دعوے بڑے بڑے مگر عمل میں زیرو،قبر میں دعوے نہیں بلکہ اعمال صالحہ کام آئیں گے،ہمیں بحیثیت قوم اعمال صالحہ کی طرف لوٹنا ہے،ہمیں عبادات کی پابندی کرنی ہے،معاملات اور اخلاقیات کو اسوئہ رسول ﷺ کے مطابق ڈھالنا ہے،ہمیں ہر قیمت پر نمازوں کی پابندی کرنی ہے،حضرت ابو الدردا ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ ’’کسی بستی میں یا دیہات میں تین آدمی ہوں اور وہ نماز باجماعت نہ پڑھتے ہوں تو ان پر شیطان یقینا قابو پا لے گا، لہٰذا تم جماعت کی پابندی کو اپنے پر لازم کر لو، کیونکہ بھیڑیا اسی بھیڑ کو اپنا لقمہ بناتا ہے جو گلہ سے الگ دور رہتی ہے۔‘‘مطلب یہ ہے کہ اگر کسی جگہ صرف تین آدمی بھی نماز پڑھنے والے ہوں تو ان کو جماعت ہی سے نماز پڑھنا چاہئے، اگر وہ ایسا نہیں کریں گے تو شیطان آسانی سے ان کو شکار کر سکے گا۔حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ’’با جماعت نماز پڑھنا اکیلے نماز پڑھنے کے مقابلے میں ستائیس درجہ زیادہ فضیلت رکھتا ہے‘‘۔(صحیح بخاری)جس طرح ہماری اس مادی دنیا میں چیزوں کے خواص اور اثرات میں درجوں اور نمبروں کا فرق ہوتا ہے اور اس کی بنا پر ان چیزوں کی افادیت اور قدر و قیمت میں بھی فرق ہو جاتا ہے، اسی طرح ہمارے اعمال میں بھی درجوں اور نمبروں کا فرق ہوتا ہے، اور اس کا صحیح اور تفصیلی علم بس اللہ تعالیٰ ہی کو ہے رسول اللہﷺ جب کسی عمل کے متعلق یہ فرماتے ہیںکہ یہ فلاں عمل کے مقابلہ میں اتنے درجہ افضل ہے تووہ اس انکشاف کی بنا پر فرماتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس سلسلہ میں آپ پر کیا جاتا ہے،پس رسول اللہﷺ کا یہ ارشاد کہ نماز باجماعت کی فضیلت اکیلے نماز پڑھنے کے مقابلے میں ستائیس درجہ زیادہ ہے اور اس کا ثواب ستائیس گنا زیادہ ملنے والا ہے وہ حقیقت ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ پر منکشف فرمائی اور آپ نے اہل ایمان کو بتلائی،اب صاحب ایمان کا مقام یہ ہے کہ وہ اس پر دل سے یقین کرتے ہوئے ہر وقت کی نماز جماعت ہی سے پڑھنے کا اہتمام کرے۔اس حدیث سے ضمناً یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اکیلے پڑھنے والے کی نماز بالکل کالعدم نہیں ہے وہ بھی ادا ہو جاتی ہے لیکن ثواب میں چھبیس درجہ کم رہتی ہے اور یہ بھی یقینا بہت بڑا خسارا اور بڑی محرومی ہے۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ’’جو شخص چالیس دن تک ہر نماز جماعت کے ساتھ پڑھے اس طرح کہ اس کی تکبیر اولی بھی فوت نہ ہو تو اس کے لئے دو برا تیں لکھ دی جاتی ہیں ایک آتش دوزخ سے برات اور دوسری نفاق سے برات۔‘‘ (جامع ترمذی) مطلب یہ ہے کہ کامل ایک چلہ ایسی پابندی اور اہتمام سے جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا کہ تکبیر اولی بھی فوت نہ ہو اللہ تعالیٰ کے نزدیک مقبول و محبوب عمل ہے اور بندہ کے ایمان و اخلاق کی ایسی نشانی ہے کہ اس کے لئے فیصلہ کر دیا جاتا ہے اس کا دل نفاق سے پاک ہے اور یہ ایسا جنتی ہے کہ دوزخ کی آنچ سے بھی وہ کبھی آشنا نہ ہو گا،اللہ کے بندے صدق دل سے ارادہ اور ہمت کریں تو اللہ تعالیٰ سے توفیق کی امید ہے، کوئی بہت بڑی بات نہیں ہے،اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی عمل خیر کی چالیس دن تک پابندی خاص تاثیر رکھتی ہے۔