Search
Close this search box.
هفته ,20 جون ,2026ء

کرپٹو کرنسی اور کاغذی نوٹ، شرعی و تاریخی تجزیہ

انسانی تاریخ میں زر(کرنسی)کا تصور ہمیشہ ارتقاء پذیر رہا ہے۔ ابتدا میں سونا، چاندی اور دیگر دھاتیں بطور زر استعمال ہوئیں، پھر کاغذی نوٹ رائج ہوئے اور آج ڈیجیٹل کرنسیاں جنہیں کرپٹو کرنسیاں کہاجاتا ہے سامنے آئی ہیں۔اہم سوال یہ ہے کہ کیا جس اصول پر کاغذی نوٹ کو شریعت نے جائز قرار دیا، وہی اصول کرپٹو کرنسی پر بھی لاگو ہو سکتے ہیں؟ اور کیا موجودہ کرپٹو نظام، بالخصوص BTCاور ETHجیسی کرنسیاں،شرعی معیار پر پورا اترتی ہیں؟شریعت میں کرنسی کے بنیادی اصول قرآن و سنت میں زر و مال کے تبادلےکے لئے درج ذیل اصول بیان ہوئے ہیں:
(الف)باہمی رضا مندی اورجائز تجارت ، (ب)موازنہ و مساوات(جب جنس ایک ہو)،( ج)مالی تحفظ اور نقصان سے اجتناب ۔
ان نصوص کی روشنی میں فقہا نے کرنسی کے لئے تین بنیادی شرائط بیان کی ہیں:عرف میں قبولیت لوگ اسے بطور زر تسلیم کریں۔ حرام عوامل سے پاک ہونا ربا، غررِ فاحش اور میسر سے اجتناب۔حفظِ مال کرنسی مال کے تحفظ کا ذریعہ ہو، نہ کہ نقصان کا سبب۔تاریخی پس منظر، سونا و چاندی سے کاغذی نوٹ تک ،قدیم دور: دینار(سونا) ، درہم (چاندی) اور فلوس (تانبہ)بطور زر استعمال ہوتے تھے۔
کاغذی نوٹ، ابتدا میں یہ سونے یا چاندی کے ذخائر سے جڑے ہوئے تھے اور ضمانت کے طور پر جاری ہوتے تھے۔فقہی قبولیت، ابتدا میں فقہا نے کاغذی نوٹ کو قرض کی سند سمجھا، لیکن بعد میں ضرورت اور عوامی قبولیت کی بنیاد پر چاروں سنی مکاتب فکر نے اسے ’’ثمن اصطلاحی‘‘ مان لیا۔
چاروں سنی مکاتب فکر کا موقف
حنفی،زر یا تو ثمن خلقی(سونا،چاندی)ہو یا ثمن اصطلاحی جو عرف میں رائج ہو۔ کرپٹو کرنسی عرف اور قانون میں قبول ہو تو جائز ہو سکتی ہے۔
مالکی،جو چیز عرف میں معتبر ہو اور عدل قائم کرے وہ زر ہو سکتی ہے۔ کرپٹو کرنسی غرر سے پاک اور حلال تجارت میں ہو تو جائز۔
شافعی،اصل سونا و چاندی ہے، مگر مصلحتِ عامہ پر مبنی دوسری اشیا بھی زر بن سکتی ہیں۔ حرام مقاصد میں استعمال نہ ہو تو جائز۔
حنبلی،کرنسی کا تعین حاکم یا عوامی اتفاق سے ممکن ہے۔ شرائط پوری ہوں تو کرپٹو کرنسی درست۔
معاصرعلماء کی آرا،مصردارالافتاہ : کرپٹو کرنسی کو غیر مستحکم قیمت، قیاس آرائی اور غیر قانونی استعمال کی وجہ سے حرام کہا۔
سوریہ، اثاثہ جاتی بنیاد پر مشروط اجازت دی (سونا،چاندی سے منسلک ڈیجیٹل کرنسی)
