جب سے مسلمانوں نے عقل کے ناخن لینا چھوڑے ہیں ،ان کی گردنوں میں پڑے غلامی کے طوق مضبوط سے مضبوط ترہوتے جا رہے ہیں ، امریکہ کے زرخرید میڈیا نے یہ کام اور بھی آسان کر دیا ہے ۔اسی بے وقوفی اور تن آسانی کا شاخسانہ ہے کہحقیقت پسندی سے آنکھیں چراتے ہوئے ایک ایسا معاملہ جو اسرائیل کے لئے روز اول سے خطرے کی تلوار رہا ہے ،اسےکیاسے کیا رنگ دے دیا گیا ہے اور وہ کام جو امریکہ اور اسرائیل کے بس سے باہر تھا وہ عالم اسلام کی پہلی ایٹمی قوت اور دنیا کی چھٹی ایٹمی قوت کے کندھوں پر ڈال دیا گیا ہے۔ اوراس قوت کے جاہل عوام گلی گلی رقص بے ہودگی کرتے پھرتے ہیں ۔انہوں نے یا ان کے ناخواندہ سیاستدانوں کہ جن کی عقل پر پردہ پڑا ہوا ہے چار دانگ شور برپا کردیا ہے،یہی نہیں بلکہ مساجد و مدارسسے بھی ایک عقیدے کے طور پر یہ صدائیں اٹھ رہی ہیں اور سیاسی کارکن اور سرکاری اہلکار تک دھوم مچائے ہوئے ہیں کہ “پاکستان سعودی سلطنت کاآخری محافظ ہے اور مکہ و مدینہ کے دفاع کی ذمہ داریاسے سونپ دی گئی ہے ” اور اسرائیل کو کچل ڈالنے کے نعرےہر طرف گونج رہے ہیں ۔ لیکن خواب و خیال میں کھو جانے سے پہلے ہمیں کچھ کڑوی مگر ٹھوس اسٹریٹجک حقیقتوں کا سامنا کرنا ہوگا۔ آئیے انہیں ایک ایک کر کے دیکھتے ہیں۔1. سعودی عرب کا فوجی ڈھانچہ مکمل طور پر امریکا پر انحصار کرتا ہےسعودی عرب کا پورا دفاعی نظام — فضائیہ کے F-15 اور F-16 طیاروں سے لے کر پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام، بحری جہاز اور ٹینک تک سب امریکا سے خریدے، فراہم کیے اور اسی کے ذریعے برقرار رکھے جاتے ہیں۔ یہ امریکی کنٹرول شدہ GPS اور سیٹلائٹ نیٹ ورکس پر چلتے ہیں ۔ان میں ایسے سافٹ ویئر نصب ہیں جو انہیں امریکا، نیٹو یا اسرائیلی اثاثوں کو نشانہ بنانے سے روکتے ہیںان کے لیے مستقل امریکی ٹیکنیکل مدد اور پرزہ جات ضروری ہیں ۔یوں اربوں ڈالر مالیت کا یہ پورا عسکری سازوسامان کسی بھی ایسے تصادم میں ناکارہ یا غیر مؤثر بنایا جا سکتا ہے جس میں مغربی طاقتیں یا ان کے اتحادی شامل ہوں۔2. سعودی عرب میں تعینات پاکستانی فوجیوں کو بھی یہی رکاوٹیں پیش آئیں گی۔اگر پاکستان اپنی فوجی نفری سعودی عرب بھیجتا ہے، تو وہ بھی اسی فوجی ڈھانچے میں کام کریں گے جس پر ان کا کوئی ٹیکنالوجیکل یا اسٹریٹجک اختیار نہیں ہوگا۔ اگر کبھی اسرائیل یا نیٹو اتحادیوں کی طرف سے کوئی حقیقی خطرہ سامنے آیا ، تو یہ سسٹم بند ہو سکتے ہیں، غیر مؤثر بنائے جا سکتے ہیں یا مطلوبہ ہدف پر کاری وار کرنے میں ناکام رہ سکتے ہیں — اور یہ سب کسی تکنیکی خرابی کی وجہ سے نہیں بلکہ ڈیزائن کے تحت ہوگا۔یوں یہ تصور کہ پاکستان سعودی عرب کو بڑی طاقتوں کے خلاف “دفاع” دے سکے گا، محض ایک خوش فہمی ہے۔3. ترکی اور مصر پہلے ہی یہ سبق سیکھ چکے ہیںترکی اور مصر دونوں نے اپنی خودمختاری پر مغربی اسلحے کے انحصار کے اثرات براہِ راست دیکھے ہیں۔ترکی کو روسی S-400 نظام خریدنے پر F-35 پروگرام سے نکال دیا گیا۔