ان کا انتقال 12 ستمبر 2010ء کو ہوا،آج ان کے انتقال کو 15برس بیت چکے ،وہ مرد حق،مردقلندر صاحب نسبت بزرگ تھے، ایک ایسے اللہ والے بزرگ کہ جنہیں دیکھ کر خدا یاد آجاتا تھا،اس خاکسار پہ ان کی شفقتیں تو پرانی تھیں‘مگر ایک موقع کا خاص طور پر ذکر اس لئے کر رہا ہوں تاکہ ان کی عاجزی و انکساری ، چھوٹوں پہ شفقت اور تواضع سمجھ میں آ سکے، قائد کشمیر مولانا فاروق کشمیری کے حکم اور ’’ان کی‘‘ دعوت پر یہ خاکسار مرکز علم و عرفان دارالعلوم پلندری کے سالانہ اجتماع میں حاضر ہوا تو وہاں ایک مقامی دوست سے ہلکی سی بد مزگی پیدا ہو گئی ،یہ خاکسار بیان کئے بغیر ہی عباس پور روانہ ہو گیا،جہاں حضرت مولانا اشفاق کشمیری نور اللہ مرقدہ کے ہاں جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرنا تھا،میری خوش قسمتی کہ وہاں ابن امیر شریعت ولی ابن ولی حضرت مولانا عطا المومن شاہ بخاری نور اللہ مرقدہ بھی تشریف لائے ہوئے تھے،عباسپور میں ہی کشمیر کے اس مرد درویش کا پیغام ملا کہ واپسی ہر قیمت پر پلندری حضرت جی کے دولت کدے پر ہونی چاہئے ،حضرت سید عطا المومن شاہ بخاری نور اللہ مرقدہ کی ہمراہی میں ان کے دولت کدے پر حاضری ہوئی تووہ باوجود ضعف کے سراپا انتظار تھے،اس ملاقات کے دوران انہوںنے شفقت و محبت کی انتہا کرتے ہوئے بڑی قیمتی نصیحتیں فرمائیں‘اسی دوران بڑی نفاست کے ساتھ کھانا لگا دیا گیا،اچانک لاٹھی کے سہارے وہ مر د درویش اٹھے اور پانی کا جگ تھام کر میری طرف ہاتھ دھلوانے کے لیے بڑھے،ہر چند کے قریب کھڑے شاگردوں بلکہ خود ابن امیر شریعت نے ان سے پانی کا برتن لینے کی کوشش کی ،مگر انہوں نے عجب شان عاجزی کے ساتھ اس خاکسار کے ہاتھ دھلوائے ‘ ’’آہ‘‘یادیں رہ گئیں اور ان کو جنت مکیں ہوئے 15 سال بیت گئے ،وہ علم و عرفاں کا پیکر اور جرات و بہادری کا استعارہ تھے، آپ کی دینی،سیاسی،علمی،تحریکی اور فکری خدمات کا اعتراف دوست دشمن سب ہی کرتے ہیں، آپ نے علوم نبوت کی دولت تقسیم کرنے کے ساتھ ساتھ ،دعوت و تبلیغ ،درس و تدریس،سیاست، جہاد اور ملت کی رہنمائی کا فریضہ سر انجام دینے میں کسی قسم کے بخل سے کام نہیں لیا۔
خطہ کشمیر اور اہل کشمیر کو یہ شرف حاصل ہے کہ اسے شیخ الحدیث،استاذ العلماء، ڈوگرہ راج سے ٹکرانے والے مجاہد ،مر درویش حضرت مولانا محمد یوسف خان ؒ جیسے مرد قلندر نصیب ہوئے،جنہوں نے علمی میدان کے ساتھ ساتھ کشمیر کی تحریک آزادی ،ختم نبوت اور نظریاتی استحکام میں بھی اپنا تاریخی کردار ادا کیا۔حضرت مولانا محمد یوسف خان ؒ خطہ کشمیر کے ان اکابرین میں شامل ہیں کہ جنہوں نے کشمیر کی بنجر زمین کو دروس قرآن اور علوم نبوت کی روشنی سے نہ صرف یہ کہ سیراب کیا، بلکہ اہل کشمیر کی فکری اور نظریاتی راہنمائی کا فریضہ بھی سر انجام دیا، شیخ الحدیث مولانا محمد یوسف خان نور اللہ مرقدہ 1918ء میں آزاد کشمیر کے ضلع سدھنوتی کے مردم خیز علاقے منگ میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم اپنے علاقے میں حاصل کرنے کے بعد دارالعلوم دیوبند تشریف لے گئے جہاں سے 1942ء میں سند فراغت حاصل کی۔