Search
Close this search box.
جمعرات ,02 جولائی ,2026ء

ہیروشیما کے 80 سال اور غزہ میں ظلم و بربریت

آٹھ اگست 2025 ء کو ہیروشیما پر ایٹم بم گرائے جانے کے 80 سال مکمل ہو رہے ہیں۔ 6اگست 1945 ء کو امریکی فضائیہ نے جاپان کے شہر ہیروشیما پر ’’لٹل بوائے‘‘ نامی ایٹم بم گرایا، جس نے چند لمحوں میں لاکھوں جانیں خاکستر کر دیں۔ تین روز بعد ناگاساکی پر دوسرا ایٹم بم پھینکا گیا، جس نے انسانی تاریخ کے سب سے تباہ کن ہتھیار کی ہولناکی کو عیاں کیا۔ ہیروشیما کے زخم آج بھی جاپان کے دلوں میں تازہ ہیں، جہاں ہر سال امن پارک میں شمعیں روشن کر کے امن کا عہد کیا جاتا ہے۔
کیا ہم نے اس سے کوئی سبق سیکھا؟ ہیروشیما کی تباہی کے بعد عالمی برادری نے امن کی بات کی، لیکن کیا واقعی اس سانحے سے سبق سیکھا گیا؟ غزہ میں جاری ظلم و بربریت اس سوال کا جواب نفی میں دیتی ہے۔ ہیروشیما میں ایک ایٹم بم نے تقریباً 140,000 انسانوں کی جانیں لیں، جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔ تابکاری کے اثرات نے باقی ماندہ لوگوں کو برسوں تک اذیت میں مبتلا رکھا۔ آج غزہ میں بھی ایک ایسی ہی المناک داستان رقم ہو رہی ہے، جہاں شہری آبادی بدترین متاثرہ ہے۔ 2023 ء سے جاری اسرائیلی جارحیت نے غزہ کو قتل گاہ بنا دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق، 2023-2024 ء کے دوران 46,000 سے زائد فلسطینی شہید اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔ ہسپتال، اسکول، اور عبادت گاہیں تک بمباری سے محفوظ نہیں۔ ہیروشیما میں ایک دھماکے نے فوری تباہی مچائی، جبکہ غزہ میں یہ عمل تدریجی لیکن مسلسل جاری ہے۔ دونوں صورتوں میں طاقت کا یکطرفہ استعمال واضح ہے، چاہے اسے ’’فوجی حکمت عملی‘‘ کہا جائے یا ’’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘‘۔
ہیروشیما نے ایٹمی ہتھیاروں کے خطرات کو اجاگر کیا، لیکن غزہ ہمیں بتاتا ہے کہ تباہی صرف ایٹم بم تک محدود نہیں۔ ڈرون حملے، فضائی بمباری، اور اقتصادی ناکہ بندی بھی اتنی ہی مہلک ہیں۔ غزہ کے لوگ نہ صرف بموں سے مر رہے ہیں، بلکہ بھوک، بیماری، اور بنیادی سہولیات کی عدم موجودگی بھی ان کی زندگیوں کو نگل رہی ہے۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے باوجود اسرائیل پر کوئی عملی پابندی نہیں لگی۔ طاقتور ممالک اپنے مفادات کی خاطر فلسطینیوں کے خون سے آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں۔ ہیروشیما کے سانحے نے عالمی برادری کو ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمے کی طرف متوجہ کیا، لیکن غزہ کے مظالم ہمیں عملی اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہیں۔ بین الاقوامی اداروں، خاص طور پر اقوام متحدہ کو، صرف قراردادوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسرائیل پر اقتصادی اور فوجی پابندیاں عائد کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانے چاہئیں۔ عام شہری، این جی اوز، اور انسانی حقوق کے کارکن عالمی سطح پر بیداری مہم چلا سکتے ہیں۔ غزہ کے لوگوں کو انسانی امداد، طبی سہولیات، اور دوبارہ بحالی کے لیے فوری وسائل کی ضرورت ہے، جو عالمی تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔ ہیروشیما کے 80 سال بعد اگر ہم نے سبق سیکھا ہوتا، تو غزہ کے بچوں پر بم نہ گرتے، ان کے اسکول تباہ نہ ہوتے، اور ان کے گھر ملبے کا ڈھیر نہ بنتے۔ غزہ ہمیں خبردار کرتا ہے کہ ہم وہی وحشیانہ رویے دہرا رہے ہیں جو ہیروشیما جیسے سانحات کا باعث بنے۔ اگر ہم واقعی ہیروشیما سے سبق سیکھنا چاہتے ہیں، تو غزہ کے مظالم کے خلاف متحد ہونا ہوگا۔ فلسطینیوں کے حق خودارادیت کو تسلیم کرنا اور اسرائیل پر بین الاقوامی قوانین کی پابندی کے لیے دبائو ڈالنا اولین ترجیح ہونی چاہیے۔ امن صرف ہتھیاروں کی عدم موجودگی کا نام نہیں، بلکہ انصاف، مساوات، اور انسانی وقار کی بحالی کا نام ہے۔ ہیروشیما کے بعد دنیا نے کہا تھا “Never Again”، مگر غزہ چیخ کر پوچھ رہا ہے کہ پھر ظلم کیوں جاری ہے؟ مسلم حکمرانوں کے مذمتی بیانات اور نمائشی اجلاس ناکافی ہیں۔ امت مسلمہ کو ایک جسم کی طرح تڑپنا ہوگا۔ سوشل میڈیا، احتجاج، سفارتی دبائو، اور اقتصادی بائیکاٹ جیسے اقدامات سے ایک عالمی تحریک شروع کی جاسکتی ہے۔ ہیروشیما کی تباہی کے بعد جاپان نے علم اور اخلاقی طاقت سے سر اٹھایا۔ اگر فلسطین کو آزادی ملے، تو یہ قوم بھی اپنی عظمت بحال کر سکتی ہے۔ مگر اس کے لیے عالمی ضمیر کو بیدار کرنا ہوگا۔ ہر لکھنے والے کو قلم، ہر بولنے والے کو آواز، اور ہر صاحبِ ضمیر کو عمل سے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ہیروشیما تاریخ کا سیاہ باب ہے، اور غزہ ہماری بے حسی کا نوحہ۔ اگر ہم آج نہ جاگے، تو کل کوئی اور ہیروشیما ہمارا انتظار کر رہا ہوگا۔ آئیے، ہیروشیما کے 80 سالہ زخموں سے سبق سیکھ کر غزہ کے زخم مندمل کریں۔ یہ وقت خاموشی کا نہیں، انصاف کے لیے آواز بلند کرنے کا ہے۔ فلسطین کے مظلوموں کے لیے آواز اٹھائیں، کیونکہ انصاف کے بغیر امن محض ایک خواب ہے۔

یہ بھی پڑھیں