Search
Close this search box.
اتوار ,07 جون ,2026ء

امریکہ انڈیا خلیج اور پاک چین روس قربتیں؟

دروغ مصلحت آمیز کو آسمان رفعت تک پہنچانے کے لئے کچھ سچائیوں کو بھی تسلیم کرنا پڑتا ہے۔بین الاقوامی سیاست کی بساط پر بڑی طاقتوں کی صف بندیاں کس امر کا پیش خیمہ ہو سکتی ہیں؟ امریکہ انڈیا کےدرمیان پیدا کی جانے والی خلیج کہیں نورا کشتی تو نہیں ؟یہ آج کے اہم سوالات ہیں ۔
اس میں شک نہیں کہ بڑی طاقتیں ہمیشہ سے غیر متوقع موڑ لیتی رہی ہیں ۔سرد جنگ کے بعد دنیا ایک قطبی نظام میں داخل ہوئی جہاں امریکہ نے ناقابل چیلنج حیثیت حاصل کر لی ،لیکن اب حالات تیزی سے رخ تبدیل کر رہے ہیں ۔چین اور روس کے درمیان سمٹتے ہوئے فاصلے عالمی منظر نامے پر طاقت کے ایک نئے توازن کی صورت گری کررہے ہیں اور پاکستان کا ان دونوں ممالک کے بیچ بڑھتا ہوا رجحان خطے میں نئی سفارتی حرکیات کو جنم دے رہا ہے۔ایسے میں امریکہ اور بھارت کے تعلقات میں بڑھتی ہوئی خلیج آپس کے اعتماد کے بحران کو عیاں کر رہی ہے ۔کل تک ان دوممالک کے درمیان باہمی رشتوں کو فطری اتحاد کا نام دیا جاتا تھا ،آج تجارتی اور دفاعی معاہدوں پر تحفظات کی صورت حال پیدا ہو رہی ہے۔
مفادات کی کشمکش نے نئی دہلی اور واشنگٹن میں خلیج کے آثار صاف دکھائی دینے لگے ہیں جس نے امریکی ایوانوں میں روس ،چین اور پاکستان کی قربتوں کی کہانیاں زور شور سے سنائی دے رہی ہیں، جنہوں نے نہ صرف حالات میں تشویش بڑھا دی ہے بلکہ یہ خدشات بھی سر اٹھارہے ہیں کہ کہیں خطے میں نئے سرد جنگی اتحاد بنناشروع نہ ہوجائیں ۔امریکی پالیسی سازوں کے لئے یہ حالات دوہری آزمائش کی طرف پیش رفت کرتے نظر آرہے ہیں کہ ایک جانب چین اور روس کی قربتوں کو روکنےکےلئے بھارت امریکی دراڑیں پریشان کن ثابت ہوسکتی ہیں اور دوسری طرف پاکستان کی جغرافیائی اور اسٹریٹجک اہمیت ایک بار پھر رونما ہونےکو ہے ۔جو امریکہ کو اپنی پرانی حکمت پر نئےسرےسے سوچنے پر مائل کرسکتی ہے۔
اس نوعیت کےپیدا ہونےوالے سوالات عالمی قوتوں کے بدلتے ہوئےتوازن اورخارجہ پالیسیوں کے نئے زاویوں کو اجاگرکر رہےہیں۔ بفرض محال چین ،روس اورپاکستان ایک ہی صفحے پرآجاتےہیں اور بھارت ،امریکہ کے اعتماد کی فضا ابرآلودرہتی ہے تو اس سے امریکی ایوانوں میں کئی طرح کی بحثیں ایک کھلبلی کی صورت ظہور پذیر ہوں گی۔
امریکہ کی پالیسی شروع دن سے یہ رہی ہےکہ روس اور چین کے درمیان قربتیں نہ بڑھنے پائیں اوراس تناظرمیں وہ بھارت کوخطےمیں توازن پیداکرنے والی قوت کےطور پراستعمال کرےاوراگرپاکستان روس اورچین کےکندھے سےکندھا ملالیتا ہےتو بھارت،امریکہ پیسفک حکمت عملی کوایک واضح دھچکےکاسامناکرناپڑسکتا ہے۔یوں امریکہ کاانڈیاپرٹوٹتاہوا بھروسہ واشنگٹن کے پالیسی سازوں کی نیندیں اچاٹ کرنےکا سبب بن سکتا ہے۔
دوسری طرف امریکی اقتدارکے ایوانوں میں یہ امر بھی تشویش کاشاخسانہ بن سکتا ہے کہ امریکہ کا پاکستان کو پےدرپے نظر اندازکرنا عقلی تقاضہ ہرگز نہ تھا کیونکہ افغانستان سے نکل جانےکے بعد اب وسطی ایشیا اور توانائی کی راہداریوں میں پاکستان کی جغرافیائی اہمیت مستحکم ہوچکی ہےجو امریکہ کے لئے نظر ثانی شدہ پالیسی اختیار کرنے پر لازم ٹھہرے گی۔
یہ بھی بعید ازقیاس نہیں کہ مستقبل قریب میں روس ،چین اور پاکستان کے علاوہ ایران و دیگرممالک بھی امریکہ کے لئے ایک نیا درد سر بنیں ۔اس صورت میں امریکی ایوانوں میں دفاعی بجٹ میں اضافہ کرنے ،اتحادیوں کو مزید اعتماد میں لینے اور نیٹو کو ایشیا مزید فعال کرنے جیسے معاملات پر ایوانوں میں بحث و مباحثے کی تکرار چھڑے۔پھر یوں ہوگا کہ امریکی کانگریس میں بیانات اورقراردادوں کابازار گرم ہوگا۔تھنک ٹینکس، سیمینارزاور رپورٹس واشنگٹن پردبائو ڈالنے پرمجبورہو کر اپنی حیثیت کو قائم رکھنے کاسودا سر میں سمائے رکھناہےتو خطے میں نئی حکمت عملیوں پر عمل درآمد کی راہیں بنائیں ۔پاکستان پر سفارتی اور معاشی دبائو بڑھائیں تو بھارت کو دفاعی ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کی پھر سے پیش کش کریں،چین اور روس کے درمیان خلیج ڈالنےکےلئےمیڈیا کی انتہائی خدمات کے حصول کو ممکن بنائیں ۔تب ہی نئے سرے سے خطے میں اعتماد اور بھروسے کی فضا پیدا کی جاسکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں