Search
Close this search box.
جمعرات ,09 جولائی ,2026ء

نیا سال‘ نئی امیدیں؟

دنیا بھر میں نیاسال شروع ہوچکاہے۔ پاکستان میں بھی اس نئے سال کی خوشی میں مختلف طبقات کی جانب سے اعلیٰ پارٹیوں کااہتمام کیا گیا ۔ جس میں عمائدین شہر نے بڑی تعداد میں شرکت کرکے نئے سال کی آمد کو تہہ دل سے خوش آمدید کہا‘ اس امید کے ساتھ کہ اس سال ملک معاشی وسماجی طور پر ترقی کی نئی منازل طے کریگا۔اس خواہش کاتابناک پہلو یہ ہے کہ پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان مذاکرات شروع ہوگئے ہیں۔ تاکہ ملک میں سیاسی استحکام کے ساتھ ساتھ معاشی استحکام کی کوشش کی جائے‘ کیونکہ معاشی استحکام ہی کے ذریعے ملک ترقی کرسکے گا۔ نیز بے روزگاری کاخاتمہ ہوسکے گا۔ دراصل اقتصادیات کا پہیہ اس ہی طرح چلتاہے۔ جس ملک میں امن قائم ہونے کے ساتھ ساتھ اقتصادی ترقی ایک مثال بن جائے۔ جیسا کہ چین میں دیکھنے میں آتاہے۔
تاہم یہ بات بھولنی نہیں چاہیے کہ اقتصادی ترقی کا انحصار حکومت کی جانب سے جاری کردہ پالیسیوں پر ہے۔ نیز ان پالیسیوں پر صدق دل سے عمل پیرا ہوکر عوام اور خواص دونوں کے لئے معاشی خوشی کاذریعے بن سکے۔ تاہم اس ضمن میں یہ بات بھی مشاہدہ میں آئی ہے کہ حکومت‘ ٹھیک ٹھاک اقتصادی پالیسیاں وضع کرتی ہے‘ لیکن اس پر قومی مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے عمل نہیں کیاجاتاہے۔ (بیورو کریسی کی رکاوٹیں)یہی وجہ ہے کہ ماضی میں جتنی بھی معاشی پالیسیاں تشکیل دی گئی ۔ ان میں سے بیشتر کامیاب نہیں ہوسکیں؟لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیاجاسکتاہےکہ حکومت معاشی پالیسیوں کے ضمن میں جو تصور بناکر قوم کے سامنے پیش کرتی ہے اس پہ نیک نیتی سے عمل پیرا نہیں ہوا جاتاہے‘ یہی وجہ ہے کہ ملک معاشی ترقی میں وہ کامیابی حاصل نہیں کرسکاہے جس کی توقع کی جاتی ہے۔ قرض لیکر ملک کی معیشت کو مضبوط کرنے کا دعویٰ محض فراڈہے۔ لیکن ان قرضوں کے ذریعے وہ نتائج حاصل نہیں کئے جاتے ہیں جس کی توقع کی جاتی ہے یا پھر اس کا پرچار کیاجاتاہے۔
چنانچہ جبکہ نیا سال شروع ہوچکاہے۔ عوام اور خواص دونوں کایہ خیال ہے کہ یہ سال معاشی وسماجی ترقی کے پس منظر میں اچھا رہے گا۔ اور حکومت ملک کو آگے کی طرف لے جائے گی۔ تاہم اس ضمن میں بیورو کریسی پہ بھی اہم ذمہ داری عائد ہوتی ہیں کیونکہ اس ہی ادارے کے ذریعے معاشی وسماجی پالیسیوں کی کامیابی کاداروامدار ہوتاہے۔ اگر بیورو کریسی نے عوام کی مشکلات کو سامنے رکھتے ہوئے ان پالیسیوں پر عمل پیرا ہونے میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا تو اس صورت میں ملک اور عوام دونوں کا فائدہ ہوگا۔ تاہم اس ضمن میں دیکھنا یہ ہے کہ کیامعاشی پالیسیوںپر اس ہی طرح سے عملدرآمد کیاجاتاہے جب انہیں تشکیل دیتے وقت بیورو کریسی اور سیاستداں اپنے اپنے خیالات کااظہار کرتے ہیں اور وعدہ کرتے ہیں۔
