دنیا کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ چھوٹے سے چھوٹے ملک میں بھی بڑے تغیرات پورے خطے کی سیاست پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ہمالیہ کی بلند چوٹیوں کے سائے میں بسنے والا نیپال صدیوں تک ایک پرسکون بادشاہت رہا، مگر بیسویں اور اکیسویں صدی کے تقاضوں نے اس کے خدوخال بدل ڈالے۔ کبھی شاہی مطلق العنانیت کے خلاف عوامی مزاحمت، کبھی مائو نواز تحریک کی گونج، تو کبھی جمہوری تجربات نے اسے جھنجھوڑا۔ آج نیپال ایک بار پھر تاریخ کے نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ حالیہ سیاسی تبدیلی نے نہ صرف اندرونی طاقت کے توازن کو متاثر کیا ہے بلکہ پڑوسی ممالک بھارت اور چین کے لیے بھی نئے سوالات اٹھا دیئے ہیں۔یہ تبدیلی آیا جمہوری استحکام کی طرف اشارہ ہے یا ایک نئے آمرانہ تجربے کا پیش خیمہ؟ کیا نیپالی عوام کی امنگیں پروان چڑھنے جا رہی ہیں یا پھر یہ تبدیلی محض طاقت کے ایوانوں میں ہونے والی ایک اور کشمکش ہے؟
یہی سوالات آج نیپال کے سیاسی منظرنامے کو سمجھنے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ انقلاب سے مراد کسی معاشرے یا ریاست میں بنیادی اور ہمہ گیر تبدیلی ہوتی ہے ،جس میں سب کچھ یکسر بدل جاتا ہے ،نظام کہن کو جڑ سے اکھاڑ کر ایک نئے نظام کی بنیاد ڈالی جاتی ہے ۔انقلاب اکثر عوامی تحریک ، بغاوت ، یا مسلح جدوجہد کے نتیجے میں آتا ہے اور یہ تبدیلی فقط حکومت تک محدود نہیں رہتی بلکہ معیشت، معاشرت ، ثقافت اور افکارو نظریات تک متاثر ہوتے ہیں ۔نیپال میں جو انقلابی تبدیلیاں آئیں انہیں مختلف ناموں سے تعبیر کیا جاتا ہے اور ان کا پس منظر بھی مختلف ہے ۔
1951ء کا جمہوری انقلاب شاہی مطلق العنانی اور رانا خاندان کی آمریت کے خلاف آیا جس میں نیپال میں پہلی بار جمہوریت کی بنیاد رکھی گئی۔1990ء میں عوامی تحریک چلی جس نے شاہی مطلق العنانیت کو لگام دیتے ہوئے محدود کر دیا ، جس کے نتیجے میں کثیر الجماعتی جمہوریت کا ظہور ہوا۔ اس کے سولہ سال بعد 2006ء دوسری عوامی تحریک رونما ہوئی جو مائونوازوں اور سیاسی جماعتوں اور عوامی مظاہروں پر مشتمل تھی جو شاہ گیانندر کے اقتدار کے خاتمے پر منتج ہوئی جس کے بطن سے جمہوریہ نیپال نے جنم لیا۔اسی دوران ہی 1996 ء میں مائو نواز بغاوت ہوئی ،مائو نوازوں نے کسانوں اور مزدوروں کو منظم کر کے ایک گوریلا جنگ لڑی جسے ’’عوامی جدو جہد آزادی‘‘ کانام دیا گیا ۔دس سالہ خانہ جنگی کے بعد شاہی اقتدار سپر انداز ہونے پر مجبور ہوا اورنیپال ایک بار پھر ایک جمہوری ملک بن گیا۔
تازہ ترین صورتحال سےجوتبدیلیاں ہونے جارہی ہیں ان کےاندربھی انقلابی نمایاں ہے۔ عوامی مظاہروں کےدبائو پرحکومت سیاست، قوانین یااختیارات میں ردوبدل پرمجبورہوئی ہے۔ نوجوان (Gen Z)کی قیادت میں عوام کی ایک خودساختہ تحریک شروع ہوئی ہے ،جس نے سوشل میڈیا کی پابندیوں ، بدعنوانی اور میرٹ کی دھجیاں اڑانے جیسے مسائل پر حکومتی عہدیداروں سے مواخذے کو اپنامنشور بنایا ہے ۔ان مظاہروں کی وجہ سے اقتدار کے ایوانوں میں بڑے پیمانے پر کھلبلی مچ گئی۔
یہاں تک کہ وزیر اعظم کے پی شرماکو عوامی احتجاج اور تشدد کے بعد سوشل میڈیا فورمزکوبند کرنے اورچند ہلاکتوں کی بنیاد پروزیرصحت، وزیرزراعت اور وزیر داخلہ نے استعفے دے دیئے۔ ان حالات کو انقلاب کا پیش خیمہ تو کہاجا سکتا ہے ایک کامل انقلاب نہیں کیونکہ انقلاب ہونےکے لئے نظام اختیارات اور قوانین میں بنیادی تبدیلیاں لانا ضروری ہیں۔ اس انقلاب میں نوجوانوں کی بیداری اور مواصلاتی ٹیکنالوجی کا کردار حد سے بڑھ کر ہے جنہوں نے ڈیجیٹل دنیا اور جنریشن زی یعنی 1995 ء سے 2010 ء میں آنکھ کھولی ۔جنہیں’’ ڈیجیٹل نیٹو‘‘ بھی کہاجاتا ہےکیونکہ یہ بچپن ہی سے انٹرنیٹ، اسمارٹ فونز اور سوشل میڈیا کے ماحول میں پلے بڑھے۔ان میں رسمی لکیروں پر چلنے کا رجحان کم اور سوال کرنے کا زیادہ ہے ۔
یہ روایتی اقدار پر بھی چلنے والے نہیں ہیں۔ سچائی،احتساب، شفافیت اور انصاف ان کا بنیادی تھیسس ہے اور آزادی اظہار پر قدغن ان کی نفرت کا سب سے اہم نشانہ ہے ۔نسل زی کا سب سے بڑا مطالبہ یہ ہے کہ طبقاتی نظام کا خاتمہ ہو،مخصوص خاندانوں کی حکمرانی کے رواج کو دفن کیا جائے ۔سوشل میڈیا اور آن لائن پلیٹ فارمز پر اعتماد کی فضا قائم رکھی جائے ۔تعلیم سستی ہو ،کاروبار کے مواقع سب پر کھلے ہوں ۔
نیپال کے موجودہ Gen Z مظاہرے خاص اہمیت کے حامل ہیں یہ نوجوانوں کی پہلی بڑی تحریک ہے جو نہ صرف آن لائن بلکہ حقیقی دنیا میں طاقتور ردعمل کے ساتھ رونما ہوئی ہے ۔بہر حال جنریشن زی کا سیاسی کردار ابھر کر سامنے آرہا ہے جس کے کئی نمایاں پہلو ہیں جن پر لکھا جانا آج کی ضرورت ہے ۔