Search
Close this search box.
بدھ ,24 جون ,2026ء

سیزفائر کے پردے میں عالمی کھیل

(گزشتہ سےپیوستہ)
اسرائیل، موساداوربھارت کی یہ مشترکہ سرگرمیاں نہ صرف ایران کی خودمختاری بلکہ خطے کی مجموعی سلامتی کیلئے ایک بڑا خطرہ بنتی جارہی ہیں بلکہ یہ عمل خطے میں پراکسی وار،عدم استحکام اوربین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ایران میں اسرائیلی نیٹ ورک،موسادکی کارروائیاں اور بھارت کاکرداراس بات کاواضح ثبوت ہے کہ یہودوہنودمشترکہ طورپر مسلم دشمنی میں ایک دوسرے کاساتھ دے رہے ہیں اورپاکستان کا بیانیہ سچ ثابت ہوگیاہے کہ دنیاکے امن کوسب سے بڑاخطرہ یہود وہنودکاالائنس ہے۔
موجودہ منظرنامے میں اسرائیل نے امریکا کی مکمل حمایت سے ایران کے ایٹمی مراکزکونشانہ بنایا لیکن ایران نے جوابی حملے کے ذریعے پہلی باراسرائیل کے اندرحقیقی نقصان پہنچایا ۔ ایران کے میزائل اسرائیلی حدودمیں داخل ہوئے،مضبوط آئرن ڈوم سسٹم نے اکثر حملوں کوروکامگرکئی میزائل اتنے طاقتورتھے کہ فوری اثرات کے باعث کئی اسرائیلی مضبوط چوکیاں متاثرہوئیں۔بعض میزائل تل ابیب کے فوجی ہیڈ کوارٹرزکے نزدیک گرے،جس سے انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچا۔ایران نے مجموعی طورپر550سے زائد بیلسٹک میزائل ،ڈرون اورکروز میزائل داغے جن میں سے متعددتل ابیب، حیفہ، بیئرشبع، اور عسقلان کونشانہ بنانے میں کامیاب رہے۔ اسرائیل کادفاعی نظام آئرن ڈوم بعض مقامات پر مؤثر ثابت ہوامگرکئی میزائل اس سے بچ نکلے اور انہی میزائل نے تل ابیب کے شمالی سیکٹرمیں فوجی ہدف پربراہِ راست حملے نے جہاں شدید نقصان پہنچایا وہاں حیفہ کی ایک گیس پائپ لائن میں شدید آتشزدگی نے اسرائیل کوخاصہ نقصان پہنچایا۔
یہ واقعہ نہ صرف اسرائیل کے دفاعی غرور کی شکست تھی بلکہ ایران کی جوابی طاقت کاواضح اعلان بھی۔لیکن وہی ہواجس کی توقع تھی۔ اسرائیل کابڑھتاہوانقصان اوراس کی بے بسی کو ختم کرنے کیلئے امریکابھی اس جنگ میں کود پڑا۔ 21 جون کوامریکی بی-2 بمبار طیاروں اورٹام ہاک میزائلوں سے ایران کے تین بنیادی ایٹمی مراکز پرحملہ کردیا۔حالیہ برسوں میں پہلی مرتبہ ایران کے ایٹمی تنصیبات پرامریکی حملوں کے بعد ایران نے مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں کونشانہ بنایا۔ ایران کی طرف سے نہ صرف مزاحمت بلکہ مشرق وسطیٰ میں امریکی اڈوں پرحملے گویاایک نیامرحلہ تھا۔جب ایران کی جوابی کارروائیوں نے امریکی اڈوں کوہدف بنایااورخطے میں جنگ کے بادل گہرے ہونے لگے،توبراہِ راست تصادم کی صورت میں جیسے ہی امریکاکواپنے مفادات کے چکنا چورہونے کاخدشہ ہوا،فوراً سیزفائرکااعلان کردیا گیا۔ یقینااس سیزفائرمیں خطے کے ممالک کی کوششیں بھی شامل ہیں۔ 24 جون2025ء کو ٹرمپ کی ثالثی میں، ایران اوراسرائیل نے 12روزہ تباہ کن جھڑپوں کے بعدجنگ بندی منظور کی۔ دونوں ممالک نے عہدکیاکہ پہلے ایران میزائل حملے روکے گا اور12گھنٹوں کے بعد اسرائیل بھی کارروائیاں بندکرے گا۔
