(گزشتہ سےپیوستہ)
مغربی معاشرے کی اندھی تقلید ترقی کی بجائے مسائل کو جنم دے رہی ہے۔ مغربی معاشرے کی بے مہابہ آزادی اور خاندانی نظام کا خاتمہ خود اہل مغرب کے لئے تشویش کا باعث ہے۔ اسی طرح مغرب کی تقلید میں مذہب سے بیزاری بہت سے جرائم کا سبب بن رہی ہے۔
بعض اوقات انسان مصائب اور پریشانی میں الجھ کر زندگی سے راہ فرار اختیار کرنے کی کوشش کرتا ہے یا پھر اپنی زندگی کی مشکلات کا سبب دوسروں کو گردانتا ہے اور یوں کبھی اپنی اور کبھی دوسروں کی جان تک لے لیتاہے۔
مجرم جب اپنی قانونی سزا کاٹ کر آزاد ماحول میں واپس جاتے ہیں تو آزاد اور شریفانہ زندگی گزارنے کے خواہش مند ہوتے ہیں لیکن معاشرہ انہیں کبھی معاف نہیں کرتا اور اب بھی انہیں مجرم کی حیثیت سے دیکھتا ہے۔ ہر طرف سے مجرمانہ نفرت پا کر بعض لوگ دوبارہ جرائم کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔
قرآن مجید میں اللہ رب العزت کاارشاد ہے۔ ’’انسان کے لئے وہی ہے جس کی وہ کوشش کرے‘‘ مگر بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اپنے رزق اور اللہ کی طرف سے عطا کردہ نعمتوں پر شکر گزار نہیں ہوتے۔ زیادہ سے زیادہ دولت کی ہوس سے عدم قناعت پیدا ہوتی ہے جو کہ جرم کی طرف مائل کرتی ہے۔
جرائم کا سدباب درج ذیل عوامل کے ذریعے کیا جاسکتا ہے۔اگر معاشرے کے افراد کی ضروریات زندگی آسانی سے پوری ہوں تو وہ منفی عناصر کو اپنانے سے اجتناب کریں گے۔ لہٰذا ایسی پالیسی کی ضرورت ہے جس میں معاشرے کے ہر فرد کو اپنی اہلیت اور محنت کے بقدر ضروریات کی تکمیل کا موقع ملے۔ ایسی متوازن پالیسی صرف اسلام ہی نے دی ہے۔
ایک اسلامی مملکت میں اسلامی قوانین اتنی اہمیت کے حامل ہیں کہ اس کا پیغام رسول خداﷺ نے حجتہ الوداع کے موقع پر بھی دیا۔ آپؐ نے فرمایا کہ ’’اگر تمہیں کوئی حبشی غلام بھی اللہ تعالیٰ کی کتاب کے مطابق لے کر چلے تو اس کی اطاعت کرنا۔‘‘ لہٰذا اسلامی قوانین وضع کرنا اور ان پر عملدرآمد بہت ضروری ہے۔ اگر ایسا ہو جائے تو جرائم کا سرے سے وجود ہی نہ رہے گا۔
اگر انسان کو اللہ رب العزت کی ذات پر کامل بھروسہ ہو کہ اس کے پاس ہر مسئلے کا حل ہے اور قادر مطلق ذات ہے تو وہ مایوسی یا بے صبری کا شکار نہ ہوگا۔ جب وہ اللہ رب العزت ہی کو اصل رازق سمجھے گا تو حرام کمائی سے بچنے کی پوری کوشش کرے گا اور حلال کا لقمہ ہی اسکی قلبی و ذہنی تسکین کا باعث بنے گا۔ اس کو اس بات پر تسلی ہوگی کہ اللہ تعالیٰ جسے چاہے وسیع رزق دے اور جس پر چاہے تنگی کے حالات بھیج دے۔ لہٰذا جس حالت میں رکھنا اسے منظور ہے بندہ بھی اس پر مطمئن رہے گا اور خود ترسی یا کمتری کا شکار نہیں ہوگا نہ اس کے دل میں حسد پیدا ہوگا نہ یہ اپنے نفع کے لئے دوسروں کا نقصان گوارا کرے گا۔
اللہ رب العزت کی ذات پر یقین کامل رکھنے والا شخص سخت سے سخت حالات میں مایوس نہیں ہوتا بلکہ ہر دم خدا کی ذات سے بہتری کا امیدوارہوتا ہے یوں وہ حالات سے گھبرا کر خودکشی اور دوسروں کے قتل کا اقدام نہیں کرتا۔
