پاکستان کی تاریخ میں عدلیہ ہمیشہ ایک نہایت اہم اور نازک چیلنجز کے روبرو کھڑی ہوتی رہی ہے۔ یہ ادارہ ریاست کے تین بنیادی ستونوں میں سے ایک ہے، جس کا مقصد آئین کی بالادستی قائم رکھنا، عوام کو بروقت انصاف فراہم کرنا اور قانون کے مطابق معاشرتی نظم قائم کرنا ہے۔ مگر پاکستان کی عدالتی تاریخ محض کامیابیوں سے نہیں بھری، بلکہ اس میں کئی تضادات، دبا اور چیلنجز کی رمز و اشارات موجود ہیں۔ابتدائی ادوار میں عدلیہ پر یہ الزام لگا کہ اس نے آئین شکنی کرنے والے فوجی حکمرانوں کو ’’نظریہ ضرورت‘‘کے تحت جواز فراہم کیا۔ اس روش نے نہ صرف آئین کی روح کو کمزور کیا بلکہ عوام کے عدلیہ پر اعتماد کو بھی متاثر کیا۔ اس کے برعکس کچھ مواقع پر عدلیہ نے آئینی بالادستی کے حق میں ایسے فیصلے بھی دئیے جنہوں نے جمہوریت کی ڈوبتی ہوئی کشتی کو کنارے لگایا اور عوامی حقوق کا تحفظ کیا۔ یہی دوہرا کردار عدلیہ کو پاکستان کی تاریخ میں متنازع اور بیک وقت امید افزا بھی بناتا رہا۔انصاف کی فراہمی کے حوالے سے سب سے بڑا چیلنج ہمیشہ تاخیر رہا ہے۔ لاکھوں مقدمات برسوں تک زیر التوا رہتے ہیں اور عوام کو فوری انصاف میسر نہیں آتا۔ اس تاخیر کی بڑی وجوہات میں وکلاء کی ہڑتالیں، تفتیشی نظام کی خامیاں، گواہوں کا عدم تحفظ کا احساس اور عدالتوں میں افرادی قوت و وسائل کی کمی شامل ہیں۔
آج جب چیف جسٹس یہ کہتے ہیں کہ ’’عدلیہ کو انصاف کی فراہمی میں چیلنجز کا سامنا ہے اور تعلقات کو بہتر بنانا ہوگا‘‘ تو اس کے پس منظر میں ایک پوری تاریخ کھڑی نظر آتی ہے۔ اس جملے کا مطلب یہ ہے کہ عدلیہ اگر واقعی عوام کو انصاف دینا چاہتی ہے تو اسے انتظامیہ، مقننہ اور دیگر ریاستی اداروں کے ساتھ بہتر تعلقات اور ہم آہنگی قائم کرنی ہوگی۔ کیونکہ انصاف صرف عدلیہ کا کام نہیں بلکہ ایک اجتماعی ذمہ داری ہے جس میں پولیس، وکلاء ، قانون ساز ادارے اور انتظامیہ سب کا اپنا اپنا کردار ہوتا ہے ۔یوں پاکستان کی عدلیہ آج ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں اسے اپنی تاریخی کمزوریوں سے سبق سیکھتے ہوئے آئین کی بالادستی اور عوامی انصاف کو مقدم رکھنا ہوگا۔ اداروں کے درمیان باہمی اعتماد، تیز تر عدالتی اصلاحات اور بروقت فیصلے ہی وہ راستے ہیں جو عدلیہ کو عوام کے نزدیک ایک مضبوط اور غیر جانبدار ستون بنا سکتے ہیں۔
آج پاکستان کی آزاد ریاست کے اڑتالیس سال بعد چیف جسٹس آف کو انصاف کی فراہمی میں چیلنجز کا سامنا ہے تو ان کے بیان کے اس حصے کا مطلب یہ ہے کہ عدلیہ پر مقدمات کا بوجھ بہت زیادہ ہے، لاکھوں کیس زیرِ التوا ہیں۔انصاف کے نظام میں تاخیر، عدالتی کارروائی کا پیچیدہ ہونا، اور وسائل کی کمی بڑی رکاوٹ ہیں۔وکلا، پولیس، تفتیشی ادارے، اور دیگر متعلقہ محکمے عدالتی عمل پر براہِ راست اثر ڈالتے ہیں۔ اگر ان کی کارکردگی بہتر نہ ہو تو عدلیہ اکیلے انصاف مہیا نہیں کر سکتی۔ان کے بیان کا اگلا حصہ ہے کہ تعلقات کو بہتر بنانا ہوگااس حصے سے مراد یہ ہے کہ عدلیہ کو حکومت، پارلیمنٹ، وکلا، اور عوام کے ساتھ بہتر ہم آہنگی اور تعاون کی ضرورت ہے۔اکثر اداروں کے درمیان تنا یا عدم اعتماد انصاف کی فراہمی کو متاثر کرتا ہے۔اگر تمام ادارے (عدلیہ، انتظامیہ، مقننہ)ایک دوسرے کے ساتھ مثبت تعلقات قائم کریں تو انصاف تیز، موثر اور عوامی توقعات کے مطابق فراہم ہو سکتا ہے۔یعنی چیف جسٹس کا اصل پیغام یہ ہے کہ عدلیہ کو اکیلے ذمہ دار نہ سمجھا جائے، انصاف کی فراہمی ایک مشترکہ عمل ہے، جس کے لئے سب اداروں کو تعاون اور باہمی اعتماد کے ساتھ مل جل کر کام کرنا چاہیئے۔
بہر حال چیف جسٹس یحی آفریدی نے ’’عدالتی کا نفرنس‘‘میں دل کے جل اٹھنے والے پھپھولوں کے داغ خوب نہاں کئے ،واقعی عدلیہ کے زخموں پر مرہم رکھتے رہے ہیں یا پھر طاقتور وں کی دہلیز پر خیر سگالی کے چراغ جلا رہے ہیں ؟یہ جملے کہیں نظام کے بوسیدہ ڈھانچے کو بدلنے کی للکار ہیں یا پھر محض وہ سرگوشی، جوطاقت کے ایوانوں میں خوش آمدید کہلانے کیلئے کی جاتی ہے؟ یہ فیصلہ وقت کرے گا کہیہ اعراف جرم ہے یا اعلان جنگ…یا پھر محض کسی اور کی پچ پر کھیلا گیا ایک شاٹ!البتہ ’’انصاف کی فراہمی کے عمل میں ٹیکنالوجی کے استعمال‘‘ کا مشورہ بہت عمدہ