سیزفائرکااعلان دراصل ایک سیاسی تدبیر تھی تاکہ خطے میں امریکی مفادات مزیدخطرے میں نہ پڑیں۔یہ سیزفائراس حقیقت کابھی مظہرہے کہ طاقت کااستعمال ہمیشہ حل نہیں ہوتا۔ جیسے ہی امریکاکواپنے مفادات کے چکناچورہونے کاخدشہ ہوا،فوراسیزفائرکااعلان کردیاگیاجیسے کوئی آگ لگانے کے بعدپانی کے بہانے سے خودکومعصوم ثابت کرناچاہے۔
حالیہ رپورٹس کے مطابق،امریکانے ایران کے ایٹمی مراکزپرحملے کیلئے اپنے اسٹریٹیجک بی ٹوسٹیلتھ بمبارکومشن پربھیجاتومبینہ طورپریہ طیارے بھارت کے راستے یابھارتی فضائی حدودوسہولیات استعمال کرکے ایران تک پہنچے۔اس خبرپرتاحال بھارت کی طرف سے کوئی باضابطہ تردیدسامنے نہیں آئی، جوسفارتی اصطلاح میں اکثر ’’خاموش تائید‘‘ سمجھی جاتی ہے۔اگریہ اطلاع درست ہے، تو بھارت نے امریکااوراسرائیل کے ساتھ مل کرایران کے خلاف ایک عملی جنگی کارروائی میں سہولت فراہم کی ہے۔
اگربھارت واقعی امریکی حملے میں شریک رہا یا سہولت کاربنا،تویہ بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ساتھ ہی،اس بھارتی کردار کے علاقائی سلامتی پرخطرناک اثرات مرتب ہوئے ہیں،یہ جنوبی ایشیااورمشرقِ وسطی میں ایک نئے سردجنگی ماحول اور اعتمادکے ٹوٹنے کی نشاندہی کرتاہے۔اسرائیل، امریکا اوربھارت کے مابین یہ خفیہ تعلقات اور کارروائیاں صرف سیکورٹی یاعسکری مسئلہ نہیں،بلکہ عالمی سفارت کاری،مسلم دنیا کے اتحاد،اورخطے کے توازن کیلئے ایک شدید خطرہ بن چکے ہیں۔
یادرکھیں جب نظریہ مضبوط ہو،جب قوم فکری بلوغت رکھتی ہو،تواس کاسامناصرف بموں سے نہیں،فہم وفراست سے بھی نہیں کیاجا سکتا۔ سیزفائر کے بعداب اسرائیل کے جانی ومالی نقصانات کی تفصیلات بھی سامنے آرہی ہیں۔ تقریباً 172 مقامات پرایرانی میزائلوں نے نقصان پہنچایا جس میں28سے زائدہلاکتیں ہوئیں اورہزاروں افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔نصف درجن سے زائدعمارات شدیدمتاثرہوئیں،اسپتال زخمیوں سے بھرگئے،اورمتعددمسافروشہری محفوظ ٹھکانوں میں منتقل ہوئے۔ایرانی میزائل نے 19جون کو بیئرشبہ کے ہسپتال اور ’’سوروکا میڈیکل سینٹر‘‘ کونشانہ بنایا،جس میں50سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ اسپتال کے ایک حصے میں کیمیائی موادکااخراج بھی ہوامگرمریضوں کی بروقت منتقلی نے بڑے انسانی جانی نقصان کوروکا ۔
