Search
Close this search box.
بدھ ,01 جولائی ,2026ء

ڈیجیٹل دہشت گردی کے خلاف ٹھوس اقدامات

دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فتح پاکستان کی بقا کے لئے ناگزیر ہے۔ سوشل میڈیا کے ذریعے دہشت گرد تنظیموں کی ابلاغی سرگرمیاں ریاست کے وجود کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہیں۔ حکومت نےدہشت گردوں کے سوشل میڈیا اکانٹس کے خلاف بڑا کریک ڈائون شروع کیا ہے جس میں 850 سے زائد اکائونٹس کے خلاف رپورٹ کی گئی ہےاور متعدد کو بلاک کردیا گیا ہے۔
حکومت نے آن لائن یا ڈیجیٹل دہشت گردی کے خاتمے کے لیے فیصلہ کن اقدام کرتے ہوئے مختلف عالمی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کالعدم تنظیموں کے سیکڑوں اکائونٹس رپورٹ اور بلاک کر دیئے۔ ساتھ ہی عالمی برادری سے انتہا پسندانہ پراپیگنڈا روکنے کی مہم میں پر عزم تعاون کی اپیل بھی کی ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیٹو ایجنسی اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے اقوام متحدہ، امریکا اور برطانیہ کی جانب سے کالعدم قرار دی گئی تنظیموں ، تحریک طالبان پاکستان، بلوچ لبریشن آرمی اور بلوچ لبریشن فرنٹ سے منسلک 850 سے زائد اکائونٹس رپورٹ کیے ہیں ۔ ان میں سے 533 اکائونٹس، جن کے فالوورز کی تعداد 20 لاکھ سے زائد تھی، بلاک کیے جا چکے ہیں جب کہ مزیدکارروائی جاری ہے۔
فیس بک،انسٹاگرام،ٹک ٹاک،ایکس (ٹوئٹر)، ٹیلیگرام اور واٹس ایپ پردہشت گرد اکائونٹس کی رپورٹنگ اورڈیٹا کی فراہمی کی درخواستیں بھی کی گئی ہیں۔ پی ٹی اےاوربڑے عالمی پلیٹ فارمزکےنمائندوں کےدرمیان براہِ راست ملاقاتیں بھی ہورہی ہیں تاکہ تادیبی کارروائی میں تیزی لائی جا سکے۔ وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن نے ٹیلیگرام حکام سے خصوصی رابطوں کے ذریعے غیر معمولی تعاون حاصل کیا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان میں ٹیلیگرام پر پابندی ہے۔دہشت گرد گروہ سوشل میڈیا پر بھرتیاں کر رہے ہیں اور واٹس ایپ سمیت دیگر پلیٹ فارمز کے ذریعے پروپیگنڈا پھیلا رہے ہیں۔ یہ سب ایسے کٹھن وقت ہورہا ہے جب کہ پاکستان عالمی سطح پر دہشت گردی کیخلاف اعصاب شکن جنگ لڑ رہا ہے۔ حکومت سوشل میڈیا پلیٹ فارمز،قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان سماجی مسائل اور دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی پر بہتر ہم آہنگی قائم کرنے کے لئے کوشاں ہے۔ یہ حکومتی موقف منطقی ہےکہ آزادی اظہار کےحق کو سلب کرنے کے بجائے دہشت گردی کے خلاف گھیرا تنگ کیاجارہا ہے۔ پاکستان عالمی سطح پر دہشت گردی کے خلاف ایک مضبوط مورچہ ہے۔ ریاستی اداروں نے دہشت گردی سے منسلک سینکڑوں سوشل میڈیا اکائونٹس کا سراغ لگایا ہے۔ پاکستان چاہتا ہے کہ بین الاقوامی سوشل میڈیا کمپنیاں پروپیگنڈا پھیلانے والے کالعدم دہشت گرد تنظیموں کے اکائونٹس بند کریں اور فرضی اکاونٹس چلانے والے افراد کا ڈیٹا بھی حکومت کے ساتھ شیئر کریں۔ دہشت گردتنظیمیں اوروہ افرادجنہیں امریکا، برطانیہ میں کالعدم قرار دیاگیا اور اقوامِ متحدہ کی جانب سےان پرپابندیاں بھی عائد ہیں، وہ سوشل میڈیاپلیٹ فارمز ایکس، فیس بک اور واٹس ایپ پر متحرک کیوں ہیں؟ 2014میں بننے والے نیشنل ایکشن پلان کا مقصود یہی تھا کہ دہشت گردوں کے خلاف قومی سطح پرمربوط اقدامات کئےجائیں۔سوشل میڈیا سے پروپیگنڈا پھیلانے والوں کےخلاف اقدامات کو نظرانداز نہیں کیاجاسکتا۔نیپ کےایجنڈے میں یہ شامل ہےکہ دہشت گرد تنظیموں کی پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے تعریف یا ان کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے پر پابندی عائد کی جائے اور سوشل میڈیا کے دہشت گردی کے فروغ کے لئے غلط استعمال کے خلاف اقدامات کئےجائیں۔ وفاقی حکومت کے مطابق سیکیورٹی حکام نےمختلف سوشل میڈیاپلیٹ فارمز پر 481اکائونٹس کی نشاندہی کی ہے جو کالعدم دہشت گرد گروہوں سے منسلک ہیں اور ان اکائونٹس کے حوالے سے سوشل میڈیا کمپنیوں کو رپورٹ کر دی گئی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی انتظامیہ پر لازم ہےکہ وہ ان اکائونٹس کےچلانےوالوں کی معلومات حکومت کوفراہم کریں تاکہ دہشت گردی کے خلاف آپریشنز کو مزید موثر بنایاجاسکے۔ کمپنیوں کی جانب سے سخت اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔ اگر مصنوعی ذہانت کے ذریعے مزید اکائونٹس کی شناخت کی جائے تو انسداد دہشت گردی کی مہم مزیدموثر ہو سکتی ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بڑی قربانیاں دی ہیں، تاہم سوشل میڈیا پر ان کاوشوں کے خلاف زیریلا پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے۔دہشت گرد گروہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر سرگرم ہیں جب کہ ان تنظیموں پر امریکا اور برطانیہ میں بھی پابندی عائد ہے۔ حکومت کا موقف ہے کہ اصلی یا فرضی ناموں سے بنےسوشل میڈیا اکاونٹس کےذریعے تشدد کو فروغ دینے کے رجحان سے قومی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
عالمی اور مقامی میڈیا سے مصنوعی ذہانت کے ذریعے خودکار انداز سے بلاکنگ سسٹم اپنا کر اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔حکومتی اعداد و شمار کے مطابق فیس بک اور ٹک ٹاک نے 90 فیصد سے زائد درخواستوں پر عمل کیا۔ ٹیلیگرام نے پابندی کے باوجود بھرپور تعاون کیاہے تاہم ایکس اور واٹس ایپ کی عملدرآمد کی شرح مایوس کن حد تک 30 فیصد رہی۔
حکومت نے عالمی پلیٹ فارمز سے 3 نکاتی مطالبہ کیا ہے کہ دہشت گردوں سے منسلک تمام اکائونٹس مستقل بند کیے جائیں۔ جدید AI سسٹم کے ذریعے مواد کو فوری حذف کیا جائے اور پاکستان کے ریگولیٹرز اور سکیورٹی اداروں سے براہِ راست، تیز رفتار رابطہ قائم کیا جائے۔ ان اقدامات کے ذریعے دہشت گردی کی تباہ کن لہر کا موثر تدارک کیا جاسکے گا۔

یہ بھی پڑھیں