Search
Close this search box.
اتوار ,07 جون ,2026ء

فیض احمد فیض عا لمی انسان دوستی کا استعارہ

بڑا ادیب یا شاعر قومی سرحدوں سے نکل کر پار کی دنیائوں کی سطح پر انسانی رشتوں پر بات کرتاہے ۔ جب ہم فیض احمد فیض کو پڑھتے ہیں تو محسوس ہوتاہے کہ ہمارے دل کی بات ہی نہیں کرتے بلکہ دنیا بھرکےمظلوموں،محکموں مجبوروں کی صدا ہیں ،ان کی شاعری اور شخصیت آفاقی اقدار کی نمائندہ ہےجو رنگ ،نسل ،مذہب اور زبان سے ماورا ہیں ۔فیض عالمی انسان دوستی کا استعارہ ہیں ۔فیض احمد فیض ’’عالمی ترقی پسند تحریک‘‘ سے وابستہ تھے،جس کے مراکز روس ،ہندوستان، چین ، مصر اور لاطینی امریکہ تک پھیلے ہوئے تھے۔گوکہ فیض کا جھکائو کیمونسٹ نظریات کی جانب تھا، مگر وہ کبھی بھی جبر ، دہشت یاانتقام اورغارتگری کے روادار نہیں تھے،ان کی شخصیت سرمایہ دارانہ نظام کے حق میں نہیں تھی مگروہ مظلوموں کے خلاف ہر طاقت کے زمرے میں انسان کے حق میں تھے۔
1951ء میں جب لیاقت علی خان پاکستان کے وزیراعظم تھے ۔فوجی اور سیاسی عدم اطمینان کی صورت حال کازمانہ تھا۔کشمیر میں جنگ کے بعد فوج پر بےچینی اور اضطراب کی کیفیت طاری تھی ، نوکر شاہی اور سیاسی قیادت بداعتمادی کا شکار تھی ،اس بے چینی کی فضا کے اثرات قلم اور قرطاس کے وارثوں پر بھی طاری تھے،خصوصا ترقی پسند حلقوں میں اطمینان کا فقدان بہت بڑھ چکا تھا ۔اشرافیہ کا فروتر ہوتا اثر و رسوخ عوامی حلقوں میں بھی مزاحمت اور انحراف پیداکر رہا تھا۔ایسی صورت حال میں ریاست کا دعوی تھا کہ ’’کچھ فوجی افسران ، سویلین ،دانشور وں اور ترقی پسند افراد نے حکومت کا تختہ الٹ کر انقلابی حکومت کے قیام کی سازش تیار کی‘‘۔جسے راولپنڈی سازش کا نام دیا گیا اور لیاقت علی حکومت نے میجر جنرل اکبر خان(سازش کے مرکزی کردار)ان کی اہلیہ نسیم اکبر،فیض احمد فیض جو اس وقت ’’پاکستان ٹائمز ‘‘ اخبار کے ایڈیٹر تھے، ترقی پسند دانشور ساجدہ زیدی کو گرفتار کر کے پابند سلاسل کردیا۔
راولپنڈی سازش کیس میں قید کے دوران بھی فیض صاحب کا رویہ پرسکون ،تخلیقی اور سراسرجمالیاتی رہا،اس دوران ان کی لکھی ہوئی نظم ’’زنداں نامہ‘‘نے انہیں عالمی سطح پر شہرت دوام سے ہمکنار کیا جو آج بھی ضمیر کے قیدی شاعروں کی مزاحمتی شاعری میں منفرد سمجھی جاتی ہے ۔فیض کی شاعری محبت ،مزاحمت اور عالمی امن کا بیانیہ گردانی جاتی ہے ۔فیض صاحب نے اردو شاعری میں ’’عشق‘‘کو ایک نیا اور آفاقی آہنگ دیا ۔ ان کی شاعری میں ’’محبوب‘‘فقط ایک عورت نہیں بلکہ قوم و ملت اور انسانیت کا استعارہ ہے ۔’’مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ‘‘ ایک ایسی نظم تھی جو ذاتی محبت سے عالمگیر محبت کے ارتقاء کے فکری رجحانات کاتناظرثابت ہوئی۔فیض احمد فیض نے فلسطین ،ویت نام ،جنوبی افریقہ،چلی ،ایران اور افغانستان کے مظلوموں کے حق میں نظمیں لکھیں ۔فلسطینی جدوجہد پرلکھی گئی ان کی نظم ’’پھر ہمیں قتل کرو‘‘اقوام متحدہ کے فورم پر پڑھی گئی۔فیض کی شاعری میں موسیقیت اور لسانی کوملتا ایسی ہے کہ جودل کو موہ لیتی ہےدماغ کوفتح کرلیتی ہے،جذبوں کو مخمور کردیتی ہے ۔ان کی شاعری کا نہ صرف انگلش بلکہ دنیا کی بہت ساری زبانوں میں ترجمہ کیا گیا ہے۔فیض صاحب کو 1962ء میں لینن امن ایوارڈ ملا ،جو روس کی طرف سے ان کے اعزاز میں پیش کیا گیا۔
عرب ،افریقہ اور لاطینی امریکہ کے انقلابی رہنمائوں کے علاوہ نیلسن منڈیلا تک نے ان کی شاعری کےاعجاز کو سراہا۔فیض احمد فیض کی شاعرانہ رفعت عالمی سطح کے عظیم ترین شعراسےفکری ہم آہنگی رکھتی ہےاورانکا نام چلی کے نامور شاعرپابلو نیرودا،،فلسطین کے مزاحمتی شاعرمحموددرویش اور ترکی کے انقلابی شاعر ناظم حکمتاور بنگال کے دنیا کے سب سےبڑے ادبی ایوارڈ ’’نوبل پرائز‘‘سےنوازے گئے شاعر ٹیگورجیسے شہرت یافتہ شعرا کے ساتھ لیا جاتا ہے ۔فیض عشق و محبت ،درد و غم،اور مظلوم انسانیت کی توانا آواز ہیں وہ جور و ستم اور جارحیت کے خلاف کی گئی جدو جہد کو جمالیات کے پیرائے میں بیان کرتے ہیں وہ فقط ہمارے ہی نہیں اقوام عالم کی شعری تہذیبی وراثے کے امین ہیں ،عالمگیر سطح پر امن ، مزاحمت اور عظمت انسانی کی آفاقی عزیمت کے نمائندہ شاعر ہیں ،جن پر اردو ادب کو ناز ہے ۔

یہ بھی پڑھیں