کارکردگی اور عوام دوستی کو بھول نہ پائیں گے۔پاراچنار کی لڑائی کو کراچی کی سڑکوں پہ کھیچ لانا حماقت کے سوا کچھ بھی نہیں،غیر جانبدار تجزیہ نگاروں کے نزدیک جرگے کے فیصلے کو نہ ماننا،اسلحہ جمع کروانے سے انکار کرنا، پاک فوج کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کرنا، خواہ یہ حرکتیں کوئی بھی فریق کرے انتہائی نا مناسب اور ملک دشمنی کے مترادف ہے،افسوس صد افسوس ضلع کرم تقریبا ًسوا دو مہینے سے فرقہ وارانہ آگ میں جل رہا ہے،مگر اسلام آباد کی وفاقی حکومت ہو یا پشاور کی صوبائی حکومت ،یہ پارا چنار میں ریاست کی رٹ قائم کرنے میں یکسر مکمل ناکام رہی ہیں۔
سوشل میڈیا پہ کہرام بپا ہے کہ حال ہی میں دہشت قرار دی جانے والی تنظیموںکے دہشت گرد غیر ملکی سلحہ کے ساتھ وہاں موجود ہیں،اگر ایپکس کمیٹی کے مطابق پارا چنار میں فوجی آپریشن کیا جائے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جاے گا۔عوام یہ بھی سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر اسلام آباد کی لال مسجد،جامعہ حفصہ میں فوجی آپریشن ہو سکتا ہے،اگر ایک لڑکی کو کوڑے مارنے کی جعلی ویڈیو کو بنیاد بنا کر سوات میں ایک خوفناک فوجی آپریشن ہو سکتا ہے،اگر وزیرستان میں فوجی آپریشن ہو سکتا ہے ،اگر ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن ہو سکتا ہے، تو پارا چنار میں کیوں نہیں ہو سکتا ؟
مراد علی شاہ کی سندھ میں قائم حکومت کی نااہلی کی سزا آج کراچی کے کروڑوں عوام بھگت رہے ہیں ۔ایک معاصر اخبار میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق کراچی کے دھرنوں کی وجہ سے سڑکوں کی بندش اور ٹریفک جام میں پھنسی سینکڑوں ایمبولنسز میں موجود زخمی اور مریض اپنی زندگی اور موت سے لڑ رہے ہوتے ہیں، کراچی کے دونوں بڑے سرکاری ہسپتالوں میں پانچ روز سے سرجنز پروفیسرز، ڈاکٹرز پیرا میڈیکل سٹاف مسلسل تاخیر سے پہنچ رہے ہیں، مجبوری کے تحت آپریشن کم کر دئیے گئے ہیں، جبکہ سڑکوں پر دھکے کھانے والے سینکڑوں مریض او پی ڈی میں گھنٹوں طبی عملے کی راہ دیکھ رہے ہوتے ہیں، ہسپتالوں میں صبح کے اوقات میں ملازمین کی حاضری 50فیصد تک پہنچ چکی ہے ،رپورٹ کے مطابق ٹریفک جام اور سڑکیں بند ہونے سے پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے والے ہزاروں افراد سڑکوں پر رل رہے ہیں، ٹریفک جام اور سڑکیں بند ہونے کی وجہ سے گھروں آفسز اور دوسرے علاقوں میں کام کرنے والے لاکھوں شہری شدید ترین پریشانی سے دوچار ہیں،رپوٹ کے مطابق کراچی میں جاری دھرنوں کے سبب ملکی و غیر ملکی آنے اور جانے والی سو سے زائد پروازیں منسوخ ہونے کا انکشاف ہوا ہے، پیر کو بھی 36 پروازیں منسوخ ہوئیں ،جن میں زیادہ تر غیر ملکی پروازیں شامل ہیں، مسافروں کے ایئرپورٹ نہ پہنچنے کے سبب کراچی آنے والی کئی پروازیں منسوخ کر دی گئیں، منسوخ ہونے والی پروازوں میں پی ائی اے سمیت پاکستانی فضائی کمپنیوں کی پروازیں زیادہ ہیں، دکھ کی بات یہ ہے کہ سندھ حکومت اور کراچی کی انتظامیہ عوام کے لئے بنائی جانے والی اس ساری تکلیف دہ صورتحال سے بالکل لا تعلق نظر آ رہی ہے ۔ بلا شبہ ضلع کرم میں پیش آنے والے واقعات نہایت المناک اور انسانیت کی تذلیل کے مترادف ہیں ہیں،لیکن ان واقعات کی سزا کراچی کے عوام کو دینا کہاں کی دانشمندی ہے۔
سندھ حکومت اور کراچی کی انتظامیہ کی ذمہ داری تھی کہ وہ دھرنا منتظمین سے پہلے دن ہی بات چیت کر کے دھرنے ختم کروانے کی کوشش کرتی،لیکن افسوس سندھ حکومت اور کراچی کہ انتظامیہ اس معاملے پر مجرمانہ غفلت کی حد تک خاموش رہی۔کراچی کی پہچان معاشی حب کے طور پر ہے، گزشتہ ایک ہفتے سے جاری دھرنوں کی وجہ سے یہاں کاروباری سرگرمیاں بری طرح متاثر ہو رہی ہیں، اور عوام دھرنوں کی وجہ سے بے پناہ مشکلات کا شکار ہیں، متعدد مرکزی سڑکیں بند پڑی ہیں، اور سڑکوں کے گرد پولیس کے پہرے لگے ہوئے ہیں، پولیس دھرنا ختم کرانے کی بجائے ہزاروں شہریوں کو طاقت کے زور پر اس طرف جانے سے روکتی ہے، اس ساری صورتحال میں دھرنا دینے والی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ کراچی کے لاوارث عوام پر ترس کھاتے ہوئے سڑکوں کو کھولنے کا اعلان کر دیں ،کیونکہ احتجاج مذہبی اور سیاسی جماعتوں کا جمہوری حق ہے، مگر لاوارث ، بے کس و بے بس عوام کو پریشان کرنا ناحق ہے۔

یہ بھی پڑھیں