اللہ کے محبوبﷺ کو مدینہ سے آنے والے قافلے کی اطلاع مل چکی تھی۔ یہ سن 13نبوی کا واقعہ ہے۔ مدینہ سے 72 مرد اور 2خواتین پر مشتمل انصار کا قافلہ حضرت مصعب بن عمیر کی سربراہی میں زیارت نبیﷺ سے مشرف ہونے کے لئے اور آپﷺ کو مدینہ آنے کی درخواست کے ساتھ آیا تھا۔ یہ حج کا موسم تھا اور رات کے وقت آپﷺ اس قافلے سے ملاقات کے لئے گھر سے عقبہ کی گھاٹی کی طرف روانہ ہوئے۔ راستے میں حضرت عباس جو کہ اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے ملے اور وہ بھی آپﷺ کے اس قافلے کے پاس پہنچے اور انصار کے اس قافلے سے ملاقات کی جنہوں نے مدینہ تشریف لانے کی درخواست کی۔ یہ سن کر حضرت عباس نے کہا‘مدینہ والو محمدﷺ اپنے خاندان میں ہے اس کا خاندان اس کی حفاظت کرتا ہے تم اسے اپنے ہاں لے جانا چاہتے ہو۔ یہ یاد رکھو تم کو ان کی حفاظت کرنی پڑے گی۔ یہ کوئی آسان کام نہیں ہے اس کی حفاظت میں تمہیں خون ریز لڑائیوں کے لئے تیار ہونا پڑے گا۔ اگر تیار ہو تو ٹھیک ہے اس کے بعد آپﷺ نے قرآن کی تلاوت کی اور کہا کہ مدینہ جانے کے لئے بہت سی باتیں ہوں گی۔ انصار نے کہا ہم تیار ہیں۔ آپﷺ نے کہا ٹھیک ہے میرا جینا اور مرنا تمہارے ساتھ ہوگا۔ اس موقع پر ایک شخص نے کہا یارسولﷺ اس کے بدلے ہمیں کیا معاوضہ ملے گا؟ آپﷺ نے فرمایا‘ جنت اور اللہ تعالیٰ کی رضامندی۔ تو اس شخص نے دوبارہ کہا ٹھیک ہے ہمیں یہ منظور ہے۔ یہ شخص تاریخ میں حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓکے نام سے مشہور ہیں اس کے بعد سب نے بیعت کی اور یہ بیعت عقبہ ثانی کے نام سے مشہور ہوئی۔ اس کے بعد آپﷺ نے ان لوگوں میں سے 12 افراد کو منتخب کیا اور ان کو تبلیغ اسلام کے لئے اپنا نمائندہ (نقیب) مقرر فرمایا۔ان بارہ افراد میں حضر ت عبد اللہ بن رواحہ ؓ بھی شامل تھے جب یہ بیعت اور مشورہ ہو رہا تھا تو آپﷺ نے فرمایا کہ جس طرح عیسیٰ علیہ السلام کے حواری ذمہ دار تھے اسی طرح میں تم کو تمہاری قوم کی تعلیم کا ذمہ دار بناتا ہوں اور میں تم سب کا ذمہ دار ہوں۔ یہ افراد مکہ سے واپس مدینہ روانہ ہوگئے اور دین اسلام کی تبلیغ مزید تیز کی۔
حضر ت عبد اللہ بن رواحہ ؓنے آپﷺ کے پیغام پر اپنا سب کچھ قربان کر دیا اور موثر طریقے سے دعوت دین جاری رکھی۔ یہاں تک کہ آپﷺ مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ پہنچ گئے اور بنو خزرج کے محلے میں جب آپﷺ کی اونٹنی پہنچی تو حضر ت عبد اللہ بن رواحہ ؓنے روکنا چاہا تاکہ انہیں یہ اعزاز نصیب ہو کہ آپﷺ کا قیام ان کے پاس ہو مگر آپﷺ نے فرمایا اسے چھوڑ دو اسے حکم ملا ہوا ہے۔ اسی طرح حضر ت عبد اللہ بن رواحہ ؓہر موقع پر پیش پیش رہے یہاں تک کہ بدر کی عظیم لڑائی کا موقع آیا اس موقع پر جب عرب کی روایت کے مطابق دوبدو لڑائی میں تین مشرکین مکہ کے سردار سامنے آئے تو ادھر اسلامی لشکر سے تین میں سے ایک حضر ت عبد اللہ بن رواحہ تھے مگر مشرکین مکہ نے کہا کہ ہمارے مقابلے میں انصار نہیں ہمارے ذات برداری کے لوگ سامنے آئیں۔ غرض مقابلوں کے بعد عام لڑائی شروع ہوئی اور اس جنگ میں جسے قرآن نے حق و باطل میں تفریق کرنے والی جنگ کہا۔ حضرت عبد اللہؓ نے انتہائی دلیری اور بہادری سے لڑی اور اس جنگ میں 70 کافر مارے گئے اور اتنے ہی گرفتار ہوگئے۔ حضرت عبد اللہ بن رواحہ ؓ بدری صحابی کہلائے۔حضر ت عبد اللہ بن رواحہ ؓ جس طرح تلوار اور گھوڑے کے شاہ سوار تھے اسی طرح ایک بہت اچھے شاعر بھی تھے۔ وہ بدر کے بعد بھی ہر موقع پر آپﷺ کی خدمت میں حاضر رہے۔ جب آپﷺ عمرہ کرنے مکہ تشریف لے گئے۔ مکہ میں آپﷺ داخل ہو رہے تھے تو اس وقت حضرت عبد اللہ بن رواحہ ؓ نے آپﷺ کی اونٹی کی مہار تھام رکھی تھی اور یہ اشعار پڑھ رہے تھے۔
ترجمہ: اے کفار ان کا راستہ چھوڑ دو میں گواہ ہوں کہ آپﷺ اللہ کے رسولﷺ ہیں۔ تم ان کے راستے سے ہٹ جائو۔8ہجری جمادی الاول میں آپﷺ نے ایک لشکر تیار فرمایا۔ لشکر بھیجنے کی وجہ آپﷺ نے دعوت اسلام دنیا میں پھیلانے کے لئے سلاطین اور امرا کو جو خطوط بھیجے تھے ان میں سے ایک خط حضرت حارث بن عمیر ؓکے ہاتھ حاکم بصری کے نام تھا۔ راستے میں سرحد شام کے قریب قیصر کی طرف سے مقرر حاکم شرجیل بن عمر عنانی نے آپﷺ کے قاصد کو گرفتار کرنے کے بعد قتل کر دیا۔ جس پر آپﷺ کو شدید صدمہ پہنچا اور عنانی سردار کی سرکوبی کے لئے لشکر روانہ فرمایا اس موقع پر آپﷺ نے فرمایا لشکر کا امیر حضرت زید بن حارث ؓ ہوں گے ان کی شہادت کے بعد حضرت جعفر بن طیار امیرؓ ہوں گے اور اگر وہ بھی شہید ہوجائے تو پھر حضر ت عبد اللہ بن رواحہ ؓ امیر لشکر ہوں گے اور اگر وہ بھی شہید ہو جائے تو پھر لشکر والے جسے چاہے امیر بنالیں چنانچہ لشکر تیار ہوا۔
سیرت ابن ہشام میں لکھا ہے کہ مسلمانوں کی تعداد تین ہزار پر مشتمل تھی اور آپﷺ نے لشکر کو رخصت فرمایا جب سب رخصت ہوگئے تو حضر ت عبد اللہ بن رواحہؓ آپﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپﷺ نے انہیں رخصت کیا۔ جب سب رخصت ہونے لگے تو حضر ت عبداللہ بن رواحہ ؓ رونے لگے۔ صحابہ ؓ نے پوچھا اے عبد اللہ کیوں روتے ہو۔ فرمایا میں دنیا یا کسی چیز کی محبت میں نہیں رو رہا بلکہ مجھے آپﷺ سے سنی گئی ایک آیت رولا رہی ہے۔ترجمہ: ’’یعنی تم میں سے کوئی ایسا نہیں جو دوزخ پر وارد نہ ہوگا یہ اللہ کا پکا وعدہ ہے۔‘‘ اس خوف سے رو رہا ہوں کہ کس طرح چھٹکارہ ملے گا۔ مسلمانوں نے تسلی دی ۔ جاتے ہوئے کچھ اشعار پڑھے جو کہ تاریخ کا سنہری حصہ ہے۔ترجمہ: میں اللہ سے مغفرت مانگتا ہوں اور تلوار کا ایسا وسیع (بڑا)گھائو کھانے کی دعا کرتا ہوں جو خون کے جھاگ ڈال رہا ہو یا نیزے کی ایسی ضرب کہ جو انٹریوں اور جگر کے پار ہو جائے تاکہ جب لوگ میری طرف سے گزریں تو کہیں اللہ تعالیٰ اس کو نیکی دے یہ وہی شخص ہے جس نے جہاد کیا اور ہدایت پائی۔
