بھارت اپنا 78واں یومِ آزادی منا رہا ہے انگریزوں کے تقریبا ڈیڑھ سو سالہ دور حکمرانی کے بعد 1947 میں برصغیر آزاد ہوا۔ انگریزوں سے آزادی کی تحریک میں جہاں مسلمانوں نے قربانیاں دیں، وہیں اکثریتی ہندو آبادی اور اس کے رہنمائوں کا بھی نمایاں کردار تھاجن میں مہاتما گاندھی کا نام اس جدوجہد میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ آزادی کے بعد مسلمانوں کے لیے الگ ملک پاکستان معرضِ وجود میں آیا، مگر انگریزوں کے خلاف ہندوئوں، مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کی مشترکہ جدوجہد ایک تاریخی حقیقت ہے
پاکستان کے قیام کی اپنی وجوہات تھیں لیکن آزادی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تناو، کشیدگی اور دشمنی کا ماحول انتہا پسند عناصر نے پیدا کیا جبکہ عوامی سطح پر دونوں طرف ایک دوسرے کے لیے دل میں نرم گوشہ اور قربت کا احساس موجود رہا، 1947 سے ہی کشمیر کا تنازعہ جنگ کی شکل اختیار کر چکا تھا سب سے پہلے وزیراعظم جواہر لال نہرو نے معاملہ اقوامِ متحدہ میں لے جا کر سیز فائر کروایا مگر یہ مسئلہ آج بھی اقوامِ متحدہ کی فائلوں میں حل طلب پڑا ہوا ہے۔
گزشتہ سات دہائیوں میں پاکستان اور بھارت نے کئی جنگیں لڑی ہیں جس کے نتیجے میں پاکستان ٹوٹ گیا اور بنگلہ دیش بھارت کی مدد اور پاکستان دشمنی سے معرضِ وجود میں آیا پھر کبھی دونوں ملکوں کے تعلقات میں گرمجوشی بھی آئی، مگر اکثر حالات اس نہج پر پہنچ گئے کہ تعلقات نہ ہونے کے برابر رہ گئے۔ بھارت نے 15 اگست 1947 کے بعد سے اپنے اداروں کو مضبوط کرنے اورجمہوریت کی راہ اپنائی جبکہ بدقسمتی سے پاکستان 23 سال تک اپنے ملک میں الیکشن ہی نہیں کرواسکا۔ جب بات باہمی دو طرفہ تعلقات کی کریں تو مئی 2025 میں بھارت نےپاکستان پرحملے کی پہل کی گویا پاکستان کو اپنا آسان شکار سمجھا،لیکن بڑے ملک بڑی فوج اور بڑی معیشت کے باوجود بھارت کو شکست کا سامنا کرنا پڑاجبکہ جانی و مالی نقصان دونوں ملکوں کو اٹھانا پڑا بھارت کی ایک بڑی اکثریت اس حقیقت کو تسلیم کرتی ہے کہ یہ جنگ دراصل نریندر مودی کی ذاتی سوچ اور بی جے پی کی سیاسی حکمت عملی کا نتیجہ تھی، جس میں بھارت کو زیادہ نقصان اور ہزیمت اٹھانی پڑی۔بھارت کو بین الاقوامی سطح پر کوئی سفارتی کامیابی نہیں ملی اور مئی کی جنگ کے بعد بھارت تنہائی کا شکار ہوا اور یہ صرف نریندرمودی کی وجہ سے ہوا ہے آج ہندوستان کی عوام مودی کو بددعائیں دے رہی ہے
اب اگرچہ سیزفائرقائم ہےمگر بھارتی حکمران جماعت اورنریندرمودی مودی اپنی سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کےلیےایک اور ایڈونچر کے بارے میں سوچ سکتی ہے۔ دوسری طرف پاکستان کےفیلڈ مارشل عاصم منیر مئی کےمعرکے کےبعد نہ صرف عالمی سطح پر بلکہ اپنےعوام کےدلوں میں بھی کسی حدتک مضبوط مقام بناچکے ہیں اور اگر بڑی اپوزیشن جماعت پی ٹی آئی اور عمران خان کے درمیان تعلقات میں بہتری آتی ہے تو پاکستان میں انکی حمایت میں مزید فیصد اضافہ ہوسکتا ہے ویسے بھی حقیقت یہ ہے کہ موجودہ پاکستان میں اصل طاقت سول قیادت کے بجائے فوج کے ہاتھ میں ہےاور فیلڈ مارشل عاصم منیر کا پورا کیریئر فوجی تربیت اور میدانِ جنگ سےجڑا ہے، سیاست سے نہیں۔ ایسے میں مودی کو کسی بھی قسم کا خطرناک قدم اٹھانے سے پہلے سو بار سوچناچاہیےکیونکہ ان کا مقابلہ ایک ایسے شخص سے ہے جس کی پیشہ ورانہ مہارت ہی لڑائی ہے۔
