ایک دفعہ مسلسل کئی دن کا فاقہ ہوگیا پڑوس کی ایک نیک بی بی نے کچھ بھیجا‘شیخ کمال الدینؒ نے آٹے کو مٹی کے ایک برتن میں ڈال کر آگ پر چڑھادیا اسی وقت ایک گڈری پوش درویش آپہنچا اور کچھ کھانے کو مانگا ۔ محبوب الٰہیؒ نے دیگ کو اٹھا کر درویش کے سامنے رکھ دیا اس نے دیگ سے کچھ گرم لقمے منہ میں ڈالے پھر دیگ کو اٹھا کر پٹخ دیا اور یہ کہتا ہوا خلاء میں گم ہوگیا‘شیخ نظام الدین اولیاء ؒ کو حضرت بابا فرید الدین گنج شکرؒ نے نعمت باطن سے نوازا۔میں نے ان کی فقیری کی دیگ کو توڑ ڈالا۔ اب وہ ظاہر اور باطن کی نعمتوں کے سلطان ہوگئے۔
اس عجیب وغریب واقعہ کے بعد محبوب الٰہیؒ کا فقروفاقہ جاتا رہا اور فتوحات کا یہ حال ہوگیا کہ دولت کا دریا دروازہ کے آگے بہتا تھا۔ کوئی وقت فتوحات سے خالی نہ ہوتا تھا اس کے ساتھ ہی آپ کی محبوبیت اور ہر دلعزیزی اس قدر بڑھ گئی کہ آپ کی خانقاہ کے گرد ہر وقت ایک ہجوم رہتا۔ امیر وغریب سب ہی آپ کے چشمۂ فیض سے سراب ہوتے اور آپ کی شہرت ہندوستان کے گوشہ گوشہ میں پھیل گئی۔
بابا فرید گنج شکر ؒ نے اپنے مرید کو رخصت کرتے وقت چند نصیحتیں کی تھیں جن کا خلاصہ یہ تھا‘ ہمیشہ مجاہدہ میں مشغول رہنا،شاگردوں کو تعلیم دینا،دنیا کی تمام تر خواہشات کو ترک کردینا ،خلوت نشین بننا اور خلوت نشینی میں طرح طرح کی عبادات سے معمور رہنا،محبوب الٰہی نے اپنے پیرومرشد کی ان نصائح پر نہایت سختی سے پابندی کی اور عمل کیا۔
چنانچہ صاحب سیرالاولیاء کا بیان ہے کہ آپ نے جوانی کے زمانے میں کامل ۳۰ سال تک نہایت سخت مجاہدے کیے۔ جوانی کے بعد بقیہ زندگی بھی نہایت سخت مجاہدے میں گزاری اور یہ مجاہدے پہلے سے بھی زیادہ سخت تھے۔ دنیاوی جاہ وجلال آپ کے خدام کے پیروں میں روندا جاتا تھا اور ہر طرف سے تحائف برابر چلے آتے تھے لیکن آپ کا قانع نفس بھی اس طرف متوجہ نہیں ہوتا جس وقت آپ اپنی زندگی کے ۸۰ برس کے مرحلے طے کر چکے تھے تو بھی پانچوں وقت کوٹھے سے اتر کر نماز باجماعت ادا کرتے اور اس عمر میں بھی ہمیشہ روزے سے رہتے اور افطار کے وقت بہت ہی کم غذا تناول فرماتے ۔ اکثر آدھی روٹی تلخ کریلے کے ساتھ نوش فرماتے ۔(سیرالاولیاء)
آپ کا معمول تھا کہ چاشت اور اشراق کی نمازوں کے بعد مسندرشدوہدایت پر تشریف لے جاتے۔ اس وقت زیادہ تر صوفیا کرام فقراء کا مجمع رہتا اور آپ اس میں سلوک وطریقت کے حقائق بیان فرماتے اور فقراء ومساکین کو روپے اور غلہ اور تحفہ تقسیم کرتے۔
دوسری مجلس ظہر کی نماز کے بعد سے عصر تک ہوتی اس مجلس میں زیادہ تر طلباء اور تشنگان علوم کا مجمع ہوتا اس میں آپ علمی نکات بیان فرماتے ۔ حدیث کی بعض کتابوں کا بھی درس ہوتا لوگ سرجھکائے بیٹھے رہتے۔ ہر شخص یہ محسوس کرتا رہتا تھا کہ وہ الہامی باتیں سن رہا ہے اور رات تو پوری کی پوری عبادت میں گزر جاتی تمام رات آپ پر وارفتگی طاری رہتی۔ غرض یہ کہ خدا کا محبوب اپنے شب وروز خالق حقیقی کی عبادت اور ریاضت میں صرف کرتا۔