عراق، بعض نے منع کیا، بعض نے تجارتی تحفظ کی شرط پر اجازت دی۔
دیگر عرب علماء، ٹیکنالوجی بذاتِ خود حرام نہیں، حکم اس کے استعمال پر ہے۔
پاکستان مفتی تقی عثمانی، فی نفسہ حرام نہیں، مگر موجودہ غیر منظم اور قیاس آرائی پر مبنی صورت خطرناک۔ اثاثہ جاتی بنیاد اور شریعت مطابقت والی ڈیجیٹل کرنسی کی حمایت۔
موجودہ غیر ریاستی کرپٹو کرنسیاں (BTC ETH وغیرہ)کا مسئلہ ۔
بٹ کوائن، ایتھیریم اور دیگر ایسی کرنسیاں کسی ریاست یا مرکزی بینک کی ضمانت کے بجائے ایک کمپنی یاڈیویلپر گروپ کے کنٹرول میں ہیں۔ اس میں یہ خطرات پائے جاتے ہیں،کسی دن کمپنی یا بانی مارکیٹ سے نکل جائے یا سسٹم بند کر دے۔کوائن کی قدر اچانک صفر تک گرجائے (جیسا کہ کئی کرنسیوں کے ساتھ ہو چکا ہے) قیمت میں شدید اتار چڑھا اور مارکیٹ میں مصنوعی ہیرا پھیری (Pump & Dump)۔ کوئی ضامن یا قانونی تحفظ نہ ہونا، جس سے سرمایہ مکمل ضائع ہو سکتا ہے۔
شریعت کی نظر میں یہ سب غرر فاحش (انتہائی غیر یقینی صورتحال(اور میسِر)جوا نما خطرہ کے زمرے میں آتا ہے،جو ناجائز ہے۔ کالم نگار کی تحقیق و رائے،ملکیت کا تحفظ، کرپٹو والٹ میں رکھی اثاثہ جاتی کرنسیاں (سونا،چاندی سے منسلک)ذاتی سونے کی طرح محفوظ ہیں۔
مہنگائی سے تحفظ، بٹ کوائن کی محدود سپلائی اسے کاغذی نوٹ کی لامحدود چھپائی کے مقابلے میں بہتر بناتی ہے، مگر اس کی ضمانت نہ ہونا بڑا خطرہ ہے۔
شریعت کا تقاضا، اگر کرپٹو کرنسی اثاثہ جاتی بنیاد رکھتی ہو، شفاف ہو، اور قانونی و شرعی ضوابط کے تحت ہو، تو یہ کاغذی نوٹ سے زیادہ محفوظ اور منصفانہ ہو سکتی ہے۔ شرعی حکم کا خلاصہ حرام اگر ،جوا نما قیاس آرائی ہو۔
مصنوعی قیمت سازی (Pump & Dump) ہو۔حرام کاروبار میں استعمال ہو۔کوئی ضامن یا حقیقی اثاثہ نہ ہو۔جائز اگر،سونا،چاندی یا اشیائے صرف پر مبنی ہو۔
شفاف اور شرعی اصولوں کے مطابق ہو۔ قانونی طور پر تسلیم شدہ اور منظم ہو۔اگر کرپٹو کرنسی شرعی اصولوں (حفظِ مال، خلو از ربا و غرر و میسر، اور عرفی قبولیت)پر پوری اترے، اثاثہ جاتی بنیاد رکھتی ہو اور جائز تجارت میں استعمال ہو، تو اس کے حلال ہونے میں شرعا گنجائش ہے۔لیکن موجودہ آزاد، غیر منظم، اور بغیر ضمانت کے چلنے والی کرنسیاں جیسے BTC، ETH شدید غرر اور خطرے کی وجہ سے شرعا مشتبہ یا ناجائز کے قریب ہیں۔ مستقبل میں اگر انہیں شریعت و قانون کے مطابق ڈیزائن کیا جائے، تو یہ جائز متبادل بن سکتی۔واللہ اعلم بالصواب

یہ بھی پڑھیں