کروسیٹو نے مطالبہ کیا کہ اب ایسے فیصلے کیے جانے چاہئیں جو اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو کو اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی پر مجبور کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ اقدام اسرائیل کے خلاف نہیں بلکہ وہاں کے عوام کو ایک انتہا پسند حکومت سے بچانے کے لئے ہونا چاہیے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ یورپی رہنما غزہ کا دورہ کیوں نہیں کرتے؟ جیسے انہوں نے کیف کا کیا؟ کیونکہ اسرائیلی حکومت مکالمے سے انکاری ہے اور بنیاد پرستانہ رویہ اپنا چکی ہے۔ دوسری طرف غزہ میں اسرائیلی بمباری سے شہید ہونے والے الجزیرہ کے معروف اور قابل احترام صحافی انس الشریف کا آخری پیغام منظر عام پر آ گیا، جو عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لئے کافی ہے۔(اے کاش کہ عالمی ضمیر اگر زندہ ہوتا) انس الشریف نے 6 اپریل کو اپنے سوشل میڈیا اکائونٹ پر ایک وصیتی پیغام تحریر کیا تھا، جسے انہوں نے اپنے اہلِ خانہ سے کہا تھا کہ جس دن میری شہادت ہو اسے دنیا تک پہنچا دینا اور آج وہ دن آگیا۔اسرائیلی فوج نے غزہ کے الشفا اسپتال کے باہر صحافیوں کے لیے قائم خیمے کو نشانہ بنایا، جس میں انس الشریف اپنے ساتھیوں محمد قریقہ، ابراہیم زاہر، محمد نوفل اور ممن علیوا کے ساتھ شہید ہو گئے۔ یہ حملہ ایک ٹارگٹڈ کارروائی تھی، جس کی اسرائیلی فوج نے تصدیق کرتے ہوئے انس پر حماس سے تعلق کا الزام لگایا، جب کہ انسانی حقوق تنظیموں نے اسرائیلی الزام کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔شہید صحافی انس الشریف اپنے پیغام میں لکھتے ہیں کہ یہ میری وصیت ہے اور میرا آخری پیغام۔اگر یہ الفاظ تم تک پہنچیں تو جان لو کہ اسرائیل مجھے قتل کرنے اور میری آواز خاموش کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔سب سے پہلے السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔اللہ جانتا ہے کہ میں نے اپنی پوری طاقت اور ہر کوشش اپنے لوگوں کے لئے سہارا اور آواز بننے میں لگا دی، جب سے میں نے جبالیہ پناہ گزین کیمپ کی گلیوں اور کوچوں میں آنکھ کھولی۔ میری امید یہ تھی کہ اللہ میری عمر میں برکت دے تاکہ میں اپنے گھر والوں اور پیاروں کے ساتھ اپنی اصل بستی، مقبوضہ عسقلان (المجدل)لوٹ سکوں۔ مگر اللہ کی تقدیر سب پر مقدم ہے اور اس کا فیصلہ اٹل ہے۔میں نے زندگی کے ہر رنگ میں درد کو سہا، بارہا دکھ اور نقصان کا ذائقہ چکھا، لیکن کبھی ایک لمحے کے لیے بھی سچائی بیان کرنے سے نہیں رکاجیسی ہے ویسی، بغیر توڑ مروڑ کے تاکہ اللہ گواہ ہو ان پر جو خاموش رہے، جو ہمارے قتل پر راضی ہوئے، جو ہماری سانسیں گھونٹتے رہے اور جن کے دل ہماری عورتوں اور بچوں کے بکھرے لاشوں کو دیکھ کر بھی نہ پسیجے اور جنہوں نے اس قتل عام کو روکنے کے لئے کچھ نہ کیا جو ڈیڑھ سال سے زائد عرصے سے ہمارے لوگوں پر جاری ہے۔میں تمہارے سپرد کرتا ہوں فلسطین کوجو امتِ مسلمہ کے تاج کا جوہر ہے اور اس دنیا کے ہر آزاد دل کی دھڑکن۔ میں تمہارے سپرد کرتا ہوں اس کے لوگوں کو، اس کے معصوم اور بے قصور بچوں کو، جنہیں نہ خواب دیکھنے کا موقع ملا، نہ امن اور سکون کی زندگی کا۔
ان کے پاکیزہ جسم اسرائیلی بموں اور میزائلوں کے ہزاروں ٹن ملبے تلے کچلے گئے، اور ٹکڑے ٹکڑے ہو کر دیواروں پر بکھر گئے ،میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ نہ زنجیریں تمہاری آواز بند کریں، نہ سرحدیں تمہیں روک سکیں۔ آزادی کی راہوں کے پل بنو، یہاں تک کہ عزت اور آزادی کا سورج ہمارے چھینے گئے وطن پر طلوع ہو۔میں تمہارے سپرد کرتا ہوں میرے گھر والوں کو۔ میں تمہارے سپرد کرتا ہوں اپنی پیاری بیٹی ’’شام‘‘کوجو میری آنکھوں کا نور ہے جسے میں ویسے بڑا ہوتا نہ دیکھ سکا جیسے خواب میں چاہتا تھا۔میں تمہارے سپرد کرتا ہوں اپنے بیٹے ’’صلاح‘‘کوجس کے لیے میری تمنا تھی کہ میں اسے سنبھالتا، پروان چڑھاتا، یہاں تک کہ وہ میرا بوجھ سنبھالنے اور مشن کو آگے بڑھانے کے قابل ہو جاتا۔میں تمہارے سپرد کرتا ہوں اپنی پیاری ماں کوجن کی بابرکت دعائوں نے مجھے یہاں تک پہنچایا، جن کی مناجات میرا قلعہ تھیں اور جن کے نور نے میرا راستہ روشن رکھا۔ میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ ان کو طاقت دے اور ان کی محنت اور محبت کا بہترین بدلہ عطا فرمائے۔میں تمہارے سپرد کرتا ہوں اپنی زندگی کی ساتھی، اپنی پیاری بیوی ’’ام صلاح‘‘ (بیان)کوجس سے جنگ نے مجھے طویل دنوں اور مہینوں تک جدا رکھا، مگر اس نے ہمارے رشتے سے وفاداری نبھائی، زیتون کے تنا کی طرح مضبوط رہی، صبر اور اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے میری غیر موجودگی میں پورا بوجھ اپنے کاندھوں پر اٹھایا۔میں تم سے کہتا ہوں کہ ان کے ساتھ کھڑے رہو، اللہ کے بعد ان کا سہارا بنو۔ اگر میں مروں تو اپنے اصولوں پر ڈٹا ہوا مروں۔ میں اللہ کے سامنے گواہی دیتا ہوں کہ میں اس کی تقدیر پر راضی ہوں، اس سے ملاقات پر یقین رکھتا ہوں اور یقین ہے کہ جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ بہتر اور باقی رہنے والا ہے۔ اے اللہ!مجھے شہداء میں شامل فرما، میرے اگلے پچھلے گناہ معاف فرما اور میرے خون کو میری قوم اور میرے اہل کے لئے آزادی کی راہ کا چراغ بنا دے۔ اگر مجھ سے کوئی کوتاہی ہوئی ہو تو مجھے معاف کرنا اور میرے لئے رحمت کی دعا کرنا، کیونکہ میں نے اپنا وعدہ نبھایا، نہ بدلا، نہ دھوکہ دیا۔غزہ کو نہ بھولنا اور مجھے بھی اپنی سچی دعائوں میں یاد رکھنا، بخشش اور قبولیت کے ساتھ۔