Search
Close this search box.
اتوار ,07 جون ,2026ء

خالصتان، عالمی سیاست اور امریکی موقف

اقوامِ عالم کی تاریخ گواہ ہے کہ کسی بھی علیحدگی پسند تحریک کا بین الاقوامی سطح پر اعتراف صرف زمینی حقائق یا سفارتی دبائو کی بنیاد پر نہیں ہوتا بلکہ اس کے پیچھے کئی جہتوں پر مشتمل تاریخی، معاشی، ثقافتی اور اسٹریٹجک عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ بیسویں صدی کے وسط سے لے کر آج تک دنیا نے درجنوں علیحدہ ریاستوں کے وجود کو ابھرتے اور ڈوبتے دیکھاچاہے وہ مشرقی تیمور ہو، جنوبی سوڈان یا پھر حالیہ برسوں میں فلسطین و کردستان کی جزوی پہچان۔
خالصتان تحریک، جو بھارتی پنجاب میں سکھ اکثریتی علاقے کے لیے ایک علیحدہ ریاست کے قیام کا مطالبہ کرتی ہے، 1980 ء کی دہائی میں ایک خونی باب کے طور پر ابھری۔ بھارتی ریاست اور خالصتانی علیحدگی پسندوں کے درمیان تصادم نے ہزاروں جانیں نگل لیں، اور 1984 ء کا آپریشن بلیو اسٹار و اندرا گاندھی کے قتل جیسے واقعات نے اس تحریک کو دنیا کی توجہ کا مرکز بنا دیا۔ تاہم، وقت کے ساتھ یہ تحریک بیرونِ ملک، خصوصا کینیڈا، برطانیہ اور امریکا میں موجود سکھ ڈائسپورا میں منتقل ہو گئی۔یہیں سے بین الاقوامی سیاست، خاص طور پر امریکا کا کردار موضوعِ بحث بن گیا ۔
امریکہ جو ایک جانب خود کو جمہوری اقدار کا علمبردار سمجھتا ہے، وہیں سفارتی و معاشی مفادات کے تحت اکثر پیچیدہ اورمتضاد کرداربھی اپناتارہا ہے۔ ایسے میں جب خالصتان تحریک کے رہنما کا ایک خط’’ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نام‘‘منظرعام پر آتا ہے، تو سوالات کااژدہام کھڑا ہوجاتا ہے:کیا یہ محض ایک رسمی خط ہے؟کیا یہ بھارتی خودمختاری کے خلاف خاموش سفارتی دھچکہ ہے؟یا پھر یہ عالمی سطح پر کسی نئی سفارتی صف بندی کا اشارہ ہے؟ سطحی اخباری رپورٹنگ سے آگے بڑھ کر، تاریخ، سفارت، عالمی قانون، اور سیاسی حرکیات کی روشنی میں اس سوال کا تحقیقی و فکری جائزہ لینا ضروری ہے کہ کیا صدر ٹرمپ نے واقعی خالصتان کو تسلیم کرلیا ؟
عالمی سفارتکار ی میں بعض دفعہ ایک جملہ، ایک خط یا ایک تصویر پوری دنیا میں سیاسی سفارتی تہلکہ مچادیتی ہے ۔ایسا ہی کچھ امریکی صدر ٹرمپ کے سابقہ دور اقتدار میں ہوا جب خالصتان تحریک کے ایک سرگرم رہنما گرپتونت سنگھ پنوں کو ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے لکھاگیا ایک خط عالمی افق پر میڈیا کی سطح پر رونما ہوا اور بھارت میں غم و غصے کی شدید لہردوڑ گئی ۔سوشل میڈیا پر ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا ۔مبصرین اور تجزیہ نگاروں نے آسمان کے قلابے ملائے اور استفسار کیا کہ آیا خط خالصتان تحریک کے لئے کسی رسمی یا غیر رسمی بین الاقوامی تائید کی علامت ہے؟ یا محض امریکی قانون کے دائرے میں ایک شہری کے ساتھ روایتی اخلاقی مراسلت کا شاخسانہ ہے ؟یہ معاملہ عام نوعیت کا ہرگزنہیں تھاکیونکہ ’’خالصتان‘‘ فقط ایک سیاسی نعرہ یاتحریک کانام نہیں بلکہ برصغیرکی تاریخ میں رقم ہونے والا ایسا لہو رنگ باب ہے جس نے 1989 ء کی دہائی میں مشرقی پنجاب کے درو دیوار ہلا دیئے۔
