میرا دماغ مائوف ہے ،میں سوچنے سے عاری ہوچکا ہوں،میں 64 سالہ پیر تسمہ پا،جس کے دست بازو میں اتنی طاقت بھی نہیں کہ اپنے قلم سے روانی سے عبارت تحریر کروں اس لئے لیپ ٹاپ پر انگلیوں سے بصد مشکل ہر روز اپنے جذبات و احساسات رقم کرتا ہوں۔
آج تو میں کسی جذبے اور احساس سے لیس نہیں ہوپا رہا مگر شیتل کا ایک جملہ ہے جس نے میری رگوں میں دوڑتے لہو میں ایک ہل چل مچادی ہے مجھے لکھنے کی ہمت بندھا دی ہے ۔ ’’صرف گولی مارنے کی اجازت ہے‘‘ وہ اتنی غیرت مند بیٹی تھی کہ اس نے قاتلوں کے آگے چہرہ کشائی سے بھی انکار کردیا۔ اس لئے کہ وہ ایک با پردہ وباوقار عورت تھی ،جس نے آیامرد سے نکاح کیا تھا ،وہ اس کی عزت تھی ،اسے اس کے دین و مذہب نے اپنی پسند کی اجازت مرحمت فرمائی تھی ،وہ حق پر تھی ، سچ پر تھی اس نے کوئی گناہ نہیں کیا تھا اور اگر اس سے کوئی جرم سر زدہوا تھا تو اس کے لئے اس کے ملک کا قانون موجود تھا ،عدالتیں موجود تھیں ۔ جن میں اس پر مقدمہ چلایا جاتا وہ جوسزا دیتیں وہ اس پر لاگو ہوتی مگر اس نے کوئی گناہ تو کیا ہی نہیں تھا، اس نے زنا نہیں نکا ح کیا تھا وہ نکاح جس کی اجازت اللہ اور اس کے آخری نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اسے دی تھی ۔
فارم 47 کے ذریعے اقتدار پرشب خون مارنے والے حکمرانو!تمہارے ایوانوں میں تو قوم کی بہو بیٹیاں اشتہارات کی مثل چاروں اور بکھری ہوئی ہیں ۔ تم نے اور تمہارے گماشتوں نے اپنے ہر سو ایسی عورتیں جمع کی ہوئی ہیں جن کی دس دس گز کی زبانیں ہیں جن سے وہ ایونوں میں اور ایوا نوں سے باہر جلسے جلوسوں میں مردوں کے خلاف دشنام درازی کرتی ہیں ،ان کے منہ سے نکلے حیا سوز باحیا مردوں کو بھی کانوں پر ہاتھ رکھنے پر مجبور کر دیتے ہیں ۔
تمہاری ریاست میں دن دیہاڑے لوگوں کی بہو بیٹیاں اٹھا لی جاتی ہیں ،ان کے لواحقین سالہا سال عدالتوں میں تاریخیں بھگتاتے رہتے ہیں مگر تمہاری عدالتیں انہیں انصاف نہیں دے سکتیں ، لوگوں کی عزتوں اور عفتوں کا تحفظ مہیا نہیں کر سکتیں اس سے بڑھ کر یہ کہ تمہارے آقا امریکہ کی جیل میں سڑتی ایک بیٹی عافیہ تم سے چھڑائی نہیں جاسکی ،تم ایسے بے حمیت کہ اس کی ضمانت پر رہائی کے مچلکوں پر دستخط کرنے سے بھی انکاری ۔ تم نکاح کرکے وقارکی زندگی بسر کرنے والی شیتل کو کیا تحفظ فراہم کرتے تمہاری اسی سنگھاسن پر بیٹھے ایک آمر نے 2006 ء میں انسانی حقوق کی تنظیموں ،خواتین کے لئے کام کرنے والے اداروں اور بین الاقوامی دبائو کے تحت ’’ تحفظ حقوق نسواں‘‘ بل تم سے منظور کرایا جس کی ایک شق یہ تھی کہ ’’زیادتی کیس میں چارگواہوں کی شرط نہیں ہوگی ،عورت مرد باہمی رضامندی سے کہیں موجود ہوں اور زنا ثابت نہ ہو تو ان پر صرف خلوت ناجائز کی ہلکی سزا لگ سکے گی‘‘ اس پر دینی جماعتوں خصوصاً جماعت اسلامی، جمیعت علمائے اسلام نے شدید احتجاج کرتے ہوئے اسے اسلامی قوانین کی پامالی قرار دیا ۔تم اسلامی قانون کی پامالی پر بحیثیت مجموعی اس پر بھی چپ رہے اور غیرت کے نام پر سرعام ہونے والے قتل پر بھی تم پر خاموشی طاری رہتی ہے ،تمہاری عدالتیں منکوحہ عورت کو بھی جینے کا حق نہیں دیتیں ۔
کتنی خوددار تھیں شیتل جس نے سامنے کھڑی موت کو بھی اپنا پاک پوتر چہرہ نہیں دکھایابے حجاب نہیں ہوئی ۔بس اس کا قصور یہی تھا کہ نکاح اپنی پسند کے مرد سے کیا۔کیا یہ عورت کے حقوق کی بے حرمتی نہیں ہے ؟ پھر دینی یا دینی اسلامی جماعتیں کیوں چپ ہیں ؟ مدارس کے طلبا کوسانپ کیوں سونگھ گیا ہے ؟قاتلوں سے یہ کہنے والی شیتل ’’صرف گولی مارنے کی اجازت ہے‘‘ ایک عورت نہیں تھی،ایک بیٹی اور ایک بہن نہیں تھی ،ایک عزت دار بیوی نہیں تھی جس نے نا محرموں کو اپناچہرہ نہیں دکھایا اپنے محرم کی عزت پر قربان ہوگئی ۔ایسا ہونے سے پہلے ہمارا قانون حرکت میں کیوں نہیں آتا ہماری عدالتیں بے اختیار کیوں دکھائی دیتی ہیں ؟ ریاستی ڈھانچہ کیوں متزلزل نہیں ہوتا ،حکومت ہل کیوں نہیں جاتی ؟
فقط سوچنے والوں کے دماغ مائوف ہوجاتے ہیں ،ہاتھ لرز ضرور جاتے ہیں مگر قلم دروغ مصلحت آمیز کا شکار نہیں ہوتے ۔ان حکومتی قصیدہ نگاروں کی طرح جو حکمرانوں کے چھوٹ کو سچ ٹائٹ کرنے کے لئے ایسے ایسے خیالی نقش تراشنے ہیں کہ جن کے سامنے حقیقی مرقعے بھی مات کھا جاتے ہیں ۔ان جمہوری حکمرانوں سے اچھا تو وہ آمر تھا جس نے انہیں بزرجمہروں سے حقوق نسواں بل پر دستخط کر والئے ،ہاں مگر مقتدرہ آج بھی اتنی ہی مضبوط و مستحکم ہے مگر سچ کا آئینہ دیکھنے سے عاری۔