ہمارے نائب ناظم کا آپریشن تجویز ہوا، ڈاکٹر نے ان سے سرپرست کا نام پوچھا انہوں نے میرا نام لکھوا دیا۔ اس نے پوچھا، یہ کون ہیں؟ کہا کہ یہ ہمارے روحانی معالج ہیں۔ ڈاکٹر نے تعجب سے پوچھا کہ روحانی معالج کا کیا مطلب؟ کہا روح میں بیماریاں ہوتی ہیں ،آپ جس طرح جسم کے ڈاکٹر ہیں اللہ والے روح کے امراض کے معالج ہیں۔ اس نے کہا، روح میں کیا بیماریاں ہوتی ہیں؟ کہا: روح میں مثلا ًحسد کی بیماری آجانے سے ہر وقت دل جلتا رہتا ہے۔ جس کے ساتھ حسد ہوتا ہے اس کو دیکھتے ہی دل کو تکلیف ہوتی ہے اور یہ بیماری آپ ایکسرے سے نہیں معلوم کرسکتے ۔ پھر اس نے پوچھا کہ پھر علاج کیا ہے حسد کا؟ انہوں نے حضرت حکیم الامت تھانوی کا علاج بتادیا بس حیران رہ گیا اور تسلیم کرلیا۔ حضرت حکیم الامت مولانا تھانوی سے کسی نے حسد کی بیماری کا علاج دریافت کیا،حضرت والا نے یہ علاج تجویز فرمایا تھا جس کے ساتھ حسد ہے اس کے ساتھ یہ یہ کام کرو،جب ملاقات ہو سلام میں سبقت یعنی پہل کرو۔ جب سفر میں جائو تو اس سے مل کر جائو اور اس کے لئے دعا کرتے رہو۔جب سفر سے واپس آئو اس کے لئے کچھ تحفہ بھی لائو(ہدیہ سے محبت بڑھتی ہے)کبھی کبھی اس کی دعوت کردیا کرو اور کبھی چائے اور ناشتہ کرادیا کرو۔
ملفوظاتِ حکیم الامت مجدد الملت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی مزید فرماتے ہیں کہ ارشاد فرمایا کہ ایمان اور اس کے سب فروع اور شریعت کا تو ہر جزو ایسا ہے کہ اگر اس میں سے ایک ذرہ برابر بھی کم کر دیا جائے تو اتنی ہی اس میں بدنمائی ہوگی اور اس اختصار کی ایسی مثال ہوگی جیسے شاہی باز اڑ کر ایک بڑھیا کے گھر چلا گیا، بڑھیا نے اس کو پکڑ لیا۔ اس کی چونچ دیکھی تو بہت بڑی ہے، بہت افسوس کیا، ہائے یہ کیسے کھاتا ہوگا، قیچی لے کر اس کی چونچ کتر دی۔ پنجے پائوں دیکھے، وہ بھی لمبے لمبے تھے، ہائے یہ کیسے چلتا ہوگا، پنجے بھی کتر دیئے۔ غرض جو چیزیں اس میں کمال کی تھیں وہ سب اڑا دیں۔ اسلام میں اگر اختصار کیا جائے تو اس باز کی سی حالت ہوگی، وہ اسلام ہی کیا رہے گا۔ مقامِ افسوس ہے کہ دورِحاضر میں کہتے ہیں کہ نماز کی اب کیا ضرورت ہے؟ ہم تو مسلمان کے گھر ہی پیدا ہوئے ہیں، اس وقت چونکہ بت پرستی کا غلبہ تھا اس لئے نماز کا حکم ہوا۔ روزہ کے بارے میں کہتے ہیں کہ رزق کی تنگی کے سبب یہ حکم تھا، اب فراخی کے زمانہ میں فاقہ کی کیا ضرورت ہے؟ غرض زکوٰۃ، قربانی، فطرانہ ہر ایک کو نکالنا چاہتے ہیں۔ مسلمان نوجوانوں کے دلوں پر محنت کرنے کی ضرورت ہے، انتہائی تکلیف دہ اور دکھ کی بات یہ ہے کہ امریکہ ،افریقہ اور یورپ میں جتنی تیزی سے کافر کلمہ پڑھ کر حلقہ بگوش اسلام ہو رہے ہیں، پاکستان کے سکولوں ،کالجوں اور یونیورسٹیوں میں الحاد ازم اس سے زیادہ تیزی سے پھیلایا جا رہا ہے ،بلکہ نائن الیون کے بعد تو صلیبی،یہودی دسترخوان کے راتب خوروں نے اتحاد تنظیمات مدارس سے منسلک دینی اداروں کی بعض شخصیات اور طلباء کو بھی الحاد کے گندے جوہڑ میں ایسے گھسیٹا کہ آج وہ الحادی کیچڑ سے لت پت کفریہ طاقتوں کے ترجمان بنے پھرتے ہیں ، اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ سے منسلک دینی مدارس کی قیادت کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ دینی مدارس کے ان نمک حرام بھگوڑوں سے مکمل برآت کا اعلان کرنے کے بعد قوم سے بھی ان بھگوڑوں کے بائیکاٹ کی اپیل کریں۔
