Search
Close this search box.
اتوار ,07 جون ,2026ء

ڈونلڈ ٹرمپ کی مہربانی سفارتی چال یا وقتی ضرورت؟

بین الاقوامی تعلقات جذبات سے نہیں، مفادات سے جڑتے ہیں۔ پاکستان اور امریکہ کے درمیان سفارتی تعلقات کی کہانی بھی انہی مفادات کی کشمکش سے عبارت ہے۔ وقتا فوقتا امریکہ نے پاکستان کو اہم اتحادی کہا، اربوں ڈالرز دئیے، لیکن موقع ملتے ہی قربانی کا بکرا بھی بنا ڈالا۔ یہی متضاد رویہ ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ صدارت میں اپنے عروج پر نظر آیا، جہاں ایک ہی صدر نے پہلے پاکستان پر شدید تنقید کی اور پھر غیر متوقع انداز میں اس پر مہربانیوں کے دروازے بھی کھول دئیے۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ مہربانیاں کسی دیرپا پالیسی کا حصہ تھیں یا وقتی ضرورت اور سفارتی چال؟ٹرمپ نے جنوری 2018 ء میں ٹویٹ کیا:
“The United States has foolishly given Pakistan more than 33 billion dollars in aid and they have given us nothing but lies & deceit.”
یہ الفاظ پاکستان کے لئے ایک زلزلے سے کم نہ تھے۔ امریکہ نے عسکری امداد بند کی، دفاعی روابط محدود کئے اور پاکستان کو افغانستان میں ناکامی کا سبب قرار دیا۔ یہ وہ وقت تھا جب پاکستان امریکی دبائو میں عالمی تنہائی کا سامنا کر رہا تھا۔مگر صرف ایک سال بعد، جولائی 2019 ء میں، حالات ڈرامائی طور پر بدلتے ہیں۔ عمران خان کو واشنگٹن بلایا جاتا ہے، سرخ قالین بچھتا ہے، اور وہی ٹرمپ کشمیریوں کے لیے ثالثی کی پیشکش کرتے ہیں۔
“I was with Prime Minister Modi two weeks ago and we talked about this subject. And he actually said, Would you like to be a mediator or arbitrator? I said, Where?. He said, Kashmir.”
یہ حیران کن موڑ عالمی سفارت کاری میں ایک نیا رخ تھا۔ کیا یہ ٹرمپ کی شخصی سیاست تھی؟ یا چین کے بڑھتے اثر و رسوخ کو روکنے کی کوشش؟ یا افغانستان سے باعزت انخلا کی ضرورت؟ٹرمپ ایک روایتی سیاستدان نہیں تھے۔ ان کی پالیسیاں اکثر فوری سیاسی فائدے اور داخلی ووٹر بیس کو خوش رکھنے پر مبنی ہوتی تھیں۔ پاکستان کے ساتھ برتائو بھی اسی طرز پر تھا۔ ایک طرف انہیں افغانستان سے نکلنے کے لیے پاکستان کی مدد درکار تھی تو دوسری طرف انہیں چین کے خلاف ایک علاقائی توازن بھی بنانا تھا۔ چنانچہ پاکستان کو وقتی طور پر اہم شراکت دار بنا دیا گیا۔پاکستان نے اس مہربانی کو خوش آمدید کہا، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے اس سفارتی لمحے کو ایک تزویراتی موقع میں بدلا؟ یا محض تصویریں، ٹویٹس اور وقتی سہارے پر قناعت کر لی؟ مہذب قومیں وقتی مہربانیوں کو پائیدار مفادات میں ڈھالتی ہیں۔ بدقسمتی سے ہم بار بار عالمی طاقتوں کی وقتی ترجیحات کا حصہ بن کر رہ گئے ہیںبغیر اپنی پالیسی کی آزادی قائم کئے۔ٹرمپ کی مہربانی پاکستان کے لئے ایک موقع بھی تھی اور ایک آزمائش بھی۔ اس نے ہمیں یہ سبق دیا کہ بین الاقوامی تعلقات میں مستقل مزاجی صرف اپنے اصولوں پر چلنے سے حاصل ہوتی ہے۔ ہم کب تک دوسروں کی خارجہ پالیسی کے تابع رہیں گے؟ ہمیں اب اپنی پالیسیوں کا مرکز خود بننا ہوگانہ کہ وائٹ ہائوس کی تبدیلیوں کے رحم و کرم پر جیتے رہنا۔
بین الاقوامی سیاست میں دوستی، دشمنی، مہربانی اور سردمہری جیسے الفاظ وقتی مفادات کے تابع ہوتے ہیں۔ ریاستیں مستقل دوست یا دشمن نہیں رکھتیں، بلکہ ان کے مفادات مستقل ہوتے ہیںیہ جملہ عالمی تعلقات کی حرکیات کو خوبصورتی سے بیان کرتا ہے۔ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات بھی اسی اصول کی عملی تعبیر رہے ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد ہی سے امریکہ نے پاکستان کو سوویت اثرورسوخ سے محفوظ رکھنے کے لئے ایک اسٹریٹجک اتحادی کے طور پر دیکھا اور پاکستان نے بھی عسکری و اقتصادی امداد کے لئے امریکہ کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ سرد جنگ ہو یا افغان جہاد، دہشت گردی کے خلاف جنگ ہو یا چین کے بڑھتے اثرات پاکستان ہمیشہ کسی نہ کسی شکل میں امریکی خارجہ پالیسی کے دائرے میں شامل رہا۔تاہم یہ تعلقات کبھی بھی کامل اعتماد یا مستقل خیرخواہی پر مبنی نہیں رہے۔ وقتاً فوقتاً امریکہ نے پاکستان پر دبائو ڈالا، امداد روکی اور بھارت کے ساتھ تعلقات کو ترجیح دی۔ مگر انہی نشیب و فراز کے درمیان کچھ لمحے ایسے بھی آئے جب پاکستان کو امریکی صدور کی غیر متوقع مہربانیاں نصیب ہوئیں۔ انہی میں ایک اہم دور ڈونلڈ ٹرمپ کا ہے، جو اپنی غیر متوقع، غیر روایتی اور بعض اوقات متضاد خارجہ پالیسی کے لئے مشہور رہے۔ٹرمپ نے ابتدا میں پاکستان پر سخت الزامات عائد کئے، امداد بند کی اور افغان جنگ میں ناکامی کا ذمہ دار قرار دیا۔ لیکن جلد ہی بیانیہ بدلا اور وہی ٹرمپ، جو پاکستان کو جھوٹا اور دھوکہ باز قرار دیتے تھے، اچانک عمران خان کو وائٹ ہائوس مدعو کرتے ہیں، کشمیریوں کے لئے ثالثی کی پیشکش کرتے ہیں اور پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف کرنے لگتے ہیں۔ یہ غیر متوقع شفقت صرف وقتی سفارتی تقاضا تھی یا کسی گہرے اسٹریٹجک مفاد کا اظہار؟ یہی وہ سوال ہے جو زیرِ نظر تجزیے کا نقطہ آغاز بنتا ہے۔اس تاریخی اور سفارتی تناظر میں ٹرمپ پاکستان کو بار بار عالمی سیاست میں محض ایک مہرہ بناتا ہے کبھی دوست، کبھی دشمن اور کبھی ضرورت کی تکمیل کے لئے قابل تعریف اتحادی۔

یہ بھی پڑھیں