آپ کا مطبخ ہمیشہ گرم رہتا کئی ہزار فقراء ومساکین روزانہ کھانا کھاتے۔ خانقاہ میں جو کچھ آتا شام تک تقسیم ہو جاتا۔ حکم تھا کہ کوئی چیز بچا کر نہ رکھی جائے جب خانقاہ میں زیادہ مال واسباب جمع ہو جاتا آپ رونے لگتے اور حکم ہوتا کہ سب کو اسی وقت تقسیم کردیا جائے‘جمعہ کے روز تمام خانقاہ کو خالی کرنے کا حکم دیتے۔ خانقاہ میں کوئی چیز باقی نہیں رہی نوکر آکر کہتا کہ جھاڑو تک دے دی گئی ہے اب کوئی چیز باقی نہیں ہے اس پر آپ اظہار اطمینان فرماتے اس کے بعد جامع مسجد تشریف لے جاتے اور اطمینان سے نماز ادا فرماتے۔
ایک بار ایک سوداگر لٹ گیا۔ حضرت شیخ بہا ئو الدین زکریا ملتانیؒ کے صاحبزادے کی سفارش لے کر حضرت محبوب الٰہی کی خدمت میں پہنچا۔ حضرت محبوب الٰہی ؒنے خادم خاص کو حکم دیا کہ صبح سے چاشت تک جو کچھ آئے اس سوداگر کے حوالہ کردو چاشت کے وقت تک بارہ ہزاراشرفیاں آسکیں ۔ آپ نے یہ ساری رقم سوداگر کے حوالے کردی۔
ایک مرتبہ کسی مرید نے پانچ سو اشرفیاں بطور نذر بھیجیں۔ اس وقت ایک قلندر فقیر حضرت کے پاس بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے کہا کہ اس میں میرا حصہ بھی ہے آپ نے مسکرا کر جواب دیا کچھ نہیں بلکہ سب تمہارا ہے یہ کہہ کہ تمام اشرفیاں قلندر کو دے دیں‘اس جُودوسخا کے باوجود استغنا کا یہ عالم تھا کہ اگر بادشاہوں یا شہزادوں میں سے کوئی تحفہ یا ہدیہ پیش کرتا تو ایک سروآہ بھرتے اور فرماتے یہ لوگ کہاں آتے ہیں اور درویش کوغارت کرتے ہیں ۔ اس پرکبھی کبھی آنکھوں میں آنسو بھی بھرلاتے اور ان کے ہدیات اور تحائف لینے سے انکار کردیتے۔
حضرت کی فیاضی اور دسترخوان کی وسعت اتنی بڑھی ہوتی تھی کہ اگر خزانے بھرے ہوتے ہوں تو خالی ہو جائیں لیکن مستقل آمدنی کے بغیر آخر وقت تک آپ کے شاہانہ اخراجات جاری رہے‘جس دروازے پر مال ودولت کا دریا بہتا ہو خود اس کا یہ عالم ہے کہ جب تمام مہمان اور مسافر کھانے سے فارغ ہو جاتے تو سب سے آخر میں افطار کے وقت آدھی اور زیادہ سے زیادہ ایک روٹی سبزی یا تلخ کریلے کے ساتھ کھاتے‘بابا فرید الدین گنج شکرؒ فرمایا کرتے تھے کہ ایسی حالت میں جبکہ ہزاروں بندگان خدا سڑکوں پر بھوکے پڑے ہیں تو میں لذیذ کھانے کھاکر ان کو کیوں کر بھول سکتا ہوں۔
سردی کے موسم میں باربار کروٹیں بدلتے اور فرماتے کہ غریب اور نادار لوگ کیسے سردی برداشت کرتے ہوں گے غرضیکہ آپ کے پردرددل میں اپنے خالق کی معرفت اور اس کی مخلوق کیلئے شفقت اور محبت بھری ہوئی تھی۔
پہلے تحریر کیا جا چکا ہے کہ بادشاہوں اور شہزادوں کے ہدئیے اور تحائف قبول نہیں کرتے تھے آنکھوں میں آنسو بھرلاتے اور فرماتے کہ مجھے دنیا سے نفرت ہے۔میرے پیرومرشد حضرت گنج شکرؒ نے ایک دن مجھ سے کہا کہ نظامؒ میں نے تیرے لیے دنیا کی ایک مقدار کافی خداوندکریم سے طلب کی ہے‘میں یہ سن کر سر سے پائوں تک لرز گیا اور دل میں کہا کہ آہ بہت سے بزرگ اسی دنیا کی وجہ سے فتنہ میں پڑ گئے،افسوس میرا کیا حال ہوگا۔ میرے دل میں یہ خیال گزرا ہی تھا کہ پیرومرشد نے فرمایا تم خاطر جمع رکھو دنیا تمہارے لیے فتنہ نہ ہوگی آپ فرماتے ہیں کہ میں حضرت کی اس بات سے بہت خوش ہوا اور سجدۂ شکر بجالایا۔ ( جاری ہے )