عرب سربراہی اجلاس ہمیشہ فلسطین اور اسرائیل تنازع کے حوالے سے ایک معتبر پلیٹ فارم سمجھے جاتے رہے ہیں ،لیکن سوال یہ ہے کہ اناجلاسوں کا مجموعی نتیجہ کیا رہا ہے ،کیا ان اجلاسوں کے اعلامیے اسرائیل پر خاطرخواہ دبائو کا باعث بن سکے ؟اصل حقیقت یہ ہے کہ فلسطین کے مسئلے پر عرب کی اجتماعی آواز عالمی سطح پر ہمیشہ ایکنعرہ رہی ہے عملی قوت میں کبھی نہیں ڈھل سکی۔اگر تاریخ کے تناظر میں دیکھا جائے تو عرب لیگ کے اجلاس بلانے میں کوئی کمی بیشی نہیں رکھی گئی ، قراردادیں منظور کرنے میں بھی کوئی کوتاہی روا نہیں رکھی گئی ،دھواں دار اور شعلہ بار تقاریر بھی خوب ہوئیں مگر عملی اقدامات کا فقدان رہا،اور وہ سب نقار خانے میں توتیکی آواز ٹھہرے۔ایک وقت ایسا آیا جب اسرائیل کو یقینی دبائو سے گزرنا پڑا ،وہوقت تھا جب عرب دنیا نے معاشی و سیاسی اشتراک کے ذریعے حقیقی دبائو کی کیفیت طاری کرنے کے لئے قدم اٹھایا ،یہ1973ء کی بات ہے جب تیل کی پالیسی کوہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا۔لیکن اس کے بعد سب چراغوں کی روشنی اس وقت مدھم پڑگئی جب داخلی تقسیم اور اپنے اپنے مفادات کی کشمکش کا آغاز ہوا جس نے عرب اتحاد کو پارہ پارہ یا کمزورتر کردیا۔تاریخی تناظر میں تجزیہ کیا جائے تو اس امر کو اس طور بیان کیا جا سکتا ہے کہ1945ء میں عرب لیگ کا قیام عمل میں آیا جو فلسطین کی خیر خواہی و آزادی اور عربدنیا کو ایک پلیٹ فارم پر کھڑےہونے کے لے وجود میں آئی جس کا ایک بڑا مقصد اسرائیل کیتوسیع پسندی کو روکنا بھی تھا۔1948ء کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد عرب لیگ نے فلسطین کی حمایت میں متعدد اجلاس بلائے ، مگر عملی طور پر اسرائیل کی طاقت کے گھمنڈ اور مغربی ممالک خصوصا امریکہ اور برطانیہ کی اسرائیلی پشت پناہی کے باعث موئثر دبائو ڈالنے میں بے نیل و مرام رہی ۔1967ء اور 1973ء کی جنگوں خاص طور پر 67 میں عرب ممالک کی شکست کے بعد خرطوم سربراہی اجلاس میں ” No peace ,No,recognition, No , Negotiations, with Israel. گویا کہ تھری این ز کی پالیسی اپنائی گئی ۔1973ء کی جنگ کے بعد عرب ممالک نے تیل کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے امریکہ اور مغربی ممالک پر زور ڈالا، جس سے وقتی طور پر اسرائیل کو دبائو برداشت کرناپڑا۔1979ء میں کیمپ ڈیوڈ معاہدے نے عرب لیگ کو تقسیم کیا ، جس کے نتیجے میں عالم عرب کا اجتماعی دبائو کمزور پڑ گیا۔2002ء نے عرب لیگ نے ایکمتفقہ امن منصوبہ پیش کیا کہ”اسرائیل فلسطینی سر زمین سے دستبردار ہو تو عرب ممالک اسے تسلیم کر لیں گے “لیکن اسرائیل نے اسے مسترد کیا اور اس پر مستزاد مغرب نے بھی اس پر زیادہ زور نہ دیا۔اب جبکہ عر ب سربراہی اجلاس اکثر و بیش تر اسرائیل کے خلاف قرار دادیں منظور کرتے ہیں مگر یہ سب علامتی ہوتی ہیں۔ فقط انیس سو تہتر میں تیل کا ہتھیار سودمند ثابت ہوا جو کہ بعد میں معاشی انحصار اور آپس کی تقسیم نےغیر موئثرکردیا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ عالم عرب کا اجتماعی لائحہعمل اسرائیل کو عالمی سطح پر تنہائی سے دوچار کر سکتا تھا ،مگر 2020ء کے بعد ابراہام” معاہدات کے ذریعے کئی عرب ممالک نے اسرائیل سے سفارتی تعلقات بحال کرکے اس موقع کو گنوا دیا۔یہ بات پتھر پر لکیر ہے کہ اسرائیل پر فقط ایک صورت میں دبائو ممکن ہے کہ عرب ممالک کامل یکجہتی اور عملیاقدامات کے ذریعے اسرائیل کامعاشی مقاطعہ کریں ، اسے سفارتی طور پر تنہائی سے ہم کنار کریں اور تیل و گیس پالیسی کو اس کے خلاف ہتھیار بنائیں۔آج بھی عرب سربراہی اجلاس اسرائیل کے خلاف ایک رد عملپیدا کر سکتا ہے مگر اس اجلاس کی گونج ہمیشہ صدا بصحرا ثابت ہوتی رہی ہے ۔سوال یہ نہیں کہ عرب لیگ دبائو ڈال سکتی ہے یا نہیں، سوال یہ ہے کہ عرب دنیا اپنی صفوں میں وہ ہم آہنگی اور یکجہتی پیدا کر سکتی ہے جسکے بغیر کوئی دبائو دبائو نہیں بلکہ صرف بیان رہ جاتا ہے ۔اب وقت بتائے گا کہ یہ اجلاس تاریخ کا بوجھ اٹھاتے رہیں گے یا کبھی تاریخ کا رخ موڑنے کا موجب بھی بن سکیں گے۔۔۔۔۔!