اس دوران جن اساتذہ کرام سے استفادہ کیا ان میں حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی ؒ،حضرت مولانا قاری محمد طیب قاسمیؒ ، حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی ؒ،حضرت مولانا اعزاز علی ؒ اور مولانا محمد ابراہیم بلیاوی ؒشامل ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ جب آپ دارالعلوم دیوبند سے علمی فیض لے کر واپس لوٹے تو خطہ کشمیر فتنوں،جہالت اور استعماری چالوں کی آماجگاہ بنا ہوا تھا۔ڈوگرہ رجیم نے اہلیان کشمیر کی زندگی کو اجیرن بنا رکھا تھا۔کشمیری قوم کسی ایسے رہبر کی تلاش میں تھی جو انہیں پنجہ استبداد سے خلاصی دلا سکے۔ان حالات میں ’’کلمہ حق‘‘کہنا موت کو دعوت دینے کے مترادف تھا۔ عین اس وقت شیخ الحدیث مولانا محمد یوسف خان کشمیری قوم کے لئے ایک مسیحا بن کر سامنے آئے۔وطن واپسی کے بعد ایک عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مولانا محمد یوسف خان ؒ نے ڈوگرہ سامراج کو للکارتے ہوئے اعلان فرمایا تھا کہ’’تمہیں یہ حق حاصل نہیں کہ ہمارے سروں پر حکومت کرو۔تمہارا نظام ظلم،جبر اور ناانصافی پر مبنی ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ مسلمان کا خون بہانا حرام ہے اور گائے کا گوشت کھانا حلال ہے، مسلمان اگر گائے کا گوشت کھائے تو اس کی سزا سات سال ہے اور ایک ہندو کے ہاتھوں اگر مسلمان قتل ہو جائے تو اس کی سزا چھ ماہ ہے، یہ ظلم ہے، میں گائے کا پیشاب پینے والے ڈوگرہ کے خلاف بغاوت کرتا ہوں اور اس قانون کو نہیں مانتا ، جس میں ایک مسلمان کا خون بہانا اتنا سستا ہو‘‘چنانچہ اس تقریر کی وجہ سے ان پر کیس بن گیا اور انہیں گرفتار کر کے راولاکوٹ لئے جایا گیا اور جیل میں ڈال دیا گیا ‘ اس وقت فصل بیجنے کا موسم تھا لوگوں نے اپنے اپنے کھیتوں میں بیل جوتے ہوئے تھے، مولانا یوسف خان نور اللہ مرقدہ کی گرفتاری کی خبر پورے علاقے میں پھیل گئی۔
لیفٹیننٹ افسر خان شہید کی والدہ گھر سے نکل کر بازار کی طرف آئیں، اس کھیت میں منگ کے مشہور بزرگ سردار سرمست خان نے بیل جوتے ہوئے تھے ان سے مخاطب ہوکر بولی کہ سردار سرمست خان ہمارے علاقے کا ایک ہی آدمی علم دین حاصل کرکے آیا اس کو ڈوگرے گرفتار کر کے لئے گئے ہیں اور آپ لوگ ہل چلا رہے ہیں اگر آپ مرد‘مولوی صاحب کو چھڑانے کے لئے نہیں جا سکتے تو پھر یہ ہمارے کنگن پہن کر گھروں کی دیکھ بھال کر و ،ہم خواتین جاتی ہیں، مولوی صاحب کو چھڑانے کے لئے، یہ سننا تھا کہ سردار سرمست خان نے بیل وہیں پہ چھوڑے اور وہاں سے چل کر مسجد پہنچئے اور منگ سے ایک بہت بڑے جلوس کی شکل میں لوگ راولاکوٹ کی طرف چل پڑے ، یہ خبر ڈو گرہ حکومت کو ملی تو اس نے جلوس کے راولاکوٹ پہنچنے سے پہلے ہی حضرت مولانا محمد یوسف کو پونچھ جیل منتقل کردیا ، چھ ماہ پونچھ جیل میں بند رہنے کے بعد جب رہا ہوکر واپس اپنے گھر منگ تشریف لائے اس وقت تک ان کے علم اور بہادری کی شہرت چہار سو پھیل چکی تھی، آپ نے دارلعلوم پلندری کی بنیاد رکھی جو آج آزاد کشمیر کا سب سے بڑا دینی مرکز ہے۔ جمعیت علماء اسلام جموں وکشمیر کے امیر مولانا سعید یوسف خان آپ ہی کے ہونہار فرزند اور جانشین ہیں،خطہ کشمیر کے لئے شیخ الحدیث مولانا سعید یوسف خان کی دینی اور ملی قربانیوں کو کبھی نہیں بھلایا جا سکتا ۔ اللہ پاک آپ کی دینی و ملی خدمات کو قبول فرمائے‘ آمین ثم آمین۔