حدیث مبارکہ کے ارشاد کے مطابق ہم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور اس سے اپنی رعایت سے متعلق پوچھا جائے گا۔ بہرحال ہر شخص کے ذمے کچھ فرائض ہوتے ہیں اور کچھ حقوق حاصل ہوتے ہیں۔ معاشرے کے ہر فرد کو حقوق فرائض سے مکمل طور پر آگاہ ہونا چاہیے پھر اپنے حقوق کے حصول کے ساتھ ساتھ دوسرے کے حقوق یعنی اپنے فرائض کی پاسداری بھی کرنا ضروری ہے۔ معاشرے میں اکثر مسائل اور جرائم کا سبب یہی ہوتا ہے کہ لوگ اپنے حقوق کا تو بڑھ چڑھ کر مطالبہ کرتے ہیں لیکن ہر کوئی فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی کرتا ہے۔ اگر حقوق و فرائض کی بجا آوری ہونے لگے تو معاشرے سے جرائم خود ہی ختم ہو جائیں۔
جب افراد میں صحیح غلط اور اچھے برے کی تمیز ہی نہ ہو تو جرائم کا بڑھنا فطری سی بات ہے۔ یہ تمیز انسان کو تعلیم ہی کی بدولت حاصل ہوسکتی ہے۔ غلط اور صحیح راستوں کا پتہ چلنے اور برائی کے انجام سے مطلع ہونے کے بعد برائی سے بچنا آسان ہوتا ہے۔ یہ تجربہ شدہ بات ہے کہ تعلیم فرد کی شخصیت میں نیکی کا عنصر نمایاں کرنے اور گناہ سے پرہیز کرنے میں مدد گار ثابت ہوتی ہے۔
مساوات اور عدل و انصاف کی عدم دستیابی معاشرے کے امن و سکون کی بربادی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ ظلم اور جرائم کے خاتمے کے لئے انتہائی ضروری ہے کہ مساوات کا لحاظ رکھا جائے اور افراد کو جلد اور سستا انصاف مہیا کیا جائے۔ سزائوں کے اجراء میں کوئی امتیاز یا تغافل نہ برتا جائے۔ قانون کی نظر میں سب کو برابر سمجھا جائے اور سب افراد کو یکساں حقوق حاصل ہوں تو پھر جرائم پیدا ہونے کی کوئی وجہ نہیں بچتی۔
عقیدہ آخرت‘ جوابداہی کا تصور اور جزا و سزا کا اعتقاد انسان کو گناہ اور جرائم سے روکنے کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ جب انسان کو یہ تصور رہے گا کہ میں نے اپنے رب کے حضور پیش ہو کر حساب کتاب دینا ہے اور میری کوتاہیوں پر مجھ سے مواخذہ ہوگا تو وہ حتی الامکان جرائم سے اجتناب کرے گا۔
عوام کی سوچ کو کوئی بھی رخ دینا‘ ان کی ذہن سازی کرنا اور مثبت یا منفی چیزوں سے متعارف کرانا میڈیا کا کام ہے۔میڈیا اگر تعمیری کردار ادا کرے‘ لوگوں کو مثبت سوچ کو رواج دے‘ اسلامی ثقافت و اقدار کو فروغ دے‘ اسلام اور اسلامی تعلیمات کی اہمیت اجاگر کرے اور محض مقبولیت حاصل کرنے لئے فحاشی‘ عریانیت یا جھوٹ کو فروغ نہ دے تو معاشرے کی حالت بہت حد تک سدھر سکتی ہے۔ افراد کی تربیت کے لئے سب سے موثر فورم یہی میڈیا ہے۔
معاشرے کی اصلاح میں علماء کا کردار بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ علماء کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے عوام کی صحیح رہنمائی اور تربیت کرنی چاہیے فرقہ واریت یا تنفر والے موضوعات کو چھوڑ کر اخلاقیات اور حسن معاشرت پر زور دینا چاہیے۔ علماء کا اپنا کردار اور اخلاق اتنا مثالی ہونا چاہیے کہ عوام انہیں دیکھ کر خودبخود بدلنا شروع کر دیں۔
ہم خلاصہ کے طور پر یہ کہہ سکتے ہیں کہ اسلامی تعلیمات سے انحراف اور خدائی کی نافرمانی معاشرے کے تمام جرائم و مسائل کا سبب ہے جبکہ قرآن و سنت کی تعلیمات پر عمل کرے اور اسلامی قوانین کا نفاذ کرکے ان سب کا تدارک کیا جاسکتا ہے۔