ابراہیمی معاہدوں کے پسِ منظر میں اگرچہ ہر ملک کے اپنے مخصوص مفادات تھے، البتہ اس معاہدے کے بین السطور میں کچھ ایسے مفادات بھی کارفرما تھے جن پر معاہدے کے شریک ممالک کا مکمل اور مشترکہ اتفاق تھا۔ بعض عرب ممالک نے ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے خلاف اسرائیل کے ساتھ تعاون کو ترجیح دی، جس کا مقصد مبینہ طور پر مشرقِ وسطی میں ایران کے بڑھتے ہوئے تزویراتی اور نظریاتی اثر و رسوخ کو توڑنا تھا۔ اس لیے خطے کی سطح پر مذکورہ چار اہم ترین عرب ممالک کو اسرائیل نے ٹارگٹ کیا۔
ابراہیمی معاہدوں کے فریق ممالک میں سے کسی بھی ملک نے فلسطین کے ساتھ مشترکہ پلیٹ فارم پر بات چیت نہیں کی تھی اور یہ معاہدے بنیادی طور پر فلسطین سے الگ ہو کر طے پائے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ فلسطینیوں سمیت بعض عرب ممالک نے بھی اِن معاہدوں کو فلسطین کی قومی جدوجہدِ آزادی کو کمزور کرنے کی کوشش قرار دیا، کیوں کہ ان معاہدوں میں فلسطین کے حقوق یا اسرائیلی قبضے کے خاتمے پر کوئی بات نہیں کی گئی۔ اسرائیل نے ان معاہدوں کو علاقائی قبولیت دِلانے اور فلسطین کے مسئلے کو پس پشت ڈالنے کے لیے استعمال کیا ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ نے ان معاہدوں کو اپنی مشرق وسطی پالیسی کے حوالے سے بڑی کامیابی قرار دیا تھا۔
فلسطینیوں کے نزدیک یہ معاہدے ان کے حقوق اور طویل جدوجہدِ آزادی و مزاحمت کے خلاف ہیں، کیوں کہ یہ مسئلہ فلسطین کو حل کیے بغیر اسرائیل کو عرب ممالک کے ساتھ قریبی تجارتی، کاروباری، ثقافتی تعلقات قائم کرنے ، نیز فلسطینیوں کے حقوق کو نظرانداز کرکے اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم کو تقویت دینے کا باعث ہیں۔ فلسطینیوں کے علاوہ عرب دنیا میں بھی عوامی سطح پر ان معاہدوں کی مخالفت کی گئی۔ ایک سروے کے مطابق 88 فیصد عرب شہریوں نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے معاہدوں کو مسترد کر دیا تھا۔ بعض عرب حکومتوں نے اگرچہ ان معاہدوں کی حمایت کا اظہار کیا تاہم بہت سارے دیگر ممالک میں رائے عامہ کی شدید مخالفت رہی، خاص طور پر اسرائیل کی طرف سے فلسطینی تنازع کو پسِ پشت ڈال کر عرب ممالک کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کے حوالے سے۔ اس کے باوجود اِن معاہدوں کے نتیجے میں اسرائیل اور مذکورہ عرب ممالک کے مابین پہلے سے جاری تجارت، دفاع، توانائی، ٹیکنالوجی اور ثقافتی شعبوں میں اشتراک اور تعاون پر مبنی نئے دور کا آغاز ہوا۔
بہرحال اِن معاہدوں کا بنیادی مقصد خطے میں فلسطین کازکو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کے لیے عرب دنیا کو اسرائیل کی پشت پر لاکھڑا کرنا اور یوں گریٹر اسرائیل کے شیطانی صیہونی منصوبے کو عملی جامہ پہنانا ہے۔ شروع میں اس معاہدے کا نام ’’صدی کی ڈیل‘‘ رکھا گیا، بعد ازاں اقوامِ عالم خصوصاً مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لیے اس کا نام ’’معاہدہ ابراہیم‘‘ یا ’’ابراہم اکارڈز‘‘ رکھ کر یہ منطق پیش کی گئی کہ مسلمان، عیسائی اور یہودی تینوں ہی حضرت ابراہیم علیہ السلام کو مانتے ہیں اس لیے آپس میں تعاون ہونا چاہیے اور یہ تعاون مسئلہ فلسطین کو حل کیے بغیر، بلکہ اسے پسِ پشت ڈالتے ہوئے سیکورٹی، معاشی اور ٹیکنالوجی و زراعت سمیت متعدد دیگر شعبوں پر مشتمل ہو۔