ایران اسرائیل جنگ کے دوران ایک مرتبہ پھرعالمی ردعمل میں واضح دوغلے پیمانے اور ڈھٹائی کو ایک مرتبہ پھردیکھاگیا۔امریکا نے اسرائیل کی پشت پناہی جاری رکھی،اپنے بحری بیڑے مشرقِ وسطی روانہ کیے اورایران پر مزید پابندیوں کی دھمکی دی۔یورپ نے امن کی اپیل کی مگراسرائیل کے ایٹمی حملے پرخاموشی اختیارکی لیکن اس کے برعکس چین وروس نے ایران کی مزاحمت کوجائز قراردیااوراسرائیل پرتنقیدکی جبکہ اقوام متحدہ نے صرف ’’تحمل‘‘ اور ’’مذاکرات‘‘کی اپیل پر اکتفا کیا،کوئی عملی قدم نہیں اٹھایااورہمیشہ کی طرح امریکا اورمغرب کی لونڈی کے کردارکوبرقراررکھا۔دوسری طرف امریکی ویورپی میڈیااسرائیل کے مظالم کویا تو چھپاتا ہے یاان کاجوازگھڑتاہے۔اسرائیل کا ظلم، فلسطینیوں کی شہادت،اور انسانی حقوق کی پامالی، عالمی میڈیا میں محض عددبن کررہ جاتے ہیں۔ ایران کا موقف،مزاحمت کی آواز،عالمی میڈیامیں دبائی جاتی ہے یا مسخ کرکے پیش کی جاتی ہے۔
انقلاب صرف جغرافیہ نہیں، نظریہ بھی ہوتا ہے ۔ آج ایران تنہانہیں،بلکہ وہ ایک بیانیہ ہے‘ ایک انکارہے؛ایک مزاحمت ہے۔اگرچہ وہ معاشی وعسکری لحاظ سے امریکایااسرائیل کاہم پلہ نہیں، لیکن عزمِ صمیم، فکری خودداری اوردینی بالادستی کاعلم بلندکیے ہوئے ہے۔ جس انقلاب نے ایک سفارت خانے سے امریکا کونکالا،وہ آج بھی عالمی طاقتوں کواپنی زبان پرقابو رکھنے پر مجبور کررہا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ طاقت کاپلڑا ہمیشہ اس کے پاس نہیں رہتاجوتلواررکھتاہے،بلکہ اس کے پاس ہوتاہے جونظریہ رکھتاہے۔
یہ جنگ باروداورمیزائلوں کی نہیں، افکار، تہذیب اورنظریات کی جنگ ہے۔ایک طرف سامراجی سرمایہ دارانہ نظام ہے جوطاقت کو حق کی بنیادسمجھتاہے،دوسری طرف مزاحمت کی وہ شعوری طاقت جوامام خمینی،مودودی،اورحسن نصراللہ جیسے مفکرین کی رہنمائی میں آزادی کانعرہ بن چکی ہے۔
ایران وامریکاو اسرائیل کی یہ کشمکش صرف تیل، اسلحے یاایٹمی پلانٹس کی جنگ نہیںیہ فکروتہذیب کی جنگ ہے۔یہ جنگ استقلال اور استعمار کے درمیان ہے۔ایران واسرائیل و امریکا کی یہ کشمکش محض فوجی یامعاشی نہیں،بلکہ تہذیبی اورفکری جنگ ہے۔ایک طرف مغرب کی سیکولر، لبرل اورسرمایہ دارانہ سوچ ہے، اوردوسری طرف ایران کاانقلابی،اسلامی،اور مزاحمتی بیانیہ۔ ایران آج بھی معاشی مشکلات،عالمی تنہائی، اورعسکری دباکے باوجوداپنے نظریاتی مؤقف پرڈٹاہواہے۔
ایران اپنی معاشی،عسکری اورسیاسی تنہائی کے باوجودجس فکری صلابت اورنظریاتی عزم کا مظاہرہ کررہاہے،وہ محض حکمتِ عملی نہیں بلکہ ایک تہذیبی نظریہ ہے ایک ایسانظریہ جو صداقت ، استقامت اورآزادی کے نام پروقت کی سپرپاورز کو للکار رہاہے۔اگر حق وباطل کی کشمکش نہ ہو، تو تاریخ کاوجودبے معنی ہوجائے۔یادرہے کہ قومیں زندہ رہتی ہیں عقیدے سے، اسلحے سے نہیں۔یہ دنیا ایک دارالامتحان ہے،یہاں ظاہری کامیابی اصل کامیابی نہیںاصل کامیابی نظریہ کی بقاء ہے۔

یہ بھی پڑھیں