آپریشن سندور کی ناکامی نے مودی کو ذلت کے اس مقام تک پہنچادیا ہے کہ جہاں سے واپسی شائد ممکن نہیں رہی ،لیکن ازلوں کے بگڑے کبھی سبق نہیں سیکھتے بلکہ جب تک دھرتی ان کے ناپاک وجو دکے بوجھ سے سبکدوش نہیں ہوجاتی وہ بد امنی اور سازشوں سے باز نہیں آتے ، یہی وجہ ہے کہ مودی اس موقع پر ایک بار پھر اپنی ابلیسی کابینہ کے ہمراہ پاکستان دشمنی کا آزمودہ سیاسی حربہ استعمال کرنے کی کوشش میں ہے ، چونکہ رسوائی کا عمل مسلسل جاری ہے اور سوشل میڈیا نے بھارتیوں کو سچ دکھا دکھا کر مودی کا مستقبل تاریک کردیا ہے ، لہٰذا اب دکھائی دیتا ہے کہ وہ بھی صرف پروپیگنڈے تک محدود نہیں رہے گا ، نئی سازشوں کاتماشہ لگانے کی کوشش کرے گا ، جس کا راز بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ کی ہفوات سے بخوبی فاش ہوجاتا ہے ۔ راج ناتھ ان دنوں مراکش کے دورے پر ہے ، جہاں رباط میں بھارتی شہریوں کے اجتماع میں تقریر کرتے ہوئے ، اس نے جو کہا اسے نظر انداز کرنا بہت بڑی غلطی ہوگی ۔ اس نے کہا پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر (آزاد کشمیر) میں حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ وہاں کے لوگ خود بھارت کے حق میں نعرے لگا رہے ہیں اور ایک دن یہ خطہ خود ہی اعلان کرے گا کہ میں بھی بھارت ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مقصد کے لیے کسی فوجی کارروائی یا جنگ کی ضرورت نہیں پڑے گی بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت خود ابھر کر سامنے آئے گی۔اس نے یاد دلایا کہ 3سال قبل بھی وہ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں ایک تقریب کے دوران یہی بات کہہ چکا ہے کہ پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر ایک دن خود کو بھارت کا حصہ کہے گا، اور آج کے حالات اس بات کی تائید کرتے ہیں۔ اس کا موقف تھا کہ بھارت کے اندرونی حالات، دفاعی طاقت اور سفارتی پوزیشن اس قدر مضبوط ہو چکی ہے کہ پاکستان کے زیر قبضہ علاقے کسی جنگ کے بغیر ہی بھارت کے ساتھ جڑنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ اسی تناظر میں گزشتہ ہفتے سامنے آنے والی ایک خفیہ رپورٹ میں بھی یہ انکشاف کیا جا چکا ہے کہ مودی سرکار آزاد جموں و کشمیر میں بدامنی پھیلانے اور تخریبی سرگرمیوں کو ہوا دینے کے لیے سرگرم ہے۔ اس کا مقصد مقبوضہ کشمیر میں اپنے مظالم پر پردہ ڈال کر آزاد کشمیر کو عالمی تنازع کا محور بنانا ہے۔ بھارتی سائفر اور راج ناتھ کی گفتگو کو سامنے رکھتے ہوئے ، آزادکشمیر میں ہونیو الی چہ میگوئیاں،ا علانات اور شر انگیز سرگرمیوں کی کوشش کو سمجھنا کشمیریوں کے لئے قطعی مشکل نہیں رہتا ۔ سوال یہ ہے کہ ایسی کونسی افتاد آن پڑی کہ لوگوں کو گمراہ کرکے سڑکوں پر لایا جائے ، جبکہ اس میں کوئی دوسری رائے ہے ہی نہیں کہ آزاد کشمیر کے شہری پاکستان کے لاڈلے ترین شہری ہیں ، جنھیں پاکستان کی طرف سے بجٹ میں 70 فیصد سبسڈی ملتی ہے، جبکہ پاکستان کے کسی صوبے کو اس کا عشر عشیر بھی حاصل نہیں ، پورے ملک میں بجلی کے بلوںنے قہر مچا رکھا ہے ، کم ازکم فی یونٹ ریٹ بھی 42 روپے ہے ، لیکن کشمیر میں بجلی 3 روپے یونٹ ملتی ہے،اس صورتحال میں نام نہاد حقوق کے نام پر لوگوں کو انتشار کے لیے سڑکوں پر نکالنے کی تگ و دو کرنے والوں کے عزائم کا اندازہ لگانا قطعاً مشکل نہیں ہے ۔ کشمیر کے شہری لائن آف کنٹرول کے اس پار ہوں یا اس پار وہ کسی بھی دوسرے پاکستانی کے مقابلے میںزیادہ شدت کے ساتھ پاکستان کے وفادار ہیں ، جو قوم اپنے شہدا کے جنازے پاکستان کے پرچم میں لپیٹ کر دفن کرتی ہو ، جو برستی گولیوں میں بھارت کی سفاک افواج کی آنکھوں میں ڈال کر پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگانے کا حوصلہ رکھتے ہیں ، ان کی محبت سے مقابلہ تو کیا موازنے کی سوچ بھی احمقانہ ہے ۔ کشمیری وہ ہیں جو میدان کارزار میں پون صدی سے پاکستان کا پرچم اوڑھے دشمن کے سینے پر مونگ دل رہے ہیں ، اب چند ایسے شر پسند جنہیں کبھی گرم ہوا نے بھی نہیں چھوا ، پاکستان کی تمام تر سہولیات سے مستفید ہوتے ہوئے بھی دانستہ یا نا دانستہ کسی کے آلہ کار بن رہے ہیں تو یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ انہیں ناکام بنانے کے لئے کشمیر کے باشعور عوام ہی کافی ہیں ، جو شیر دلیر بھارتی فوجی کی گولی کے سامنے بھی پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگانے کی جرات رکھتے ہیں ،کسی بھارتی فوجی کو بھی یہ اجازت نہیں دیتے کہ وہ پاکستان کے پرچم کی توہین کرے وہ سازشیوں کے ہتھے نہیں چڑھ سکتے ، یقینا مودی اور اس کے چیلوں نے غلط محاذ چنا ہے ، انہیں یہاں شکست فاش ملے گی ، انشا اللہ ۔
خود ایکشن کمیٹی کی قیادت سے بھی یہ توقع ہر گز نہیں کی جا سکتی کہ وہ ایسا راستہ اختیارکریں گے کہ جس سے کشمیریوں کی پون صدی کی قربانیاں گہنا جائیں ، اور عالمی منظرنامے پر مقبوضہ کشمیر کا مقدمہ پس منظر میں چلا جائے ، اس میں کوئی شبہ نہیں کہ خطہ آزا دکے سیاستدان عوامی توقعات پر پورا اترنے میں ناکام رہے ہیں ، لیکن قیادت وہ ہوتی ہے جو دور تک دیکھنے کی صلاحیت رکھتی ہو اور یہ فیصلہ کر سکے کہ ان کے الفاظ اور اعمال کسی بڑے مقصد کو نقصان تو نہیں پہنچا رہے۔ کوئی غلط فہمی نہیں ہے ، کہ خطہ آزاد کے لوگ باشعور ہی نہیں ہوشیار بھی ہیں ، وہ کسی ایسی سازش کا شکار نہیں ہو سکتے کہ جس سے ان کا اپنا مقدمہ کمزور ہو اور بھارتی عزائم کو تقویت ملے، اور وہ مقبوضہ کشمیر میں جاری قتل عام کو عالمی برادری کی نظروں سے چھپانے میں کامیاب ہو سکے۔ مقبوضہ خطے میں بھارت کی وحشیانہ کارروائیاں اس بات کی گواہ ہیں کہ وہ عالمی اصولوں کی کوئی پروا نہیں کرتا۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کا حق ہے، لیکن بھارت نے اس حق کو پامال کرتے ہوئے وادی کو جیل خانے میں تبدیل کر دیا ہے۔ 2019 ء میں آرٹیکل 370 کی منسوخی سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کی گئی، جو نہ صرف بھارتی آئین بلکہ عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔آپریشن بنیان مرصوص کے بعد سے کشمیر اس وقت عالمی ایجنڈے پر سر فہرست آچکا ہے ، بھارت کی اسے دبانے کی تمام سازشیں ناکام ہو چکی ہیں ، اب اس کے پاس ایک ہی شرارت باقی بچی ہے کہ آزاد کشمیر میں سازشی ماحول پیدا کرکے اپنی افواج کے ہاتھوں کشمیریوں کی نسل کشی سے توجہ ہٹادے ، لیکن جس طرح سے پاکستانی افواج نے اسے میدان جنگ میں شکست دی ، اسی طرح اب وہ کشمیریوں کے ہاتھوں شکست کھائے گا ، کوئی کشمیری کنٹرول لائن کے پار بھارتی افواج کے ہاتھوں گرتی لاشوں ، پامال ہوتی عزتوں کو کس طرح نظر انداز کر سکتا ہے ؟