پاکستان اور بھارت دونوں کی قیادت کو سمجھنا چاہیے کہ امریکہ، چین اور دیگر عالمی طاقتوں کےاپنے اپنےخطے میں مفادات ہیں یہ ممالک خطے کو ہمیشہ اپنے معاشی اور سیاسی مقاصد کےتناظر میں دیکھتے ہیں،اس لیےامن قائم کرنااصل میں ہندوستانیوں اور پاکستانیوں کی ذمہ داری ہے۔ دونوں ممالک قریب ہونے کے باوجود دوریوں کا شکار ہیں۔ سرحدیں ساتھ جڑی ہیں مگر باہم تجارت نہیں ہو پاتی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تجارت پھر بھی غیر رسمی راستوں سے جاری ہے۔ میرے ایک ہندو دوست برطانیہ سے ہندوستان جاتے وقت اپنے دو بریف کیسوں میں پاکستانی چاول بھر کرلےگئے۔ جب میں نے وجہ پوچھی تو بولے پاکستان کے چاول زیادہ اچھے ہیں کیونکہ وہاں کی زمین بہترین ہے کبھی وہ برطانیہ سے تو کبھی دبئی سے چاول خرید کرہندوستان لے جاتے ہیں۔ سوچیے یہ فاصلے اور نفرتیں آخر کب ختم ہوں گی؟
بدقسمتی سے نریندر مودی اس وقت بالکل بھی اس موڈ میں نظر نہیں آتے۔ ہمیشہ یکطرفہ طور پر پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات لگائے جاتے ہیں، حالانکہ بلوچستان میں گرفتارہونے والا بھارتی فوجی کمانڈر کل بھوشن یادیو اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت پاکستان میں اپنی پراکسی کارروائیوں میں ملوث رہا ہے۔ بلوچستان ہو یا خیبرپختونخوا، پاکستان کی طرف سے بھی بھارت پر ثبوتوں کے ساتھ الزامات آتے ہیں۔ یہ الزام در الزام کا سلسلہ تو جاری رہتا ہےمگر نقصان عام انسانوں کا ہوتا ہے۔
دونوں ملک اس وقت دفاع پر بےتحاشا بجٹ خرچ کر رہے ہیں جب کہ عوام غربت، مہنگائی اور بے روزگاری سے دوچار ہیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ دونوں ممالک سیاسی پوائنٹ اسکورنگ اور پراکسی جنگوں کے بجائے امن کو موقع دیں۔ کیوں نہ ایک دس سالہ امن معاہدہ کیا جائے جس کے تحت کشمیریوں کو داخلی خود مختاری دی جائے اور اس عرصے میں کسی بھی قسم کی فوجی مداخلت سے گریزکیاجائے۔ یہی ایک ایسا راستہ ہے جو برصغیر کو جنگ کی آگ سے نکال کر ترقی، خوشحالی اور امن کی طرف لے جا سکتا ہے۔ نہ بھارت پاکستان کو مٹا سکتا ہے، نہ پاکستان بھارت کو۔ دونوں قیادتیں اگر چاہیں تو آج سے ایک نئے باب کا آغاز کر سکتی ہیں، ورنہ تاریخ یہی کہےگی کہ انہوں نے امن کاموقع گنوا دیا مقبوضہ کشمیر ہو یا آزادکشمیر دونوں حصوں میں کشمیری عوام اپنی شناخت کھونا نہیں چاہتےجیسے بہاری گجراتی تامل پنجابی بلوچی پٹھان اپنی شناخت کھونا نہیں چاہتے اسی طرح کشمیریوں کو بھی اپنی شناخت چاہیےاور اپنی رائے سے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اختیار ملنا چاہیے جو جواہر لعل نہرو کے اقوام متحدہ میں جانے سے تسلیم شدہ ہے کشمیریوں کی شناخت اور ملک بھارتی آئین میں تبدیلی کرنے اور الحاق اور اٹوٹ انگ کے نعرے اور دعوے کرنےسےختم نہیں ہوتی اسی لئے آج کشمیری بھارت کی ہر آزادی کے موقع پر یوم سیاہ مناتے ہیں۔