Search
Close this search box.
اتوار ,07 جون ,2026ء

عوامی شعور پر دستک

آج کا اظہاریہ مرتب کرنے سے پہلے میں بتاتا چلوں کہ میں نہ تو ماہر تاریخ ہوں نہ تاریخ دان ، بلکہ تاریخ کا ایک طالب علم یوں ،جو تاریخ اور جغرافیئے کی تلاش کے سفر میں رہتا ہوں اس بارے کبھی کبھار فلسفہ میں بھی تانک جھانک کرلیتا ہوں کہ آخر انسان کی پناہ گاہ کس گوشہ عافیت میں ہے ۔اس سفر میں مجھے تیز و سرکش گھوڑوں کی ٹاپوں اور ان پر سوار باغی سپاہیوں کی یلغار کی آوازیںبھی سنائی دیتی ہیں اور اپنی ہی سلطنتوں پر قابض ہوجانے والی افواج کی چیرہ دستیوں کے المناک مناظر بھی دیکھتا رہتا ہو ں ، جو کبھی مجھے سہم جانے پر مجبور کرتے ہیں اور کبھی خود علم بغاوت ہاتھ میں لے کر سراپا احتجاج ہوجانیکا جذبہ عطا کرتے ہیں ،اس راہ میں لڑنے کے لئے ہتھیار میرا قلم ہے جو میرے حوصلے اور عزم کی آہنی ڈھال بھی ہے ۔
ماضی کی تاریخ کی وہ اقوام زندہ ہیں اور ہمارے لئے مثال بھی کہ جنہوں نے اپنے تحفظ کے لئے مضبوط فوجی ادارے قائم کئے کہ ریاست کو محفوظ رکھا جا سکے ،جیسی کہ سابقہ سلطنت عثمانیہ کے بعد قائم ہونے والی جمہوریہ ترکی۔جس کے قیام میں مصطفی کمال پاشانے فوج کو اہم کردار دیا۔اور فوج نے اپنے آپ کو قوم پرستی ،سیکولرازم اور آئین کی ضامن قرار دیا ،اسی لئے بیسویں صدی میں جب بھی سول حکومتیں عدم استحکام کا شکار ہوئیں فوج مداخلت پر اتر آتی اور یہی مداخلتیں بعد ازاں براہ راست فوجی بغاوتوں کا معمولبن گئیں۔اس نوعیت کی پہلی بغاوت 1960 ء میں ہوئی جبفوج نے مداخلت کی جو وزیراعظم عدنان مندریس کی پھانسی پر منتج ہوئی۔پھر 1971ء میں فوج نے میمورنڈم کے ذریعے حکومت کو مستعفی ہونے پر مجبور کیا ۔پھر 1980ء میں جنرل کنعان ایورن نیاقتدارپرقبضہ کر کے آئین معطل کر دیا اور ملک بھر میں سختیوں کا بازار گرم کیا ،عوامی حقوق کو تہہ و بالا کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی ۔
1997 ء میں ’’سافٹ بغاوت‘‘کے نام پر فوج نے ایک بار پھر اسلام پسند وزیراعظم نجم الدین اربکان کی حکومت کا خاتمہ کردیا۔ان پے در پے واقعات سے یہی امر طشت ازبام ہوتا ہے کہ عام طور پر ملک کی حفاظت کے لئے بنائے جانے والے فوجی ادارے یاان کے سرکردہ افراد خود کو سیاسی میدان کے فیصلہ کن کھلاڑیوں کے طور پر منوانے کے خواہشمند ہوتے ہیں ۔جس کا ایک مظاہرہ 2016 ء میں ترکیہ کی فوج نے ایک بارپھر دہرایا کہ اردگان حکومت کو اقتدار سے باہر کیا جا سکے ۔ انقرہ اور استنبول میں ترک فوج ٹینکوں کے ساتھ سڑکوں پر نکل آئی اور پارلیمنٹ کو بموں کا نشانہ تک بنانے کی کوشش کی ،مگر فوج کی اس باغیانہ کارروائی کو روکنے کے لاکھوں عوام جمہوریت کے حق میں سڑکوں پر امڈ آئے یہاں تک کہدندناتے ہوئے فوجی ٹینکوں کے سامنے لیٹنے تک سے گریز نہ کیا،وجہ صاف ظاہر تھی کہ صدر رجب طیب اردگان کی طویل عرصہ سے قائم اسلامی جمہوری حکومت نے لوگوں کے دلوں میں جمہوری اقدار کو مستحکم کردیا تھا اور ترکیہ کے باشعور عوام یہ نہیں چاہتے تھے کہ ایک بار پھر ان کے جمہوری حقوق پر فوج شب خون مارے۔فوجی بغاوت کو کچلنے کے بعداردگان حکومت نے فوجی طاقت کو بہت حد تک محدودکردیا یہاں تک کہ بغاوت میں ملوث فوجیوں اور انہیں کمک مہیا کرنے والی قوتوں کو کڑی سزائوں سے دوچار کیا گیا۔۔
اس میں شک نہیں کہ ابھی بھی ترکیہ کے سیاسی منظر نامے پرغیر جمہوری قوتیں گدھوں کی مانند منڈلاتی ہوئی دکھلائی دیتی ہیں ،مگر ترک عوام کی جمہوریت کے ساتھ محبت اور وارفتگی آج بھی دیگر ایسے ممالک کی غیر جمہوری اورکاسہ لیس قوتوں کو یہ یاد دلاتی ہے کہ اب چور دروازوںاور طاقتور اداروں کی پشت پناہی رکھنے والی حکومتوں کے پاس زیادہ وقت نہیں رہا ۔ عوامی شعور پر یہ دستک صاف سنائی دے رہی کہ آنے والے دنوں میں اقتدار بندوق سے نہیں بلکہ ووٹ سے طے ہوگا۔ان شااللہ

یہ بھی پڑھیں