سیاسی تحریکیں مٹی میں دفن ہو سکتی ہیں،لیکن نظریات مٹائے نہیں جا سکتے۔حکومتیں آتی ہیں، جاتی ہیں، لیکن بیانیے اپنی جگہ پر موجود رہتے ہیں ۔چاہے ان پر کتنا ہی ملبہ ڈال دیا جائے۔تاریخ ہمیں یہی بتاتی ہے کہ جہاں زبان بند کی جائے، وہاں دل بولنے لگتے ہیں اور جب زبان، دل اور ذہن تینوں چپ ہو جائیں تو وہاں خاموشی ایک سازش نہیں، پیش لفظ بن جاتی ہے،کسی آنے والے سیاسی موسم کا،کسی نئی کروٹ لیتی تاریخ کا۔آج پاکستان کی سیاست ایک ایسی ہی بے چین خاموشی کا سامنا کر رہی ہے۔پاکستان تحریک انصاف، جو کبھی نعروں، دھرنوں اور بیانیے کی حکمرانی سے اقتدار تک پہنچی،آج سیاسی زوال، تنظیمی انتشار، اور ریاستی جبر کی مثلث میں پھنس چکی ہے۔عمران خان، جو کل تک اقتدار کے مرکز میں تھے،آج عدالتی مقدمات، میڈیا بلیک آئوٹ، اور قید و بند کی صعوبتوں کا سامنا کر رہے ہیں۔پارٹی کے بیشتر رہنمائوں نے غیر معمولی خاموشی کی دبیز چادر تان رکھی ہے،اور جو بولتے ہیں، وہ یا تو عدالتوں میں صفائیاں دیتے ہیں یا نئے سیاسی آشیانوں کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔
کارکن کہاں ہے؟پی ٹی آئی کا کارکن کہاں گیا؟جو کل سڑکوں پر تھا، آج گھر کی دہلیز پر کیوں سمٹ گیا ہے؟جو کل نظام کے خلاف للکارتا تھا،آج نظام کے سائے سے بھی گھبرا رہا ہے۔جواب واضح ہے،یہ صرف خوف نہیں ،یہ مایوسی، بے یقینی اور ریاستی دبائو کا وہ ملا جلا کوڑا ہے جو کارکن کی ہمت، حوصلے اور حریت فکر کو روند چکا ہے۔ہزاروں گرفتاریاں،درجنوں لاپتہ کارکن، جھوٹے مقدمات، میڈیا پابندیاں،اور ہر قدم پر شناخت و تعاقب ایسی فضا میں کوئی عام کارکن کیسے خود کو محفوظ سمجھے؟جب لیڈر شپ خود غیر یقینی کا شکار ہو،جب بیانیہ خود دفاعی رخ اختیار کر چکا ہو،جب بے باک آوازیں سرنڈر کر جائیں تو کارکنوں کی زنبیل میں یا تو خاموشی بچتی ہے، یا جلاوطنی۔ کئی لوگ پارٹی سے علیحدہ ہو چکے ہیں،کئی نے نئی وفاداریاں بفل لی ہیں۔یہ وہ وقت ہے جب بیانیے کو راکھ میں بدلنے کی منظم کوشش جاری ہے۔ لیکن راکھ میں چنگاری باقی ہے۔
تاریخ نے بارہا ثابت کیا ہے کہ سیاسی بیانیئے کو جتنا بھی راکھ کا ڈھیر بنا دیا جائے،اس ڈھیر میں ایک چنگاری زندہ رہ جاتی ہے،جو ایک روز شعلہ ضرور بنتی ہے۔یہ چنگاری وقتی طور پر خاموش ہو سکتی ہے،لیکن مایوس نہیں۔یہ کسی پرانی تقریر، کسی یادگار نعرے،کسی جذباتی لمحے یا کسی نئی ناانصافی کے جھٹکے سے ایک دن پھر بھڑک اٹھتی ہے۔کیا پی ٹی آئی کا بیانیہ ختم ہو گیا ہے؟کیا عمران خان کا سیاسی باب مکمل ہو چکا ہے؟کیا یہ سب صرف ماضی کی ایک یادگار بن کر رہ جائے گا؟یہ وہ سوالات ہیں جو راکھ میں دبی ہر چنگاری کے دل میں سلگ رہے ہیں۔جواب وقت دے گا اور وقت کا قلم ہمیشہ انکار سے نہیں،اقرار سے لکھتا ہے۔سیاست میں نہ کوئی رات ہمیشہ رہتی ہے، نہ کوئی دن مستقل دھکتا رہتا ہے۔وہ کارکن جو آج خاموش ہیں،وہ بیانیہ جو آج مدہم ہے وہ رہنما جو آج پس پردہ ہے ہیںکل سب کچھ پلٹ سکتا ہے۔کیونکہ تاریخ صرف جیتنے والوں کی نہیں ہوتی،بلکہ ان کی بھی ہوتی ہے جنہوں نے ہارتے وقت بھی سچ کا دامن نہیں چھوڑا ہوتا۔اگر آپ سمجھتے ہیں کہ نفرت کی، تشدد کی اور سیاسی انتقام کی آگ سب کچھ جلا دیتی ہے تو یاد رکھیں چنگاری ہمیشہ راکھ کے اندر ہی چھپی ہوتی ہے اور جب وقت آتا ہے،وہی چنگاری ایک نئی سیاست، ایک نیا قافلہ اور ایک نیا سورج بن کرا بھرتی ہے۔ظلم اتنا کریں جتنا آپ بھی سہہ سکتے ہوں ۔
نفرت میں اتنی گنجائش ضرور رکھیں کہ یہ کبھی محبت کا روپ بھی دھارسکے ۔سب ہمارے سامنے کل کے دشمن آج ملکر متحدہ اقتدار کے مزے اڑا رہے ہیں ، اقتدار کا کھیل ہمیشہ آفراط و تفریط کے میدان میں ہوتا ہے ،فتح و شکست کسی کا بھی مقدر بن سکتی ہے،ملک کو جنگل کے قانون کا گہوارہ نہ بنائیں ، دوسروں کو جینے دیں تاکہ آپ کے زندگی گزرنے کی را ہ ہموار ہو ،آپ کی اگلی نسل سکھ کا سانس لے سکے۔