معروف برطانوی مئورخ ٹائن بی نے کہا تھا کہ ’’امریکہ ایک وسیع و عریض ملک ہے اور اسی وسعت کی وجہ سے وہاں سرحدی روح پیدا ہوئی۔اس وسیع خطے پر اپنی تاریخ کے آغاز میں ایک بنجر خطہ زمین کے فطری تنائو کو نظر اندازکرتے کرتے امریکیوں نے دوسرے لوگوں کو نظر انداز کرنا شروع کر دیا ،جب امریکہ کو دوسری اقوام سے واسطہ پڑتا ہے تو یہ سرحدی روح امریکہ کی بے پایاں قوت کے ثبوت کے طور پراستعمال ہوتی ہے‘‘ بین الاقوامی تعلقات میں ایسے لمحات اکثر آتے ہیں جو طاقتوراقوام کے رویوں اور ترجیحات کو طشت ازبام کر دیتے ہیں ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے اچانک بھارت کا مجوزہ دورہ منسوخ کردینا اسی زمرے میں آتا ہے جو Quad سمٹ کے تناظر میں ایک اہم موقع تصور کیا جارہا تھا ۔ فیصلہ محض ایک سفارتی اشارہ نہیں بلکہ امریکہ ، بھارت تعلقات کی اس تاریخی ناروائی کا تسلسل ہے جس نے ہمیشہ دونوں ممالک میں دوری و نزدیکی پیدا کی۔ امریکہ اور انڈیا کے تعلقات کبھی سیدھی لکیر کی صورت نہیں رہے ۔تقسیم ہند کے بعد بھارت نے غیر جانب تحریک سے وابستگی کی بناء پر سویت یونین کی دوستی کو گلے لگانا بہتر سمجھا،جبکہ امریکہ نے پاکستان کے ساتھ قربت بڑھانے کو ترجیح دی۔
1971 ء کی جنگ میں واشنگٹن نے دہلی کی بجائے اسلام آباد کاساتھ دیا جس سے تعلقات میں بدگمانی اور سردمہری پیدا ہوئی۔سرد جنگ کے بعد اگر چہ انڈیانے امریکہ کے درمیان فاصلے کم کئے، لیکن 1998ء کے نیوکلیئردھماکوں پر عائد امریکی پابندیاں نئی کشیدگی کا باعث بنیں۔2005 ء کے سول نیوکلیئر معاہدے نے دونوں ممالک کے درمیان قربتیں بڑھائیں اور انڈیا کو بین الاقوامی سیاست میں ایک بڑے کھلاڑی کے طور پر متعارف کرایا۔نریندر مودی کے دور حکومت میں Quad یعنی امریکہ،انڈیا ،جاپان اور آسٹریلیا بین الاقوامی اتحاد جس کا مقصد سکیورٹی، معیشت اور خاص طور پر انڈو۔ پیسفک خطے میں چین کے اثرورسوخ کا مقابلہ کرنا ہے ۔ صدر ٹرمپ کے حالیہ فیصلے کی کئی وجوہات ہیں مثلاً روسی تیل کی خریداری پر امریکہ کا شدید ردعمل، جس کی وجہ سے بھارتی مصنوعات پر 50 فیصد تک درآمدی ٹیکس لگایا گیا۔
امریکہ کا یہ اقدام امریکہ انڈیا تعلقات میں گہری دراڑ کاسبب بنا۔صدر ٹرمپ کے پاک ،بھارت تنازعے میں ثالثی کے کردار کے دعوے پر وزیر اعظم نریندر مودی کا سخت رد عمل کا اظہار ،جو دونوں رہنمائوں کے درمیان بد اعتمادی کا باعث ثابت ہوا۔اس پر مستزاد یہ کہ Quad تعلقات کہ جس میں آپس کے اعتماد کی دراڑیں بھرنے کے امکان کی توقع کی جارہی تھی مگر صدرٹرمپ کا عین موقع پر بھارت کا دورہ منسوخ کردینا۔ یہ سرد مہری کا ایک اور شاخسانہ ہے۔حقیقت میں یہ پہلا موقع نہیں کہ امریکہ ،انڈیا تعلقات میں بدگمانی اور بداعتمادی کی دراڑیں پڑی ہوں کیونکہ اس رشتے کی تاریخی حیثیت یہ ہے کہ یہ اسٹریٹجک ضرورتوں پر قائم رشتہ ہے ،اس میں جذباتی وابستگی کا سرے سے کوئی تعلق ہی نہیں کہ جس کی بنیاد ہر دفاعی تعاون اور تجارتی امکانات تعلقات کی بلند جہتوںپر لے جاتے ہیں بلکہ جغرافیائی سیاست اور معاشی مفادات ان کے زوال کا باعث بن جاتے ہیں ۔
صدر ٹرمپ کے تازہ فیصلے نے ایک بار پھر اس امر کا اظہار کیا ہے کہ واشنگٹن اور دہلی کے درمیان اتحاد جتنا بھی مضبوط کیوں نہ ہو یہ ہمیشہ سیاسی اختلافات کے ڈگمگا نے کے عمل سے گزر سکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ امریکہ اور بھارت کے درمیان تعلقات آج بھی ایک ایسے دوراہے پر کھڑے ہیں جہاں ٹکرائو اور بچائو دونوں کے امکانات بیک وقت موجود ہیں ۔صدر ٹرمپ کا دورہ بھارت منسوخ ہونا ایک سطحی اور وقتی فیصلہ نہیں بلکہ اس امر کا اعادہ ہے کہ عالمی سیاست میں مستقل دوستی کاکوئی جواز نہیں ہوتا ،اس میں فقط مفادات کی اہمیت ہوتی ہے۔ اگر دہلی اور واشنگٹن کو مستقبل قریب میں ایک دوسرے کا حقیقی شراکت دار بننا ہے تو محض دفاعی ،تجارتی معاہدے کافی نہیں بلکہ اعتماد،شفاف مکالمہ اور سفارتی سنجیدگی اور بردباری بھی ضروری ہے۔مگر ٹائن بی کے مطابق امریکہ کسی کا دوست نہیں ، یہ وہ سانپ ہے جو آستین میں پلتا ہے اور اسی کی اوٹ میں اپنی ضرورت جتنادودھ پیتا ہے اور مشکل وقت میں اسی کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے جو اس کے مفادات کا ساتھی ہو۔یہی اس کی سرحدی روح کا تقاضا ہے۔