نزول قرآن کے وقت عربوں میں جو تین طبقات موجود تھے : یعنی مشرکین عرب ، یہودی اور نصرانی ، وہ تینوں اپنے آپ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام سے منسوب کرتے تھے۔ مشرکینِ عرب حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل سے ہونے کی نسبت سے کہتے تھے کہ ہمارا رشتہ ابراہیم علیہ السلام سے ہے۔ اسی طرح یہودی اور نصرانی بھی ملت ابراہیمی علیہ السلام ہونے کے دعوے دار تھے۔ لیکن قرآن نے دو ٹوک انداز میں فرمایا کہ ابراہیم علیہ السلام نہ تو یہودی تھے نہ نصرانی تھے اور نہ ہی مشرکین میں سے تھے بلکہ مسلمان تھے۔
قرآن پاک کی سورۃ آلِ عمران کی آیت نمبر 67 میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:ترجمہ: ابراہیم تو نہ یہودی تھے نہ نصرانی بلکہ وہ تو یک طرفہ (خالص ) مسلمان تھے، اور وہ مشرک بھی نہ تھے ۔ابراہم اکارڈز کے ذریعے عرب ریاستیں اسرائیل کو وہ مقام دے رہی ہیں جس سے ممانعت کا قرآنِ پاک میں بارہا ذکر آیا ہے۔
قرآنِ پاک کی سورۃ المائدہ کی آیت نمبر51 میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
ترجمہ:اے ایمان والو : یہود اور نصاری کو دوست نہ بناو وہ ایک دوسرے کے دوست ہیں تم میں سے جو انکو دوست بنائے گا وہ ان ہی میں سے (شمار) ہوگا، بیشک اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔حسب ذیل آیاتِ مبارکہ بھی اس اصول پر دلالت کرتی ہیں۔
ترجمہ : ظالم لوگوں سے میل جول نہ رکھو ورنہ تمہیں بھی دوزخ کی آگ پہنچے گی۔(ھود : 113 )
ترجمہ : ایمان والے مومنوں کے سوا کافروں کو دوست نہ بنائیں۔ (آل عمران : 28 )
ترجمہ : اے ایمان والو میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بنائو تم انہیں دوستی کے پیغام بھیجتے ہو حالانکہ انہوں نے اس حق کے ساتھ کفر کیا ہے جو تمہارے پاس آچکا ہے۔ (الممتحنہ : 1)
ترجمہ : جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں آپ(ﷺ) انہیں اللہ اور اس کے رسول (ﷺ)سے عداوت رکھنے والوں کے ساتھ محبت کرنے والا نہ پائیں گے ، خواہ وہ ان کے باپ ہوں یا بیٹے یا ان کے بھائی ہوں یا قریبی رشتہ دار۔یہی استدلال متعدد احادیثِ مبارکہ سے بھی صراحت کیساتھ ثابت ہے۔ (المجادلۃ : ۲۲)
ابراہم اِکارڈز کے ذریعے عرب ریاستوں کیساتھ تعلقات استواری کا یہ وہی تصور ہے جو استعماریت کے خلاف متحرک فرانسیسی دانشور فرانز فینن (Franz Fanon)نے اپنی مشہور تصنیف “افتادگانِ خاک” (The Wretched of the Earth) میں یوں بیان کیا: “استعماریت یا Imperialismاپنے پیچھے سڑاند کے جراثیم چھوڑ جاتی ہے، جنہیں ہمیں نہ صرف اپنی سرزمین سے بلکہ اپنے اذہان سے بھی سائنسی انداز میں پہچان کر نکال باہر کرنا چاہیے۔’’ فینن کا استدلال تھا کہ استعماری طاقتیں صرف زمین پر نہیں، ذہنوں پر بھی قبضہ کرتی ہیں۔ افریقی رہنما تھامس سانکارا (Thomas Sankara)، جو برکینا فاسو کے پہلے انقلابی صدر تھے، انہوں نے اقوامِ متحدہ میں اپنی تاریخی تقریر (1984) میں کہا تھا؛ ‘‘ قرض افریقہ پر دوبارہ قبضے کا مکاری سے بنایا گیا منصوبہ ہے۔ یہ نوآبادیاتی تسلط (Neo-colonialism) کی ایسی شکل ہے جس میں ہماری معیشتیں اور پالیسیاں باہر سے آنے والے لوگ طے کرتے ہیں۔ جولائی 2025 ء میں یہ اطلاع ملی کہ دوسری ٹرمپ انتظامیہ شام، لبنان اور سعودی عرب کو شامل کرنے کے لیے معاہدے کی توسیع کرنے جارہی ہے۔ قبل ازیں ستمبر 2023 ء میں یو این جنرل اسمبلی کے سالانہ مباحثے میں نیتن یاہو نے اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کا اعلان کیا ۔ غزہ میں 60 ہزار سے زائد معصوم فلسطینیوں کے قاتل صیہونی وزیر اعظم نے اِس موقع پر اسرائیل کے دو نقشے پیش کیے جس میں سے ایک نقشے میں ان تمام ممالک کو سبز رنگ میں دکھایا گیا جو اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کا حصہ ہیں یا اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو بحال رکھنے کے خواہاں ہیں۔ سبز رنگ والے ممالک میں مصر، سوڈان، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، بحرین اور اردن شامل تھے۔ دوسرے نقشے میں نیتن یاہو نے نہ صرف ایران اور خطے میں اس کے اتحادی ممالک شام، عراق، یمن اور لبنان کو سیاہ رنگ میں پیش کیا بلکہ ان علاقوں کو مکروہ کہہ کر مخاطب کیا۔
کارنیگی مڈل ایسٹ سینٹر کے ایک سینیئر فیلو پروفیسر یزید صایغ کہتے ہیں کہ’’اس وقت نیتن یاہو جو کچھ نئے مشرق وسطی کی صورت میں مسلط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اس کا مقصد فلسطینی علاقوں کو اسرائیل کی کالونی بنانا ہے۔‘‘ اسرائیل خاص طور پر مغربی کنارے میں اپنے آباد کاری کے منصوبے کو توسیع دینے کے ارادوں سے پیچھے نہیں ہٹتا۔ وہ عرب اور بین الاقوامی تنقید کے باوجود بستیوں کی تعداد بڑھانے کے ارادے کا اعلان کر چکا ہے۔
اِسی منظرنامے میں بعض مصدقہ اطلاعات کے ذریعے یہ بات حماس کے علم میں آئی کہ نیتن یاہو سعودی عرب کیساتھ معاہدہ کے بعد غزہ پٹی کو ہڑپ کرنے کے لیے فیصلہ کن حملہ کی منصوبہ بندی کرچکا ہے۔ حماس نے نیتن یاہو کے اِنہی ناپاک عزائم کو بھانپتے ہوئے 07 اکتوبر 2023 کو ’’طوفان الاقصی‘‘ آپریشن کے تحت مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں گھس کر اسرائیلی فوجیوں پر حملہ کردیا، صیہونی فوجیوں کو چن چن کر مارا اور درجنوں اسرائیلیوں کو اغوا کرکے ساتھ لے گئے۔ جس کے بعد اسرائیل نے غزہ پر تاریخ کی بدترین جنگ مسلط کردی جو تاحال جاری ہے اور جس میں اب تک 2 لاکھ سے زائد بے گناہ انسان شہید و زخمی ہوچکے، جن میں بیشتر بچے اور خواتین ہیں۔ غزہ پٹی کی قریبا 90 فیصد عمارتیں صیہونی فضائی بمباری اور ٹینکوں، توپوں، ڈرون حملوں اور دھماکوں کا نشانہ بن کر ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں اور قتل و غارت گری، فلسطینیوں کی نسل کشی کا یہ سلسلہ امریکی سرپرستی میں تاحال جاری ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر برائے مشرق وسطی اسٹیو وِٹکوف نے ابھی کچھ روز قبل انکشاف کیا کہجلد ایسے ممالک اسرائیل کو تسلیم کریں گے جن کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ حال ہی میں وزیرِخارجہ و نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اسرائیل کو تبھی تسلیم کرے گا جب فلسطین کی آزاد ریاست قائم ہو، جس کا دارالحکومت القدس ہوگا، یعنی دو ریاستی حل کی حمایت۔