Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

توہین رسالت،انکوائری کمیشن پر اعتراض کیوں؟

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس جناب سردار اعجاز اسحاق خان کی جانب سے سوشل میڈیا پر مقدس ہستیوں بالخصوص حضور ﷺ کی توہین پر مبنی بدترین گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث مجرمان کے خلاف درج مقدمات کے متعلق انکوائری کمیشن بنانے کے حوالے سے متنازع فیصلے کے بعد بعض حلقوں کی جانب سے یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ ’’انکوائری کمیشن کی مخالفت کیوں کی جارہی ہے؟ ‘‘۔ یہ سوال اہم ہے اور اس کا جواب سمجھنا ضروری ہے۔ سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث گستاخوں کو گرفتار کرنے کا سلسلہ جولائی 2021ء سے اسلام آباد ہائیکورٹ کے اس وقت کے جج جسٹس عامر فاروق کے حکم پر شروع ہوا۔بعدازاں لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس چوہدری عبدالعزیز صاحب نے بھی ایک پٹیشن پر ایف آئی اے کو بڑی سختی کے ساتھ اس بات کا پابند کیا کہ گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث کوئی ایک مجرم بھی قانون کی گرفت سے نہیں بچنا چاہیے۔اسلام آباد ہائیکورٹ اور لاہور ہائیکورٹ کے مذکورہ ججز صاحبان کے مسلسل احکامات و معاملے کی نگرانی کی وجہ سے ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ نے سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیر میں ملوث گستاخوں کے خلاف مئوثر کارروائی کرتے ہوئے جولائی 2021ء سے لے کر اب تک ملک بھر میں 117مقدمات درج کرکے 448 گستاخوں کو گرفتار کیا۔اب یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ مذکورہ گستاخوں کے خلاف 2021ء سے مقدمات ٹرائل کورٹس میں زیر سماعت ہیں۔جن میں سے چالیس گستاخوں کے خلاف مقدمات کی سماعت مکمل ہونے پر 38 گستاخوں کو سزائے موت جبکہ دو گستاخوں کو عمر قید کی سزائیں سنائی جاچکی ہیں ۔ اب تک کوئی ایک گستاخ بھی خود کو عدالت کے سامنے بے گناہ ثابت نہیں کر سکا۔
مذکورہ تمام زیر حراست گستاخوں کے خلاف ریکارڈ پر موجود شواہد اس قدر سنگین اور مضبوط ہیں کہ سندھ میں زیر حراست گستاخوں کے علاوہ ملک بھر میں زیر حراست گستاخوں میں سے کسی ایک گستاخ کی درخواست ضمانت بھی ٹرائل کورٹ سے لے کر سپریم کورٹ تک منظور نہیں کی گئی۔جبکہ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ ہماری عدالتوں کے ججز کی اکثریت سیکولر اور لبرل ہے۔اس نوعیت کے مقدمات میں ان کی ہر ممکن کوشش ہوتی ہے کہ ذرہ برابر بھی کوئی ایسا نکتہ ملے کہ جس کا فائدہ اٹھا کر گستاخ کو ریلیف دیا جاسکے۔مگر ان مقدمات میں سیکولر اور لبرل ججز بھی گستاخوں کو کوئی ریلیف اس لئے نہ دے سکے کہ ان کے خلاف مضبوط شواہد ریکارڈ پر موجود ہیں۔(سندھ ہائیکورٹ سے بعض گستاخوں کی ضمانت منظور ہوئی۔سندھ ہائیکورٹ کے دو ججز صاحبان نے گستاخوں کی درخواست ضمانت آئین و قانون کی روشنی میں نہیں بلکہ اپنے ’’نظریہ‘‘کی روشنی میں منظور کیں)۔ اس نکتے کو سمجھنے کے بعد اب اصل معاملے کی طرف آتے ہیں.جب مذکورہ گستاخوں کو کوئی ریلیف عدالتوں سے نہیں مل رہا تھا تو پھر مذکورہ مقدمات کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنے اور مذکورہ مقدمات کو متنازع بنانے کے لئے اسپیشل برانچ پولیس پنجاب سے ایک سورس انفارمیشن رپورٹ(مخبر کی رپورٹ کہ جس کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی) مرتب کروائی گئی.مذکورہ خفیہ رپورٹ اسپیشل برانچ راولپنڈی کی جانب سے مرتب کرکے لاہور بھیجی گئی۔ (اس حوالے سے یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ مذکورہ رپورٹ مرتب ہونے کے وقت اسپیشل برانچ راولپنڈی کے ایک اعلیٰ عہدے پر قادیانی افسر براجمان تھی۔ ) اسپیشل برانچ کی مذکورہ سورس انفارمیشن رپورٹ خفیہ تھی۔اسے 29 جولائی 2024ء کو امریکہ میں موجود مفرور صحافی احمد نورانی اپنی نیوز ویب سائٹ فیکٹ فوکس کے ذریعے منظر عام پر لایا۔مذکورہ رپورٹ میں یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ راولپنڈی،اسلام آباد میں یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ ’’ایک گینگ لڑکیوں کے ذریعے نوجوانوں کو لڑکی کے ذریعے ٹریپ کرکے توہین مذہب و توہین رسالت کے مقدمات میں پھنسا رہا ہے۔جس کا مقصد مذکورہ ملزمان کی فیملی کو بلیک میل کرکے ان سے مالی فوائد حاصل کرنا ہے۔اسپیشل برانچ کی مذکورہ رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد مذکورہ زیر حراست گستاخوں کی فیملیز نے اسپیشل برانچ کی مذکورہ رپورٹ کے مطابق بیانیہ بنانا شروع کر دیا اور پہلے وفاقی حکومت کو درخواست دی کہ وہ اسپیشل برانچ کی مذکورہ رپورٹ کی تحقیقات کے لئے انکوائری کمیشن تشکیل دے اور پھر اسی دوران مذکورہ گستاخوں کی فیملیز کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی انکوائری کمیشن کے قیام کے لئے رٹ پٹیشن دائر کر دی گی۔جس کی متنازع ترین سماعتیں جسٹس سردار اعجاز اسحاق خان نے کرنے کے بعد 15جولائی 2025ء کو وفاقی حکومت کو حکم دیا ہے کہ ’’وہ ایک ماہ کے اندر انکوائری کمیشن تشکیل دے کہ جو مذکورہ گستاخوں کے خلاف درج تمام مقدمات کی انکوائری کرے‘‘۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جس وقت مذکورہ رٹ پٹیشن اسلام آباد ہائیکورٹ میں زیر سماعت تھی،اسی دوران قومی کمیشن برائے انسانی حقوق نے بھی اپنی ایک رپورٹ جاری کی کہ جس میں اسپیشل برانچ کی مذکورہ سورس انفارمیشن رپورٹ کی توثیق کی گئی۔قومی کمیشن برائے انسانی حقوق اس سے قبل قادیانیوں کے حق میں بھی ایک متنازع رپورٹ جاری کر چکا ہے۔ توہین مذہب و توہین رسالت کے مذکورہ مقدمات کے متعلق قومی کمیشن برائے انسانی حقوق کی مذکورہ رپورٹ کو لاہور ہائیکورٹ خلاف قانون اور یکطرفہ ہونے کی بنیاد پر معطل کر چکی ہے۔اس موقع پر یہ بات بھی انتہائی قابل ذکر ہے کہ مذکورہ گستاخوں کو جھوٹے مقدمات میں پھنسانے کا جو بیانیہ 29 جولائی 2024ء کو اسپیشل برانچ کی مذکورہ رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد مذکورہ گستاخوں اور ان کے سہولت کاروں کی جانب سے پیش کیا جارہا ہے۔اس موقف(یعنی ٹریپ کرکے مقدمات میں پھنسانے وغیرہ)کو کسی ایک گستاخ نے بھی جولائی 2021ء سے لے کر 29 جولائی 2024 ء تک نہ تو تفتیش کے دوران ایف آئی اے کے سامنے اختیار کیا اور نہ ہی ٹرائل کورٹس کے سامنے اور نہ ہی درخواست ضمانتیں دائر کرتے وقت۔اگر ان الزامات میں کوئی صداقت ہوتی تو مذکورہ گستاخوں میں سے کسی ایک گستاخ نے بھی ایسا کوئی الزام اسپیشل برانچ کی مذکورہ8 رپورٹ منظر عام پر آنے سے پہلے کسی بھی قانونی فورم پر کیوں عائد نہیں کیا؟اب مذکورہ سوال کی طرف آتے ہیں کہ ’’اگر مذکورہ گستاخوں کے خلاف درج مقدمات سچے ہیں تو پھر انکوائری کمیشن کی مخالفت کیوں کی جارہی ہے؟‘‘ یہاں اصل سوال تو یہ ہے کہ ’’مذکورہ گستاخوں کے رشتہ داروں اور سہولت کاروں کی جانب سے انکوائری کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیوں کیا جارہا ہے؟‘‘ ۔ مذکورہ دونوں سوالات کے جوابات دیکھتے ہیں۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں