انصاف کی تلاش انسان کی تہذیبی و تمدنی اور فکری خواہش رہی ہے کہ کوئی بھی معاشرہ انصاف کے بغیر قائم نہیں رہ سکتا۔حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا تھا ’’ حکومت ظلم کے ساتھ تو قائم رکھی جا سکتی ہے مگر ناانصافی کے ساتھ نہیں‘‘
یونان کے ارسطو اور افلاطون ہوں یا ہندوستان کے اشوک ،خلافت راشدہ کے قاضی ہوں یا بر طانوی نوآبادیاتی سامراجی نظام ،ہر دور میں عدل و انصاف کے تصورات میں تغیر و تبدل تو ہوتے رہے مگر اس کی اہمیت میں کمی نہیں ہوئی۔ترقی پذیر ممالک، جن کا عدالتی نظام ہمیشہ طاقتور قوتوں کے دبائو کے زیر اثر رہا ہے وہاں ایک سوال آج بھی بہرصورت موجود ہے کہ ان کے معاشرے میں انصاف کو بالادستی کب حاصل ہوگی ؟ لوگوں کو انصاف کب اور کیسے مہیا ہوگا؟اسی کیسے اور کب کا جواب Artificial Intrlligenceمیں ڈھونڈا جارہا ہے ۔
2023 ء میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے ’’مصنوعی ذہانت‘‘کے سافٹ ویئرز کو عدالتی انتظام وانصرام کا حصہ بنایا گیا۔ججز حضرات نے chatgpt اور اس طرز کے دیگر جدید ذرائع سے استفادہ شروع کیا۔ لاہور ہائیکورٹ میں بھی مصنوعی ذہانت کی مدد سے فیصلوں کا خودکارخلاصہ تحریر کرنے کا نظام متعارف کروایا گیا جو اس امرکی جانب صریحاً اشارہ تھا کہ پاکستان کے عدالتی ادارے جدید ٹیکنالوجی پر انحصار کرنے پر آمادہ ہوگئے ہیں ۔
ہمارا عدالتی نظام جو آغاز ہی سے سست روی اور سہل پسندی کا شکار رہا ہے چھوٹی ،بڑی سب عدالتوں میں بعض دفعہ ہزاروں نہیں لاکھوں مقدمات کی فائلز رکی رہ جاتی ہیں ، معمولی مقدمات کے فیصلے سالہا سال تک سنائے ہی نہیں جاسکتے۔ اب یہ ہوگا کہ مقدمات کو خودکار طریقے سے ترتیب دیا جاسکے گا اور فیصلے فقط اردو اور انگلش ہی نہیں دیگرزبانوں میں ترجمہ کرکے عام شہریوں کے فہم و ادراک کے قابل بنائے جاسکیں گے۔
جبکہ ججز بھی قانونی نکات کی درجہ بندی کو جدید طریقوںسے مرتب کرکے مقدمات کے فوری فیصلوں تک آسان رستوںسے پہنچ سکیں گے۔اس طرح مقدمات میں روا رکھی جانے والی روایتی کاہلی کا ازالہ ہوگا۔اس سے بڑھ کر یہ کہ ججز صاحبان کا زیادہ وقت خرچ نہیں ہوگا فیصلے لکھنے میں دقت نہیں رہے گی صرف یہی نہیں بلکہ وکلا حضرات کو دلائل کی تیاری میں آسانی ہوجائے گی۔جس کا عوام کو بے بہا فائدہ ہوگا کہ وہ تھانے کچہری کے چکروں سے جلد جان چھڑانے کے قابل ٹھہریں گے۔مصنوعی ذہانت سے استفادے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ عدالتی نظام میں شفافیت دکھائی دے گی اور عدل و انصاف پر انگلی نہیں اٹھائی جا سکے گی۔
تاہم ہر نئی ایجاد اور دریافت کچھ نئے سوالات بھی اپنے اندرلئے ہوتی ہے ۔یہی سوال مصنوعی ذہانت کے حوالے سے پیدا ہوگا کہ یہ انسانی جج کی طرح معاشرتی سیاق و سباق ،انسانی جذبات و احساسات، خصوصاً ثقافتی اور تہذیبی و اخلاقی حساسیت کا اندازہ کیسے لگا پائے گی ؟کسی بھی وجہ سے مصنوعی ذہانت سے سرزد ہوجانے والی غلطی کا ذمہ دار کسے ٹھہرایا جائے گا ؟ اس جدید عدالتی نظم پر قابو کیسے پایا جائے گا اس سب سے بڑھ کر یہ کہ مصنوعی ذہانت پر اعتماد کا وہ انحصار ممکن ہوگاجو ایک جج پر بجا طور پر کیا جا سکتا ہے ؟مصنوعی ذہانت پر منحصر عدالتی نظم ایک یکسر عدالتی نظام نہیں ہوگا بلکہ ایک مدد گار کی حیثیت کا حامل ہوگا کہ جو عدل و انصاف کے اصل مقصد اور فلسفے پر اثر انداز نہ ہو ۔
اس نظام کے نفاذ یا اجرا سے قبل ایک قانونی پالیسی مرتب کرنی ہو گی جس میں AI کی حدود اورقانونی حیثیت طے کی گئی ہو۔تمام تر عدالتی ریکارڈ کو ڈیجیٹلائز کیا جانا ہوگا ۔قانونی ماہرین ہی نہیں اخلاقی اقدار کے فلسفہ پر کامل دسترس رکھنے والے دانشوروں ماہرین نفسیات وغیرہ کا بورڈ یا کمیشن ترتیب دیاجانا ہوگا جس میں آئی ٹی کے ماہرین بھی شامل ہوں ۔علاوہ ازیں ایک ایسا شعبہ ہو جس کے ماہرین مصنوعی ذہانت پر عام آدمی کا اعتماد علم و آگہی کے ذریعے بحال کریں۔ تب ہی جدید ٹیکنالوجی سے استفادے کا مقصد پورا ہو سکے گا۔