پاکستان کی معیشت جب 1947ء میں ایک نوزائیدہ ریاست کے طور پر دنیا کے نقشے پر ابھری تو اس کے سامنے سب سے بڑا چیلنج اقتصادی خودمختاری اور مالی استحکام کا تھا۔ ابتدائی سالوں میں یہ ملک زرعی معیشت پر انحصار کرتا تھا، جہاں قیمتوں کی سطح نسبتاً معتدل تھی، مگر جیسے جیسے صنعتی ترقی اور شہری آبادی میں اضافہ ہوتا گیا معیشت میں پیچیدگیاں پیداہوتی گئیں۔ 1960 ء کی دہائی میں منصوبہ بندی کمیشن، گرین ریولوشن، اور بیرونی امداد کے سبب وقتی ترقی ضرور ہوئی لیکن مالیاتی ڈھانچے پالیسی، سبسڈی کلچر، اور تیل کے عالمی بحران نے افراطِ زر کو سنگین حد تک بڑھا دیا۔ اس کے بعد 1980ء اور 1990ء کی دہائیوں میں عالمی قرضوں، کرپشن، درآمدی انحصار، اور سیاسی عدم استحکام نے قیمتوں کے عدم توازن کو معمول بنا دیا۔ ہر آنے والی حکومت نے شارٹ ٹرم پالیسیوں سے ریلیف دینے کی کوشش کی، مگر مہنگائی کا جن مسلسل طاقتور ہوتا رہا۔ عوام کو سبز باغ دکھا کر مہنگائی کی حقیقت کو نظروں سے اوجھل رکھا گیا۔2025ء چند ماہ میں مہنگائی کے جن کو پھر قبضہ میں رکھتے دکھایا گیا ، مگر یہ ایک دکھلا وا تھا ۔ یہ مصنوعی کمی جلد ہی 3.2فیصد سے بڑھ کر 4.1 فیصد تک جا پہنچی ہے، مگر یہ اعدادوشمار زمینی حقیقت سے بہت مختلف ٹھہرے۔
آٹا ،دالیں،چینی ،دودھ،بجلی، گیس، پیٹرول اور ادویات کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہوتی چلی گئیں ۔ متوسط طبقہ غربت کی لکیر سے نیچے جاتا چلا گیا اور سفید پوشی کا بھرم رکھنا تو کیا یہ ہر آنے والے دن کے ساتھ ٹوٹتا چلا گیا۔ اگرچہ مالیاتی ادارے اب بھی مہنگائی میں کمی کے اشارے دے رہے ہیں، مگر مارکیٹ اور عوامی احساس اس کے برعکس رہا۔ڈالر کے مقابلے میں روپے کی مسلسل گراوٹ نے ہر درآمدی شے کو مہنگا کر دیا ۔ تیل، خوردنی تیل، گندم، چینی، ادویات سب کچھ درآمد ہوتا ہے اور اس پر مہنگائی کا براہ راست اثر پڑتا ہے۔ بالواسطہ ٹیکسز (Indirect Taxes)نے صارفین پر بوجھ بنتے چلے گئے۔کرپشن اور بدانتظامی: گوداموں میں ذخیرہ اندوزی، حکومتی سبسڈی کا غلط استعمال، اور ناقص ریگولیشن سسٹم۔سیاسی عدم استحکام اور حکومت کی معاشی پالیسی ناتجربہ کاری یا جلد بازی کا شکار ہوئی ہے۔جس کے نتیجے میں غذائی قلت کی وجہ سے بچوں کی نشوونما تک متاثر ہوئی۔ یو ں خاندانی نظام میں میں کشیدگیاں بھی بڑھتی ہوئی نظر آئیں ۔
یہ سماجی عدم استحکام، چوری، ڈکیتی، خودکشی اور احتجاج میں اضافہ کا باعث بنا۔جس کی وجہ سے ذہنی دبائو، ڈپریشن، بے چینی اور اضطراب جیسے امراض میں اضافہ ہوا۔یوں حکومت اور ریاستی اداروں پر اعتماد متزلزل ہوا ،کیا مہنگائی کا جن بوتل میں بند ہو سکتا ہے؟یہ سوال آج ہر پاکستانی کے ذہن میں گردش کر رہا ہے۔ اس کے لئے درج ذیل اقدامات ناگزیر ہیں،زرعی اور صنعتی خودکفالت کا فروغ ، درآمدی انحصار کم کرنا ، ٹیکس بالواسطہ کے بجائے براہ راست ٹیکس کا ڈول ڈالنا ہوگا۔ روپے کی قدر کا استحکام جو کہ اب کچھ دکھائی دینے لگا ہے، مانیٹری پالیسی کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنا ہوگا۔ معیشت میں سیاسی پالیسیوں کی مداخلت کو سراسر روکنا لازمی بنانا ہوگا سبسڈی کا نظام شفاف بناتے ہوئے اور سماجی تحفظ کے نیٹ ورک وسیع کرنا اولین ترجیح ہو۔ پاکستان میں مہنگائی صرف ایک اقتصادی مسئلہ نہیں، یہ ایک سماجی، سیاسی، اور اخلاقی چیلنج ہے۔ جب تک ہم قومی سطح پر دیانت، شفافیت اور مستقل مزاجی کے اصولوں کو اختیار نہیں کرتے، مہنگائی کا جن قابو میں نہیں آ سکتا۔
ہمیں چاہیے کہ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھیں اور آئندہ نسلوں کو ایک باوقار اور قابلِ برداشت معیشت کا تحفہ دیں ورنہ یہ جن صرف بوتل سے نہیں، ہمارے خوابوں اور امیدوں سے بھی باہر نکل کر سب کچھ نگل جائے گا۔اگر آج بھی حکمران ماضی کی غلطیوں پر ہی عمل پیرا رہے ،لوٹ مار ،بدعنوانی اور بد انتظامی کی صورت حال جوں کی توں رہی تو عوام کا سراپا احتجاج بننا لازمی ہوجائے گا۔قومی کی ترقی و خوشحالی کے یہی افعال ہوتے ہیں جنہیں حرزجاں بنا کر امن و امان سے حکمرانی کی جا سکتی ہے ۔عوام کی حالت کی درستی سے ہی تعلیمی انقلاب بھی لایا جا سکتا ہے اور تعمیری سوچ کو رفعت کے آسمان تک پہنچایا جاسکتا ہے ۔لیکن پھر یہیں سے شروع کرنا ہوگی کہ پہلے مہنگائی کے گلی گلی دندناتے ،رقص وحشت کرتے مہنگائی کے جن کو بوتل میں بند کرنا ہوگا۔