Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

جرائم کا تدارک اسلام کی روشنی میں

کرئہ ارض پر حضرت آدم علیہ السلام کی آمد انسان کی پہلی بھول کا نتیجہ تھی۔ اس بھول پر بہشت بریں سے نکلنا انسان کی پہلی سرزنش تھی۔ پھر جوں جوں وقت گزرتا گیا کبھی بھول سے‘ کبھی کسی کے ورغلانے سے‘ کبھی نفس کے ہاتھوں عاجز ہو کر‘ کبھی طاقت و غرور کے نشے میں مست ہو کر اور کبھی فکر معاش کے بکھیڑوں میں الجھ کر انسان ‘ عصیاں کا مرتکب ہوتا رہا‘ فی الوقت پوری دنیا خصوصاً زوال پذیر معاشرے انسان کے جرائم و مفاسد سے سرتاپا آلودہ ہیں۔ بحر و بر انسان کے بپا کردہ فسادات میں غرق ہیں۔ خود ہمارا پاکستانی معاشرہ جرائم کی آماجگاہ بنا ہوا ہے۔ ہر طرف پھیلی بدامنی‘ فسادات‘ قتل و غارت‘ دھوکہ دہی‘ جھوٹ‘ بددیانتی‘ ظلم اور دیگر جرائم نے سب کی زندگیوں کو اذیت ناک بنا رکھا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر جرائم کیوں ہوتے ہیں؟ وہ کون سا محرک ہے جس کی کارفرمائی انسان کو انسانیت سے گرا کر جانور بنا دیتی ہے؟ جرائم پر آمادہ کرنے کے اسباب درج ذیل ہیں۔
اگر کوئی شخص اپنے دین سے لاپروائی برتنے لگے تو اخلاقیات اور حقوق العباد کی پابندیوں سے آزاد ہو جاتا ہے‘ اپنی ذات سے بڑھ اس کے سامنے اور کوئی چیز قابل وقعت نہیں ہوتی۔ یہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کا لحاظ ہی ہے جو انسان کو بہت سی زیادتیوں‘ اخلاقی برائیوں اور مال و طاقت کے ناجائز استعمال سے روکتا ہے۔ دین سے منحرف آدمی کو جھوٹ‘ بددیانتی‘ بے ایمانی‘ قتل و غارت‘ گداگری اور بچوں سے مشقت جیسے کام بھی برے نہیں لگتے۔
کسب معاش ہر انسان کی بنیادی ضرورت ہے۔ حدیث مبارک میں ارشاد ہے کہ ’’فقر کفر تک پہنچانے والا ہے‘‘ بسا اوقات انسان غریت و افلاس کے ہاتھوں تنگ آکر جرائم کا ارتکاب کرتا ہے پیسوں کے لالچ میں اندھا ہو کر ہر جائز و ناجائز ذریعے سے دولت کمانے کا متلاشی رہتا ہے۔ رشوت‘ سفارش ‘ دھوکہ دہی‘ تجارت کے اندر جھوٹ اور فریب یہ سب دولت کی ہوس کا نتیجہ ہیں۔
معاشرتی مسائل و جرائم کی ایک بڑی وجہ بری صحبت ہے۔ حدیث مبارکہ میں ارشاد ہے ’’اگر کسی شخص کو پہچاننا ہو تو اس کی صحبت سے پہچانو۔‘‘ معاشرے میں برے کردار کے حامل لوگ اپنے حلقہ احباب کو بھی برائیوں کی طرف مائل کرتے ہیں۔ یوں ایک سے دو اور دو سے چار برائیوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور جلد ہی معاشرے میں یہ برائی عام ہو جاتی ہے۔
تعلیم ہمیشہ انسان کو زندگی کی سچائی کی روشنی سے متعارف کراتی ہے‘تعلیم انسان کو صحیح غلط اور اچھے برے کی تمیز سکھاتی ہے‘ اگر کسی کو دوسرے کے حقوق اور اپنے فرائض کا علم ہی نہ ہو تو وہ بے اعتدالی اور ظلم سے کیسے محفوظ رہ سکتا ہے؟ چنانچہ جہالت اور ناخواندگی ضد‘ ہٹ دھرمی اور سرکشی کو جنم دیتی ہے۔ جاہل آدمی فرسودہ رسوم و رواج کو چھوڑنے اور ترقی پسند عناصر اپنانے پر آمادہ نہیں ہوتا‘ چنانچہ بعض علاقوں میں غیر شرعی رسمیں رائج ہیں جو درحقیقت بہت سنگین جرائم ہیں۔
منشیات کا استعمال انسان کو نہ صرف اخلاقی طور پر تباہ کرتا ہے بلکہ ایسا فرد معاشی‘ معاشرتی اور نفسیاتی طور پر بھی منتشر ہو جاتا ہے۔ نشہ آوراشیاء کے حصول کے لئے فرد جرائم کا ارتکاب کرتا ہے‘ چوری‘ ڈاکے میں مبتلا ہوتا ہے‘ عقل سے عاری ہو کر رشتوں کا تقدس بھول جاتا ہے اور آہستہ آہستہ انسانیت کے مقام سے گر جاتا ہے۔فحاشی اور عریانی پر مبنی ڈرامے اور فلمیں اور فحش لٹریچر نوجوان نسل کے اخلاق برباد کرنے اور انہیں بے راہ روی کا نشانہ بنانے کا باعث ہیں۔ نوجوان نسل جذباتی‘ ہیجان کا شکار ہو کر مختلف گناہوں اور جرائم میں مبتلا ہو جاتی ہے۔
انصاف کے حصول میں تاخیر یا عدم فراہمی بھی انسان کو غلط راستہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ اگر عدل و انصاف باآسانی مہیا ہو تو نہ صرف مجرموں کی حوصلہ شکنی ہوگی بلکہ دوسروں کو بھی عبرت حاصل ہوگی۔ اگر مظلوم کو انصاف نہ ملے تو بعض اوقات وہ اپنے انتقام کا جوش ٹھنڈا کرنے کے لئے کسی جرم کا ارتکاب کر بیٹھتا ہے۔
مال و دولت کی ہوس‘ زمین و جائیداد کے حصول کا لالچ اور عورت سے متعلق جھگڑے معمول کے ساتھ اخبارات کا حصہ بنتے ہیں۔ ان تینوں سے پیدا ہونے والے جھگڑے اس قدر طول پالیتے ہیں کہ نسل در نسل چلتے رہتے ہیں۔ جائیداد یا عورت کے حصول کے لئے قتل ایک معمول کی بات بن چکا ہے۔ دولت کے لالچ میں ڈوبا انسان جرائم کی راہ اس لئے اپناتا ہے تاکہ کم سے کم وقت میں‘ کسی بڑی مشقت کے بغیر زیادہ سے زیادہ دولت کماسکے۔ چوری‘ ڈاکہ‘ رشوت اور اغواء برائے تاوان جیسے سنگین جرائم اسی لئے جنم لیتے ہیں۔
قرآن مجید میں اور احادیث مبارکہ میں بڑے شد و مد سے خواتین کو پردے کا حکم دیا گیا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ ’’اے مومنو! اپنی عورتوں سے کہہ دو کہ جب وہ گھر سے نکلا کریں تو اپنے چہروں پر چادر کے پلولٹکا لیا کریں۔‘‘ اگر عورتیں پردے کا اہتمام کریں تو جنسی بے راہ روی کا امکان کم ہو جاتا ہے معاشرہ بدامنی اور بے حیائی کا شکار نہیں ہوتا۔
(جاری ہے)

یہ بھی پڑھیں