تاہم اس وقت پاکستان اقتصادی ترقی میں اس خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں پیچھے رہ گیاہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارے سرمایہ کار‘ نیک نیتی سے سرمایہ کاری نہیں کررہے ہیں بلکہ زیادہ منافع کمانے کیلئے ان کا سرمایہ باہر چلاجاتاہے چنانچہ اس ناقابل تردید حقیقت کے سامنے ہمارے سرمایہ کاروں کو اپنے ملک میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے جہاں سے انہیں منافع بھی حاصل ہوسکے اور ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکے ۔سرمایہ کاری کرنا آسان کام نہیں ہے۔ اس کے لئے بڑے دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے خصوصیت کے ساتھ یہ دیکھنا لازم ہوتاہے کہ سرمایہ ڈوبے گا تو نہیں۔ نیز اس سے ملک کو بروقت فائدہ ہوسکے گا۔ اور سرمایہ دار کو بھی۔
تاہم موجودہ حالات میں پاکستان میں سرمایہ کاری کے سلسلے میں اچھے مواقع موجود ہیں۔ ریکوڈک اس کی تازہ مثال ہے جس میں غیر ملکی سرمایہ بھی آرہاہے۔ اس ہی طرح پاکستان دیگر شعبوں میں بیرونی سرمایہ لاسکتاہے‘ جس کیلئے سخت محنت کرنی ہوگی۔ کیونکہ اس وقت بیشتر ممالک اپنے اپنے ملکوں میں سرمایہ کاروں کو سرمایہ کاری کی ترغیب دے رہے ہیں۔ اور انہیں پرکشش مراعات پیش کرکے نہ صرف خود مستفید ہورہے ہیں بلکہ سرمایہ کار بھی بھرپور فائدہ اٹھارہے ہیں۔ پاکستان کے پالیسی سازوں کو ایسی پالیسیاں ملکی اور عالمی سطح پر پیش کرنی چاہیے جو جلد سرمایہ کاروں کو اپنی طرف راغب کرسکے اور وہ اطمینان سے سرمایہ کاری کرسکیں۔ موجودہ حالات میں پاکستان سرمایہ کاری کے ضمن میں ایک اچھا ملک ہے اس کاانفراسٹرکچر بھی مناسب ومعقول ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس ضمن میں سخت محنت کرنی ہوگی اور پالیسیوں کو پرکشش بنانے کے سلسلے میں ان مراعات کا بھرپور پروپیگنڈا کرنا ہوگا تاکہ ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کار اپنا سرمایہ یہاں لاسکیں۔ تاہم اس سلسلے میں اس بات کو ملحوظ خاطر رکھناہوگا کہ غیر ملکی سرمایہ لانا کوئی آسان کا م نہیں ہے۔ اس کے لئے سخت کاوش کی ضرورت ہے تب ہی جاکر غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ لاسکے گا۔ نیز پاکستان میں سرمایہ لانے کے سلسلے میں سیاسی استحکام اور امن بہت ضروری ہے‘ اس سلسلے میں دو بڑی جماعتوں کے درمیان سیاسی استحکام کے لئے ہونے والی بات چیت ایک خوش آئند پیشرفت ہے۔ سیاستدانوں کو چاہیے ک وہ اپنی سیاسی جماعتوں کے مفادسے زیادہ ملک اور عوام کے مفادکو سامنے رکھیں۔ کیونکہ ملک کی ترقی کا براہ راست اثر عوام پڑتاہے۔ جن ممالک نے اپنی معاشی پالیسیاں عوام دوست تشکیل دی ہیں وہ ملک ترقی کررہے ہیں۔ عوام کا معیار زندگی بلند ہورہاہے۔ غربت بھی کم ہوررہی ہے جبکہ پاکستان میں غربت کو کم کرنے کے سلسلے میں ابھی بہت کام کرنا ہے۔زمینداری نظام کو بتدریج ختم کرکے کسانوں کو زمین کے مالکانہ حقوق دیکر پاکستان غیر معمولی طور پرترقی کرسکتاہے۔ زرعی طور پر بھی اور سرمائے کے لحاظ سے بھی۔
اس وقت ملک کاسیاسی ماحول بتدریج اچھائی کی طرف جارہاہے۔ سیاستدانوں کے درمیان سیاسی معاملات کو بہتر بنانے کے سلسلےمیں جو بات چیت ہورہی ہے وہ وقت کا تقاضا بھی ہے۔ اس رویے سےعوام کو جہاں سکون حاصل ہوگا۔ وہیں سرمایہ دار اپنا سرمایہ لگانے میں کوئی پس وپیش نہیں کرے گا۔ سیاستدانوں کے درمیان اچھے تعلقات ملک کی معاشی ترقی میں ایک اہم کردارادا کرسکتےہیں ۔ اس کی مثال پاکستان کے کئی پڑوسی ممالک میں دیکھی جاسکتی ہے۔ یہاں بھی ایسا رویہ اختیار کرکے ملک کو معاشی طور پر خوشحال بناناممکن ہے ۔ ذرا سوچیئے!

یہ بھی پڑھیں