جبکہ قائد اعظم محمد علی جناح کی وضع کردہ مستقل خارجہ پالیسی اور نظریہ کے اصولی مقف میں کسی جگہ ایسی بات موجود نہیں ہے کہ پاکستان کسی شرط کے ساتھ اسرائیل کو تسلیم کرے گا، بلکہ قائد اعظم کی پالیسی کے مطابق پاکستان کبھی بھی اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا، اسرائیل ایک ناجائز ریاست اور یورپ کا حرامی بچہ ہے۔
بعض کم ظرف پاکستانی وزرا ابراہیمی معاہدے میں پاکستان کی شمولیت کے اشارے دے رہے ہیں اورکہہ رہے ہیں کہ پاکستان کو اس میں اپنا مفاد دیکھنا ہے، یعنی ایک شک اور شبہ ایجاد کردیا گیا ہے جوکہ قائداعظم محمدعلی جناح، علامہ اقبال اور قیامِ پاکستان سے پہلے کی آل انڈیا مسلم لیگ کے دوٹوک موقف کی صریح خلاف ورزی ہے۔ پاکستان کا ابراہم اکارڈز کا حصہ بننے کا مطلب اسلامیانِ پاکستان کے مسئلہ فلسطین سے متعلق متفقہ دیرینہ موقف کو پسِ پشت ڈال کر فلسطینیوں کی جدوجہدِ آزادی میں پاکستانی قوم کی طویل سیاسی، سفارتی، اخلاقی حمایت پر مشتمل ساڑھے سات دہائیوں کی کوششوں کو سبوتاژ کرنا ہے۔ اس گھنانے معاہدے پر عملدرآمد کا لازمی نتیجہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری جدوجہدِ آزادی کو ڈی ریل کرکے وہاں پر ناجائز بھارتی تسلط اور قبضہ کو دوام بخشنے کے لیے جواز فراہم کرنا ہے۔ 60ہزار سے زائد معصوم فلسطینیوں کا غزہ میں بہنے والا خون، اسلامیانِ پاکستان ، نوجوان طلبا و طالبات، سِول سوسائٹی اور مختلف شعبہ ہائے زندگی اور مذاہب سے تعلق رکھنے والے امن و انصاف پسند عوام کی طرف سے فلسطینی عوام کے حق اور ناجائز صیہونی اسرائیلی ریاست کے خلاف تاریخ ساز احتجاجی مظاہروں، ریلیوں کا اقوامِ عالم سمیت پاکستانی حکمرانوں سے یہی مطالبہ ہے کہ انسانی حقوق کی نام نہاد دعویداری سے آگے نکل کر عملی طور پر فلسطینی بچوں، خواتین اور عوام پر امریکی سرپرستی میں عرصہ دراز سے جاری اسرائیلی ظلم ، سفاکیت اور نسل کشی مہم کا خاتمہ کیا جائے اور اقوامِ متحدہ کے تسلیم شدہ حق کے تحت فلسطینیوں اور کشمیریوں کو ان کا جائز حقِ خودارادیت دِلاکر دنیا میں حقیقی امن اور انصاف کے پیغام کو پنپنے کا موقع فراہم کریں۔ پاکستانی حکمرانوں کی طرف سے فلسطین کے مسئلے پرکسی بھی قسم کا یو ٹرن اور امریکا کے اشاروں پر ابراہیمی معاہدے میں شمولیت بانیانِ پاکستان کے دیریہ، دوٹوک مقف سے غداری اور اسلامیانِ پاکستان کے جذبات و احساسات کی یکسر نفی ہوگی۔ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرحآج بھی قائد اعظم کے پاکستان کی بات کرتے ہیں، اس لیے ہم حکومت کو بتادینا چاہتے ہیں کہ قائد کے پاکستان میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی کوئی جگہ نہیں ہے۔