مصر کو کئی جنگوں کے دوران پرزہ جات کی پابندیوں اور اسلحے کے محدود استعمال جیسی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔اب دونوں ممالک اپنی حکمتِ عملی پر نظرثانی کر رہے ہیں ، لیکن وہ اب بھی مغربی فوجی صنعتی نظام میں جکڑے ہوئے ہیں۔4. ایران نے زیادہ عقلمندانہ اور خود مختار اسٹریجک راستہ اپنایا ۔ایران نے دوسروں کے برعکس امریکا اور مغربی نظام پر انحصار کم کرنے کی عملی کوشش کی۔چینی BeiDou نیویگیشن سسٹم پر منتقل ہوامقامی میزائل اور ڈرون ٹیکنالوجی تیار کی ،چینی اور روسی فضائی دفاعی نظام اپنا لیے ،یوں چینی سیٹلائٹ کوریج اور روسی ریڈار سسٹمز کے ساتھ ایران نے ایک ایسا دفاعی ڈھانچہ تشکیل دیا جو مغرب کے “سوئچ” سے غیر فعال نہیں ہو سکتا۔ یہی حقیقی خودمختاری ہے — مشکل، طویل المدتی، مگر بالآخر مضبوط۔5. خلیجی ریاستوں کو آزادی کے لیے بڑے پیمانے پر تبدیلی درکار ہےاگر سعودی عرب، مصر، ترکی یا دیگر خلیجی ممالک مغربی انحصار سے نکلنا چاہتے ہیں، تو انہیں لازمی طور پرپورے فوجی ڈھانچے کو از سر نو ترتیب دینا ہوگا۔روس اور چین سے نئے نظام حاصل کرنے ہوں گے۔تمام افواج کو دوبارہ تربیت دینا ہوگا۔نئی لاجسٹکس اور مرمتی ڈھانچہ تشکیل دینا ہوگا۔یہ نہ تیز ہے، نہ آسان ، بلکہ سیاسی اور مالی لحاظ سے بھاری بوجھ ہے۔6. کیا مغرب اپنے اتحادیوں کو مشرق کی طرف جھکنے دے گا؟حقیقت پسندانہ نظر سے دیکھیں تو امریکا اور نیٹو کے پاس خطے میں گہرا فوجی، مالی اور سیاسی اثرورسوخ ہے۔قطر، بحرین، یو اے ای اور سعودی عرب میں فوجی اڈےعالمی مالیاتی اداروں (آئی ایم ایف، سوئفٹ، ایف اے ٹی ایف) پر کنٹرولاسلحے کے معاہدوں، سلامتی کی ضمانتوں اور سفارتی پشت پناہی کے ذریعے دباؤ،اس لیے اگر کوئی ملک مغرب سے ہٹ کر مشرق کی طرف جھکنے کی کوشش کرے گا تو اسے پابندیوں، معاشی دباؤ اور اندرونی عدم استحکام جیسے سنگین نتائج بھگتنے پڑیں گے۔7. پاکستان کی اپنی اسٹریٹجک محدودیتیں پاندیاں بھی ہیں جن میں وہ جکڑا ہوا ہے ،مغربی مالیاتی اداروں اور جغرافیائی سیاسی حمایت پر انحصارمغربی تربیت یافتہ فوجی قیادت اور نظریات سے وابستگیامریکی، چینی اور پرانے مقامی سازوسامان کا غیر متوازن امتزاج ، جن پر مکمل خودمختاری حاصل نہیں ،لہٰذا سعودی عرب کا “نجات دہندہ” بننے کا دعویٰ نہ صرف قبل از وقت ہے بلکہ اسٹریٹجک اعتبار سے بھی کمزور ہے۔ہمیں اسٹریٹجک ہوش مندی کی ضرورت ہے ۔جذباتی نعروں کے بجائے پاکستان اور وسیع تر مسلم دنیا کو زیادہ حقیقت پسندانہ اور دور اندیش رویہ اپنانا چاہیے۔مقامی دفاعی صنعتوں میں سرمایہ کاری کی ضرورت ہے ،کسی ایک طاقت پر انحصار کم کرنے کی روش پر چلنا ہے۔علامتی معاہدوں کے بجائے حقیقی اسٹریٹجک خودمختاری حاصل کرنی ہے۔جب تک فوجی آزادی حاصل نہیں ہوتی، کوئی بھی دفاعی معاہدہ ، خواہ کاغذی سطح پر کتنا ہی پرکشش کیوں نہ ہو ، حقیقی حیثیت نہیں رکھتا۔ خوش فہمیوں کا جشن منانے کے بجائے حقیقت کا سامنا کریں۔یہی مسلم ممالک کے میڈیا کا اس وقت سب سے بڑا فریضہ ہے۔