Search
Close this search box.
جمعرات ,04 جون ,2026ء

قطر پر حملہ اور ہومیوپیتھک ردعمل

دوحہ میں پیر 15ستمبر کو منعقدہ ہنگامی عرب اسلامی سربراہی اجلاس نے اپنے مشترکہ اعلامیے میں اسرائیل کے حالیہ حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے قطر کی خودمختاری پر کھلا حملہ اور عالمی قانون کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ قطر پر یہ جارحیت دراصل غزہ میں جنگ بندی کے لئے جاری ثالثی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے۔ اجلاس نے دوحہ کے ساتھ مکمل یکجہتی اور اس کے ہر ممکنہ جوابِی اقدام کی غیر مشروط حمایت کا اعلان کیا۔سمٹ نے زور دیا کہ ایک غیر جانب دار ثالثی مرکز کو نشانہ بنانا امن کی ہر کوشش کو ناکام بنانے کے مترادف ہے۔ اجلاس نے قطر کے بردبار اور دانشمندانہ کردار کی تعریف کرتے ہوئے اس کے ساتھ مصر اور امریکا کی جاری ثالثی مساعی کو اہم قرار دیا۔ اعلامیے میں اسرائیل کی رکنیت معطل کرنے کے لیے اقوام متحدہ میں مشترکہ لائحہ عمل اپنانے اور بین الاقوامی فوجداری عدالت کے جاری کردہ وارنٹ گرفتاری پر عمل درآمد کی اپیل کی گئی۔اعلامیے میں اسرائیلی دعوئوں اور توجیہات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا گیا کہ محاصرے اور بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کرنا جنگی جرم ہے۔ کسی بھی ممکنہ اسرائیلی فیصلے کے تحت فلسطینی علاقوں کے انضمام یا جبری ہجرت کی سخت مذمت کی گئی اور عالمی برادری سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا گیا تاکہ قطر، غزہ، مغربی کنارے اور خطے کے دیگر ممالک پر مسلسل جارحیت کا سلسلہ روکا جا سکے۔
سربراہ اجلاس نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں حالیہ ’’اعلانِ نیویارک‘‘اور دو ریاستی حل کی توثیق کا خیر مقدم کیا اور اس بات پر زور دیا کہ مشرقِ وسطیٰ کو ایٹمی اور تباہ کن ہتھیاروں سے پاک علاقہ بنایا جائے۔واضح رہے کہ چند روز قبل اسرائیلی فضائی حملے میں دوحہ میں موجود ح۔م۔ اس کے رہنما خلیل الحیہ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی جس میں وہ تو بچ گئے، تاہم ان کے دفتر کے سربراہ جہاد لبد ان کے بیٹے ہمام الحیہ اور تین ساتھی جاں بحق ہو گئے۔ اس حملے نے عرب و اسلامی دنیا کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر بھی شدید ردعمل کو جنم دیا، جبکہ قطر نے اپنی خودمختاری کے تحفظ کے لئے جواب دینے کا حق محفوظ رکھا ہے۔ سوال یہ ہے کہ دوحہ کی سربراہی کانفرنس نہ تو اسرائیل کو سزا دے سکی اور نہ ہی غزہ کو جلتی آگ سے بچا سکی تو کیوں؟ افسوس کہ آج کے عرب حقیقت میں ٹکڑیوں میں بٹے ہوئے ہیں،ان میں سے بعض اسرائیل کے ساتھ اعلانیہ یا خفیہ معاہدے کیے بیٹھے ہیں اور بعض واشنگٹن کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔ جو ان کے خلاف کھڑا ہو، اس کا تختہ الٹ دیا جاتا ہے یا اس پر بغاوت مسلط کر دی جاتی ہے، زیادہ تر عرب حکومتیں عوامی ووٹ یا جمہوری طریقے سے قائم نہیں ہوئیں بلکہ بیرونی فیصلوں کے نتیجے میں مسلط کی گئیں۔ وہ بیرونی طاقتوں کے بنائے ہوئے ایجنڈے پر عمل کرتی ہیں اور اپنے فیصلوں کی مالک نہیں۔ ایسے میں ان سے غزہ کی حمایت یا قطر کے دفاع کی توقع کیسے کی جا سکتی ، دوسری طرف اسرائیلی فوج نے غزہ سٹی پر قبضے کیلئے ٹینکوں اور جنگی طیاروں سے پورے بلاکس تباہ کر دیے ہیں۔ جس پر فلسطینی صدر نے اسرائیل کے مغربی کنارے میں جاری خطرناک اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے امریکی انتظامیہ سے فوری طور پر مداخلت کا مطالبہ کیاہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل مغربی کنارے میں جبری نقل مکانی کیلئے بڑا بحران پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی جارحیت سے اب تک 62 ہزار 895 فلسطینی شہید اور 1لاکھ 56 ہزار 629 زخمی ہو چکے ہیں۔ اسرائیل کی جارحیت اور ناکہ بندی سے پیدا ہونیوالی بھوک کے نتیجے میں دو بچوں سمیت مزید 10فلسطینی شہید ہو گئے۔ اب تک 313 افراد بھوک سے انتقال کر چکے ہیں۔ تازہ واقعات میں اسرائیلی قابض افواج نے رام اللہ، لبیرہ اور الخلیل پر وحشیانہ حملے کر کے فلسطینی شہریوں کو نشانہ بنایا۔ الحمدللہ دنیا کے ہر حصے میں اور دوسرے مذاہب میں بھی ایسے زندہ دل لوگ ضرور موجود ہیں، جو خاموش نہیں رہ سکتے، اور اسرائیلی ظلم و جبر کے خلاف بول رہے ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق 209سے زائد یورپی سابق سفارتکاروں، 110سفیروں اور 25اعلیٰ سطح کے ڈائریکٹرز نے یورپی یونین کے اداروں کو ایک کھلا خط لکھا ہے جس میں غزہ جنگ فوری روکنے کے لئے عملی اقدامات پر زور دیا گیا ہے۔ کینیڈین فوٹو جرنلسٹ ویلیری زنک نے برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نیوز ایجنسی سے یہ کہہ کر استعفیٰ دے دیا کہ یہ ادارہ اسرائیل کے پروپیگنڈے کو تقویت دے کر غزہ میں صحافیوں کے قتل میں براہ راست شریک ہے۔ امریکی ٹیکنالوجی کمپنی مائیکروسافٹ کے اسرائیلی دفاعی افواج کے ساتھ تعلقات کے خلاف جاری احتجاج میں مظاہرین نے کمپنی کے صدر بریڈا سمتھ کے دفتر پر قبضہ کر لیا ۔

یہ بھی پڑھیں