مقدس ہستیوں بالخصوص حضور ﷺ کے بدترین گستاخوں کو قانون کی گرفت میں لانے کا سلسلہ شروع ہوا تو ان گستاخوں کو تحفظ دینے کے لئے کچھ لبرلز،سیکولرز نے یہ واویلا شروع کر دیا کہ’’بے گناہ لوگوں پر توہین رسالت کا جھوٹا الزام عائد کرکے انہیں پھنسایا جارہا ہے‘‘۔اس دوران توہین رسالت کے خلاف قانون دفعہ 295سی کو بھی متنازع بنانے کی کوشش کی گئی۔حیرت کی بات تو یہ ہے کہ کچھ دستار و جبہ والے بھی بلاسفیمی پروٹیکشن گینگ کے اس پروپیگنڈے کے سیلاب میں بہہ گئے۔یہ مطالبہ بھی کیا جاتا رہا کہ توہین رسالت کا جھوٹا الزام لگانے والوں کو بھی کڑی سزا دی جائے۔یہ خاکسار ہمیشہ اس موقف کے ساتھ کھڑا ہوا ہے کہ توہین رسالت کا جھوٹا الزام لگانے والے شخص کو بھی سزائے موت ہی ہونی چاہیے۔اس سے کم کی سزا نہیں۔لیکن اسی لمحے اس خاکسار کا یہ چیلنج بھی رہا ہے کہ کوئی ایک تو توہین رسالت کا جھوٹا مقدمہ بطور مثال پیش کر دیا جائے تاکہ کسی ایسے ایک شخص کو تو نشان عبرت بنایا جاسکے کہ جس نے کسی پر توہین رسالت کا جھوٹا الزام لگایا ہو۔مگر آج تک کوئی ایک ایسی مثال نہیں پیش کی جاسکی۔ثابت ہوا کہ تمام گرفتار گستاخوں کے خلاف مقدمات درست ہیں۔
اب آئیے دوسری طرف۔ایک نام نہاد، یوٹیوبر اسکالر انجینئر محمد علی مرزا جہلمی نے چند روز قبل ایک پوڈ کاسٹ پروگرام کے دوران حضور ﷺ اور صحابہ کرامؓ کے متعلق انتہائی توہین آمیز اور غیر مناسب گفتگو کی۔اس شخص کی باقی توہین آمیز گفتگو تو ایک طرف،اس نے دو ارب عیسائیوں سے منسوب کرتے ہوئے حضور اکرم ﷺ کے لئے ایک ایسا توہین آمیز لفظ بھی استعمال کیا،جو اس سے قبل اس خاکسار نے نہ تو کبھی سنا اور نہ کبھی پڑھا کہ کسی ملعون نے اس لفظ کا استعمال کرتے ہوئے حضور ﷺ کی توہین کی ہو،معاذ اللہ۔مرزا جہلمی کی اس جسارت کے بعد عیسائیوں کے مذہبی پیشوائوں نے بھی وضاحتیں پیش کیں کہ’’کسی بھی عیسائی کا نہ تو حضور ﷺ کے متعلق ایسا کوئی عقیدہ ہے،نہ تو کوئی عیسائی حضور ﷺ کے لئے اس لفظ کا استعمال کرتا ہے اور نہ ہی عیسائیوں کی کسی مذہبی کتاب میں حضور ﷺ کے لئے اس لفظ کا استعمال کیا گیا‘عیسائی تو حضور ﷺ کا بہت احترام کرتے ہیں‘‘ ۔مرزا جہلمی کی مذکورہ جسارت اور اس پر عیسائیوں کے مذہبی پیشواں کی جانب سے آنے والی وضاحتیں سامنے آنے کے بعد مرزا جہلمی کے خلاف توہین رسالت کی دفعہ 295 سی کے تحت کارروائی کا مطالبہ تمام مکاتب فکر کی جانب سے سامنے آنے لگا اور یہ مطالبہ بالکل جائز تھا۔وجہ اس کی یہ ہے کہ مرزا جہلمی نے دو ارب عیسائیوں سے منسوب کرتے ہوئے جس توہین آمیز لفظ کا استعمال حضور ﷺ کے لئے کیا اور اس کے بعد عیسائیوں کی جانب سے یہ وضاحت آگئی کہ مرزا جہلمی نے ان سے جھوٹ کو منسوب کیا ہے اور مرزا جہلمی بھی اپنے مذکورہ دعوے کے حق میں کوئی ثبوت پیش کرنے کے بجائے تاویلات پیش کرنا شروع ہو گیا تو اس سے یہ بات تو کم سے کم ثابت ہو گئی تھی کہ اس نے جس توہین آمیز لفظ کا استعمال عیسائیوں سے منسوب کرکے کیا ہے،وہ اس کی اپنی ذہنی اختراع ہے۔اس نے ایک دو افراد کی طرف نہیں،بلکہ دو ارب پر مشتمل پوری دنیا کی مسیحی کمیونٹی پر یہ من گھڑت الزام عائد کر دیا کہ وہ حضور ﷺ کے لئے نعوذ باللہ اس توہین آمیز لفظ کا استعمال کرتے ہیں،پھر وہ توہین رسالت کی سزا کا مستحق کیوں نہیں ہے؟اس نے یہ سنگین جرم کا ارتکاب کیا ہے۔یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ مرزا جہلمی کے اس جرم کے دفاع میں بعض لنڈے کے لبرل بننے کے شوقین ’’یوٹیوبر مفتی‘‘بھی یہ کہہ کر مرزا جہلمی کے جرم کا دفاع کررہے ہیں کہ ’’اس نے تو یہ بتایا تھا کہ عیسائی ایسا کہتے ہیں،کسی کے کفر کو بیان کرنا کفر نہیں،یہ کہنے والے یوٹیوبر مفتی دانستہ طور پر لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔‘‘ یہ باریک نکتہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ فارسی میں ایک شرعی اصول بیان کیا گیا ہے کہ ’’نقل کفر کفر نہ باشد‘‘ ۔یعنی کفر کو نقل کرنا کفر نہیں۔اس بات سے شریعت کا علم رکھنے والے کسی بھی شخص کو کوئی اختلاف نہیں۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس شرعی اصول کو مرزا جہلمی کے مذکورہ سنگین عمل کے دفاع کے لئے استعمال کرنا درست ہے؟
کیا مرزا جہلمی نے عیسائیوں کا کفر بیان کیا تھا ؟ مرزا جہلمی نے عیسائیوں سے منسوب کرتے ہوئے جس توہین آمیز لفظ کا استعمال حضور ﷺ کے لئے کیا،معاذ اللہ، اگر وہ لفظ واقعتا عیسائی حضور ﷺ کے لئے استعمال کرتے ہوتے تو پھر مرزا جہلمی کے خلاف توہین رسالت کے مقدمے کا مطالبہ کرنا ناجائز عمل ہوتا۔لیکن اگر یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ اس نے عیسائیوں سے منسوب کرتے ہوئے جس توہین آمیز لفظ کا استعمال کائنات کی سب سے عظیم ہستی کے لئے کیا ہے،وہ لفظ عیسائی استعمال ہی نہیں کرتے تو پھر یہ کہہ کر مرزا جہلمی کا دفاع کیسے کیا جاسکتا ہے کہ کسی کے کفر کو بیان کرنا کفر نہیں ہوتا؟ پہلے تو یہ ثابت کیا جائے کہ مرزا جہلمی نے واقعی عیسائیوں کا کفر بیان کیا ہے۔بصورت دیگر اگر وہ مرزا جہلمی کی اپنی ذہنی اختراع ہے تو پھر اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اس نے ایک سنگین ترین جرم کا ارتکاب کیا ہے،اسے مذکورہ شرعی اصول کی چھتری تلے تحفظ فراہم نہیں کیا جا سکتا۔ آخر میں میرا سوال ان سیکولرز اور لبرلز سے ہے کہ جو کسی ایک فرد پر تو توہین رسالت کا جھوٹا الزام عائد کرنے والے شخص کے لئے کڑی سزا کا مطالبہ کرتے ہیں،باوجود اس کے کہ آج تک ان کے پاس ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں کہ کبھی کسی شخص کے خلاف توہین رسالت کے قانون دفعہ 295 سی کا غلط استعمال ہوا ہو،وہ اب دو ارب عیسائیوں پر توہین رسالت کے جھوٹے الزام پر کیوں خاموش ہیں؟اس کے برعکس اس وقت وہ ہی لوگ توہین رسالت کا جھوٹا الزام لگانے والے کے خلاف قانونی چارہ جوئی کررہے ہیں،جو گستاخوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرتے رہے ہیں۔مگر جو لوگ توہین رسالت کے جھوٹے الزام پر بھی کڑی سزا کا مطالبہ کرتے رہے ہیں،ان میں سے کچھ تو اس وقت خاموش ہیں اور جو بول رہے ہیں،وہ بھی ان کے خلاف بول رہے ہیں،جو توہین رسالت کا جھوٹا الزام عائد کرنے والے شخص کے خلاف قانونی چارہ جوئی کررہے ہیں۔یہ منافقت نہیں تو اور کیا ہے؟آج تو موقع ہے کہ توہین رسالت کا جھوٹا الزام لگانے والے شخص کو نشان عبرت بناکر آئندہ کے لئے ایک ایسی مثال قائم کر دی جائے کہ کوئی شخص کسی بھی دوسرے شخص سے حضور ﷺ کے متعلق کسی بھی توہین آمیز لفظ‘عمل کو حقائق کے برعکس منسوب کرتے ہوئے ہزار دفعہ سوچے۔ہمارا ملک چونکہ ایک آئین و قانون کے تحت چلایا جارہا ہے اور آئین کے تحت اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے بھی قانون کا درجہ رکھتے ہیں۔اس لئے یہ خاکسار توہین رسالت کے خلاف مشہور زمانہ سلمان شاہد کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے 2017 کے فیصلے سے مذکورہ معاملے کے متعلقہ حصے کو نقل کرتے ہوئے اپنی گزارشات کا اختتام کرتا ہے۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں یہ قرار دیا ہے کہ ’’توہین رسالت کا جھوٹا الزام لگانا کسی جرم کی غلط اطلاع دینے اور دفعہ 182 مجموعہ تعزیرات پاکستان کے تحت سزا وار عمل نہیں ہے بلکہ یہ از خود ایک سنگین جرم ہے جو کہ الزام لگانے والا کسی بے گناہ فرد سے توہین رسالت کے الفاظ،حرکات یا عمل منسوب کر کے کم از کم خود اس جرم کا ارتکاب کرتا ہے‘‘۔