دنیا میں ماحول کو بگاڑ نے والے عوامل کا نوے فیصد حصہ صرف چند صنعتی ممالک کا پیدا کردہ ہے ۔ امریکہ، چین، بھارت ، روس ،یورپی یونین ۔یہ وہ طاقتیں ہیں جنہوں نے فوسل فیول،کارخانوں، گلوبل ٹریڈ اوربے قابو ترقی کے نام پر زمین کوآلودہ کر کے رکھ دیا ہوا ہے۔دنیا کی ماحولیاتی آلودگی میں پاکستان کا حصہ 0.9 فیصد سے بھی کم ہے ، مگر جب موسم بے رحمی پر اترتے ہیں، جب دریابپھرتے ہیں اور شدید بارشیں کچے گھروندے ہی نہیں بستیاں کی بستیاں اپنے ساتھ بہا لے جاتی ہیں اور جب گرمی کی حدت یعنی درجہ حرارت 52درجے سے اوپر چلا جاتا ہے توبارشیں کیلنڈر بھول جاتی ہیںاور سب سے زیادہ بربادی کا شکار پاکستان ہوتا ہے ۔کسے یاد نہیں ہوگا کہ 2022ء کے بدترین سیلاب کے دوران سترہ سو سے زیادہ اموات ہوئیں، 3کروڑ سے زیادہ افراد متاثر ہوئے،لاکھوں گھر،پکی فصلیں، مویشی،سکول اورہسپتال صفحہ ہستی سے مٹ گئے، اوریہ سب کچھ صرف آٹھ ہفتوں میں ہوا۔
جیکب آباد، نواب شاہ اور سبی میں درجہ حرارت 52 اور 53تک جا پہنچا،جو انسانی جسم کی برداشت کی حدوں سے ماورا ہے اور زندگی کے لئے ہلاکت خیز ہے۔ چترال سے چولستان تک بر ف پگھلنے کا نظام تہہ و بالا ہو گیا،کئی دریا وقت سے پہلے پایاب ہوگئے اور جو بچا کھچا پانی آیابھی تو اپنے ساتھ تباہی و بربادی لئے آیا۔گندم ، کپاس،چاول اور دیگر فصلیں موسم کی مرضی کی محتاج ٹھہریں ۔ کبھی وحشی بارش ، کبھی بے وقت گرمی اورکبھی کیڑوں کی یلغار، جو اپنے ساتھ مہنگائی، غذائی قلت اورغربت کی نئی لہر قوم کا مقدرلکھنے کے لئے وارد ہوئی۔ ان سب بلائوں کے سدباب کے لئے ہم نے کیا کیا ؟کیا ہم نے شجر کاری کی قومی پالیسی تشکیل دی؟کیا شہروں میں بڑھتے کنکریٹ کے لئے ماحولیاتی زون مرتب کئے؟ کیا ہم نے تعلیمی اداروں میں ماحولیاتی آلودگی کے بارے میں بچوں اور بچیوں کو آگہی دی؟کیا ہم نے واٹر مینجمنٹ، سیلاب سے بچائے یا ری سائیکلنگ سے متعلق کوئی مہم چلائی ؟ان تمام سوالات کا جواب نفی میں ہے ۔ کہ ہم نے پریس کانفرنسز کیں ، تصویری سیشن کئے اور فائلز سے میزوں کی درازوں کا پیٹ بھر دیا۔پھر امید و بیم کے چراغ لئے بیرونی امداد کے انتظار میں بیٹھ گئے۔مگر امیدیں تو اقدام ، شعور اوراجتماعی فیصلوں سے پوری نہیں ہو سکتیں ۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ سکولز میں ماحولیاتی تعلیم کا مضمون لازمی پڑھایا جائے۔درخت لگانے کو قومی تہوار کا درجہ دیا جائے ، شہری آبادیوں میں گرین بیلٹ کا قانون سختی سے نافذکیاجائے۔پانی کے ضیاع پر سزارکھی جائے اور ری سائیکلنگ پر انعامات کا اعلان کیا جائے۔ریاست ،عوام اور میڈیا بیانیے کے اعتبار سے ایک ہی صفحے پر متفق ہوں ۔موسمیاتی تبدیلیاں ہماری بقاء کاسوال ہیں،موسم فقط ایک مجرد معاملہ نہیں ،اس کے ساتھ بہت سارے معاملات منسلک ہیں ۔ہمیں تعمیری سوچوں اور منصوبہ جات تک محدود نہیں رہنا چاہیے، ہمیں بہت دکھ سہہ لینے کی تربیت اور حوصلے کی ترغیب نہیں دی جانی چاہیے ۔اگر ایساہی ہوتا رہا تو ایک وقت ایساآئے گا جب زمین ہم سے کہے گی ’’میں نے تمہارے لئے سونا اگلاتم نے مجھے دھواں لوٹایا اوراب تم میرے رحم و کرم پر ہو‘‘
موسمیاتی تبدیلیاں ایک کائناتی سچ ہیں ہم ان سے آنکھیں نہیں چرا سکتے ،ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر نجات کا راستہ نکال سکتے ہیں ۔کہ اقوام کی بقا اسی میں ہوتی ہے کہ حالات موسمیاتی تبدیلیوں کے ہوں یا وبائی امراض کے ان سب سے نبرد آزما ہونے کے انتظامات کر کے جیئیں۔اسی میں زندگی کا حسن ہے ، انسانیت کی بقاء ہے ۔