’’نو جوان امت کا سرمایہ ،قیمتی اثاثہ اورمستقبل کے معمار ہیں ، بشرطیکہ ان کی تربیت مثبت اورتعمیری انداز میں کی جائے، ورنہ یہی نوجوان پھر تخریب کاذریعہ بنتے ہیں، موجودہ دور فتنوں کادور ہے اور اس وقت کاسب سے بڑافتنہ الحاد ہے جس کا سب سے بڑا نشانہ مسلم نوجوان نسل ہے۔‘‘چنانچہ سکولز کالجز یونیورسٹیز اس وقت اس فتنے کی یلغار کی زد میں ہیں، نوجوانوں کواس فتنے سے بچانا اس وقت کااولیں فریضہ ہے اور اس فریضہ کی ادائیگی علمائے کرام کے ذمہ ہے، اس حوالے سے پاکستان کی ہر مسجد میں نوجوانوں کے لئے علمی اصلاحی تربیتی نشستوں کا اہتمام کیا جانا لازم ہے، جس میں نوجوانوں کو کھل کے آزادانہ سوال وجواب کی بھی اجازت ہونی چاہیے اور انتہائی پیارومحبت کے ماحول میں ان کی تشنگی کودورکرنے کی کوشش کی جائے ، ان شااللہ، اس کے بہت اچھے نتائج مرتب ہوں گے ،اس وقت سوشل میڈیاالحاد اور سیکولرازم کوپروموٹ کرنے کاسب سے آسان اور مئوثر ذریعہ بنا ہوا ہے،سوشل میڈیا پہ بیٹھے نام نہاد مذہبی سکالرز، ڈاکٹرز پروفیسرز،انجینئرز اسلام کے ٹائٹل کے نیچے الحادی فکر کوپھیلارہے ہیں اور خالی الذہن نوجوانوں کے ذہن کوپراگندہ کرکے فکری آوارگی میں مبتلاکر رہے ہیں،ان کاسب بڑاہد ف تنقید اکابرین امت، صحابہ اہل بیتؓ ،فقہا محدثین بزرگان دین اور علمائے کرام ہیں،کیونکہ یہی وہ شخصیات ہیں جن کے ذریعہ خالص دین امت تک پہنچا، اورقیامت تک خالص دین انہی ہستیوں کے ذریعہ پہنچتا رہے گا۔
دین کی عمارت کو گرانے کے لئے ان ہستیوں سے اعتماد ختم کرناضروری ہے، انہیں علما سے کاٹنا ضروری ہے، اس لئے تمام اسلام دشمن باطل پرست قوتوں کا قدر مشترک ان بزرگان دین واکابرین امت کے بارے بدگمانی اور بدزبانی کرنا، اور پوری امت کوان سے بدگمان کرکے بدزبان بنانا ہے۔فیس بکی اور یو ٹیوبر جاہلوں نے جاہلیت کی ایسی ایسی اقسام متعارف کروائی ہیں کہ اگر آج ابو جہل زندہ ہوتا تو وہ بھی سر پکڑ کر رہ جاتا ، سوشل میڈیائی جہلا(سو کالڈ مذہبی سکالرز)ایمان کے ایسے ڈاکو اور چور ہیں کہ جنہوں نے ینگ جنریشن کو گمراہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، سوال یہ ہے کہ’’جن نوجوانوں کے مرزا جہلمی، ساحل عدیم اور بلاسفیمی پروٹیکشن گینگ کے خرکاروں جیسے‘‘ مذہبی سکالرز روحانی پیشوا اور ہمدرد ہوں گے۔ان نوجوانوں کے عقائد اور روحانیت کا تو پھر خدا ہی حافظ ہو گا،چنانچہ یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا دین،اخلاق، اقدار اور کردار کے لئے مرگھٹ ثابت ہو رہا ہے،افسوس تو یہ ہے کہ خطبا اور واعظین کی اکثریت ان جدید ترین فتنوں سے نابلد ہے،جس کی وجہ سے ان فتنوں کا مئوثر طریقے سے مقابلہ نہیں ہو سکا، میری دانست میں موجودہ دور میں کسی بھی فتنے کے بانی سے مناظرہ ،مناظرہ کھیلنا اس فتنے کو بڑھاوا دینے کے مترادف ہے ،رہ گئی بات سوشل میڈیا یا الیکٹرانک میڈیا کی،تو ان کا کام ہی فتنوں کو پروان چڑھانا ہے،ان حالات میں علماء کرام ، مصلحین ،واعظین اور خطبا کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ الحاد ازم اور دیگر شیطانی جدید فتنوں علاج بھی جدید طریقوں سے کرنے کے لئے میدان عمل میں اتریں۔