غرض مختصرا یہ کہ لشکر چلتے‘چلتے موتہ کے قریب مقام معان پہنچا جو سرزمین شام کا علاقہ ہے۔ ہر قل بادشاہ نے روم اور شام سے ایک لاکھ فوج رومیوں کی اور1 لاکھ فوج قبائل لخم و جذام اور بہرا وغیرہ سے جمع کی تھی۔ اتنی بڑی فوج اور دوسری طرف صرف تین ہزار صحابہؓ مسلمان اس سوچ میں تھے کہ آپﷺ کو خط لکھ کر آگاہ کیا جائے کہ دشمن اس قدر کثیر تعداد میں ہے کہ آپﷺ ہماری مدد کے لئے لشکر روانہ فرمائیں یا کوئی اور حکم کریں تاکہ اس کے مطابق فیصلہ کیا جائے۔ اس موقع پر حضر ت عبد اللہ بن رواحہ ؓنے ایک زبردست ولولہ انگیز تقریر کی اور فرمایا۔ اے قوم تم شہادت کی تلاش میں آئے ہو پھر تم کو دشمن کی تعداد اور کثرت کا کیا اندیشہ ہے۔ تم لوگ تعداد اور شمار اور کثرت و قلت کے حساب سے جنگ نہیں کرتے تم تو دین حق کی اشاعت کے لئے نکلے ہو۔ جس دین سے اللہ نے تمہیں بزرگی دی ہے اور شہادت تمہارا مقصود ہے۔
بسم اللہ پڑھ کر قدم بڑھا دو نیکیوں میں سے ایک نیکی تمہارے لئے ضرور ہے۔ یااللہ تم کو غالب کر دے گا یا تم شہید ہوگئے۔ تمہارا مقصد ہر حال میں پورا ہوگا۔ یہ خطاب سن کر مسلمانوں کے لشکر کا جذبہ بڑھ گیا اور کہا عبد اللہؓ بے شک تم سچ کہتے ہو۔ زید بن ارقم ؓ کہتے ہیں موتہ کے قریب پہنچنے کے بعد ایک رات میں نے حضرت عبد اللہ بن رواحہ ؓ کو سنا وہ کچھ اشعار جن میں شہادت کا ذکر تھا پڑھ رہے تھے میں رونے لگا تو حضر ت عبد اللہ بن رواحہ ؓ نے غصے سے مجھے کہا تم کیوں روتے ہو اللہ مجھے شہادت نصیب کرے گا۔بالآخر موتہ کے مقام پر تین ہزار مسلمانوں کا لشکر ہرقل کی عظیم الشان فوج سے جاٹکرایا اور ہر طرف لاشیں گرنے لگی۔ حضرت زید بن حارثؓ امیر لشکر بڑی بہادری سے لڑتے ہوئے شہید ہوگئے۔ ان کے بعد حضرت جعفر طیارؓ نے جھنڈا اٹھایا اور آخری شام تک لڑتے ہوئے وہ بھی شہید ہوگئے۔ حضرت جعفرؓ کی شہادت کے بعد حضر ت عبد اللہ بن رواحہ ؓ نے آپﷺ کے حکم کے مطابق اسلامی لشکر کا نشان (جھنڈا)اپنے ہاتھ میں لیا وہ اس وقت گھوڑے پر سوار تھے پھر گھوڑے سے نیچے اترے اس وقت ان کا چچا زاد بھائی نے بھنا ہوا گوشت کا ٹکڑا لیا اور کہا کہ ذرا اپنی کمر کو مضبوط کرو کیونکہ تم بھوکے ہو۔ اسی دوران لشکر کے ایک طرف سے شور کی آواز بلند ہوئی۔ بس گوشت کو پھینک کر لشکر کی طرف بڑھے اور اس قدر لڑے کہ شہید ہوگئے۔ ابن اسحاق ؓ نے لکھا ہے کہ جب یہ تینوں اس جنگ میں شہید ہو رہے تھے تو دوسری طرف آپﷺ نے مدینہ کے اندر بیٹھ کر فرمایا کہ حضرت زید بن حارثؓ نے نشان اپنے ہاتھ میں لیا اور لڑتے شہید ہوگئے۔ پھر جعفر ؓنے لیا وہ بھی لڑ کر شہید ہوگئے یہ کہہ کر آپﷺ خاموش ہوگئے اور انصار سمجھ گئے اور ان کے چہرے متغیر ہوئے کہ ضرور حضر ت عبد اللہ بن رواحہ ؓ بھی شہید ہوگئے ہیں۔ پھر آپﷺ نے فرمایا عبد اللہ بن رواحہ ؓ نے نشان لیا اور وہ بھی لڑے اور شہید ہوگئے۔ پھر مزید فرمایا میں نے ان لوگوں کو خواب میں جنت کے اندر سونے کے تختوں پر بیٹھے ہوئے دیکھا ہے اور میں نے عبد اللہؓ کے تخت میں بمقابلہ حضرت جعفرؓ اور زید ؓکے تخت ایک قسم کی کمی دیکھی میں نے پوچھا کیا وجہ ہے۔ فرمایا ان دونوں نے تردد نہیں کیااور عبد اللہؓ نے تھوڑا سا تردد کیا۔ غرض یہ کہ اللہ کے محبوب نبیﷺ کی جماعت کا یہ بدری صحابی ؓ جمادی الاول 8 ہجری موتہ میں شہید ہوکر جنت کے تخت پر جابیٹھا۔ اللہ ہمیں بھی جنت نصیب کرے ۔ آمین