اور اب جبکہ تحریک کا محورمیدان کی بجائے مائیک ،ای میل اور آن لائن ریفرنڈم کی شکل میں تبدیل ہوچکا ہے ،تو ایسے میں کسی امریکی بیانیے یا سمبالک اقدام کو بھارتی خودمختاری ،سفارتی حساسیت اورسکھ ڈائسپورا کی پہچان کے آئینے میں جھانکنا ناگزیر ہوگیا ہے۔سوال محض اتنا نہیں کہ ٹرمپ نے کیا کہا ؟ بلکہ یہ ہے کہ کیوں کہا ؟ کس وقت کہا اور کس تناظر میں کہا ؟اس موضوع پر بات کرنا کچھ سچ تلاش کرنے کی جستجو ہے ۔
خالصتان تحریک کی بنیاد1970 دہائی کے آخر اور 1980 کی دہائی کے شروع میں اس وقت رکھی گئی جب سکھ قوم پرستی اپنے عروج پر تھی۔تحریک کا سب سے بڑا اور اہم مطالبہ ’’سکھ ریاست‘‘ کا قیام تھا ۔اس راہ میں سب سے پہلا خون ریزی کا باب 1984ء میں لکھا گیا۔جب بھارتی فوج نے ’’آپریشن بلیو سٹار‘‘ کے تحت امرتسر کے’’گولڈن ٹیمپل‘‘ کی بے حرمتی کی اس موقع پرسینکڑوں افراد کےلہو کی ہولی کھیلی گئی۔جس کے ردعمل میں وزیراعظم اندرا گاندھی کو ان کے سکھ محافظوں نے موت کے گھاٹ اتار دیا اور ملک بھر میں سکھ مخالف فسادات چھڑگئے۔پھر یہ ہوا کہ خالصتان تحریک بھارتی سرحدیں عبور کرتی ہوئی کینیڈا ،برطانیہ پہنچ گئی۔ امریکہ میں آباد لاکھوں سکھوں نے تحریک کی باگ ڈور اپنے ہاتھ لے کر اسے نئی زندگی سے آشنا کیا۔
سکھزفارجسٹس (SFJ)جیسی تنظیموں نےمختلف ملکوں میں ریفرنڈم ،احتجاج اور آن لائن مہمات کےذریعے تحریک کوشعلہ باربنادیااور’’خالصتان‘‘کے قیام کےلئےبین الاقوامی سطح پرکوششیں شروع کردیں۔تاہم صدرٹرمپ کی طرف سےگرپتونت سنگھ پنوں کوبھیجا جانےوالاخط ایک ذاتی شکایت کےجواب کےسواکوئی حیثیت نہیں رکھتاجس میں ٹرمپ نے امریکی آئین کے تحت تمام شہریوں کےتحفظ کےعزم کااعادہ کیا ہے۔اس خط میں یقینا ’’خالصتان ‘‘ کا لفظ موجود تھامگرایسی کسی ریاست کےقیام کااعتراف قطعاً نہیں تھا ،نہ ہی خالصتان کو تسلیم کرنےکا کوئی عندیہ اس خط میں تھااوریہ بھی کہ امریکی سیاست میں اس طرح کی مراسلت کوئی اچنبھانہیں اس طرح معمول کےخطوط تحریر ہوناایک دیرینہ عمل کاحصہ ہےتاہم اس حوالےسےبھارتی میڈیاچیخ چیخ کراپنےردعمل کااظہارکررہا ہےاوراسےامریکہ کامنافقانہ رویہ قراردےرہاہےاسی آڑمیں مودی سرکارکی سفارتی روش کو کمزورکہاجارہاہےجبکہ مودی سرکارابھی تک گہری خاموشی اپنائےہوئےہیں۔ تجزیہ نگاروں کااس امر پر یہ موقف تھاکہ بھارت امریکی انتخابات سےپہلےکسی کھلی محاذ آرائی میں پڑنانہیں چاہتاکہ امریکہ کےساتھ تعلقات میں تنائو پیدا نہ ہوبس اتنی سی بات تھی اس خط کےحوالے سےجو پتنگڑ بنی۔

یہ بھی پڑھیں