حضرت ابو ہریرہ ؓسے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا جس شخص نے وضو کیا اور اچھی طرح(یعنی پورے آداب کے ساتھ)وضو کیا، پھر وہ(جماعت کے ارادے سے مسجد کی طرف )گیا، وہاں پہنچ کر اس نے دیکھا کہ لوگ جماعت سے نماز پڑھ چکے ہیں اور جماعت ہو چکی، تو اللہ تعالیٰ اس بندے کو بھی ان لوگوں کے برابر ثواب دے گا جو جماعت میں شریک ہوئے اور جنہوں نے جماعت سے نماز ادا کی اور یہ چیز ان لوگوں کے اجر و ثواب میں کمی کا باعث نہیں ہو گی۔ (سنن ابی دائود) مطلب یہ ہے کہ ایک شخص جو جماعت کی پابندی کرتا ہے اور اس کیلئے پورا اہتمام کرتا ہے اس کو اگر کبھی ایسا واقعہ پیش آ جائے کہ وہ اپنی عادت کے مطابق اچھی طرح وضو کر کے جماعت کی نیت سے مسجد جائے اور وہاں جا کر اسے معلوم ہو کہ جماعت ہو چکی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی نیت اور اس کے اہتمام کی وجہ سے اس کو جماعت والی نماز کا پورا ثواب عطا فرمائیں گے، کیونکہ ظاہر ہے کہ اس کی کسی دانستہ کوتاہی یا غفلت و لاپرواہی کی وجہ سے اس کی جماعت فوت نہیں ہوئی ہے بلکہ وقت کے اندازہ کی غلطی یا کسی ایسی ہی وجہ سے وہ بے چارہ جماعت سے رہ گیا ہے، جس میں اس کا قصور نہیں ہے۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ منافقوں پر کوئی نماز بھی فجر و عشاء سے زیادہ بھاری نہیں ہے، اور اگر وہ جانتے کہ ان دونوں میں کیا اجر و ثواب ہے اور کیا برکتیں ہیں تو وہ ان نمازوں میں بھی حاضر ہوا کرتے اگرچہ ان کو گھٹنوں کے بل گھسٹ کر آنا پڑتا (یعنی اگر بالفرض کسی بیماری کی وجہ سے وہ چل کر نہ آ سکتے تو گھٹنوں کے بل گھسٹ کے آتے اس کے بعد آپ نے ارشاد فرمایا) کہ میرے جی میں آتا ہے کہ (کسی دن) میں مذن کو حکم دوں کہ وہ جماعت کیلئے اقامت کہے، پھر میں کسی شخص کو حکم دوں کہ (میری جگہ) وہ لوگوں کی امامت کرے اور خود آگ کے فتیلے ہاتھ میں لوں اور ان لوگوں پر(یعنی ان کے موجود ہوتے ہوئے ان کے گھروں میں )آگ لگا دوں جو اس کے بعد بھی (یعنی اذان سننے کے بعد بھی) نماز میں شرکت کرنے کیلئے گھروں سے نہیں نکلتے۔ (صحیح بخاری) اللہ اکبر! کتنی سخت وعید ہے اور کیسے جلال اور غصہ کا اظہار ہے، رسول اللہﷺ کی طرف سے ان لوگوں کے حق میں جو آپ کے زمانے میں جماعت میں غیر حاضر ہوتے تھے، اور اسی بارے میں رسول اللہﷺ کا اسی طرح ایک لرزہ خیز ارشاد حضرت اسامہ ؓ کی روایت سے سنن ابن ماجہ میں مروی ہے، بلکہ وہ اس سے بھی زیادہ صاف و صریح ہے، اس کے لفاظ یہ ہیں۔ ’’لوگوں کو چاہئے کہ وہ جماعت ترک کرنے سے باز آ جائیں، نہیں تومیں ان کے گھروں میں آگ لگوا دونگا۔‘‘ یہ تارکین جماعت جن کے بارے میں رسول اللہﷺ نے اتنے سخت غصہ کا اظہار فرمایا، خواہ عقیدے کے منافق ہوں یا عمل کے منافق(یعنی دینی اعمال میں سستی اور کوتاہی کرنے والے)بہر حال اس وعید اور دھمکی کا تعلق ان کے عمل ’’ترک جماعت‘‘ سے ہے اسی بنا پر بعض ائمہ سلف(جن میں سے ایک امام احمد بن حنبل بھی ہیں)اس طرف گئے ہیں کہ ہر غیر معذور شخص کے لئے جماعت سے نماز پڑھنا فرض ہے۔ یعنی ان کے نزدیک جس طرح نماز پڑھنا فرض ہے اسی طرح اس کو جماعت سے پڑھنا ایک مستقل فرض ہے اور جماعت کا تارک ایک فرض عین کا تارک ہے،لیکن محققین احناف نے جماعت سے متعلق تمام احادیث کو سامنے رکھ کر یہ رائے قائم کی ہے کہ اس کا درجہ واجب کا ہے اور اس کا ترک گنہگار ہے اور مندرجہ بالا حدیث میں رسول اللہﷺ کا ارشاد ایک طرح کی تہدید اور دھمکی ہے۔(واللہ اعلم)